حضرت فاطمہ سلاماللہعلیہا کی مظلومیت:
۱۔ اصحاب رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ سے نصرت طلب کرنا
سلمان فارسی نقل کرتے ہیں کہ امیرالمومنین حضرت علی علیہالسلام، حضرت فاطمہ زہرا سلاماللہعلیہا کو اپنے ساتھ لے کر رات کے وقت انصار کے گھروں اور اصحاب بدر کے پاس تشریف لے جاتے اور ان سے نصرت و مدد طلب فرماتے تھے۔
کتاب سلیم بن قیس ہلالی، ص ۱۴۶-۱۴۸
۲۔ خانۂ وحی پر متعدد مرتبہ حملہ
پہلا ہجوم: قنفذ خلیفہ کی جانب سے امیرالمومنین علیہالسلام کے پاس آیا اور آپ کو بیعت کے لیے چلنے کا مطالبہ کیا۔
امیرالمومنین علیہالسلام نے فرمایا:
«تم نے رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ پر کتنی جلدی جھوٹ باندھ دیا اور ایسی خلافت کا دعویٰ کر لیا جو تمہارا حق نہیں!»
کتاب سلیم بن قیس ہلالی، ص ۱۴۸-۱۴۹
دوسرا ہجوم: مخالفین نے خانۂ وحی کے دروازے کو آگ لگائی اور حضرت صدیقۂ طاہرہ سلاماللہعلیہا کی بارگاہ میں گستاخی کی۔ تاہم امیرالمومنین علیہالسلام کی مزاحمت کا سامنا ہوا اور وہ آپ کو اپنے ساتھ لے جانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔
کتاب سلیم بن قیس ہلالی، ص ۱۴۹-۱۵۰
تیسرا ہجوم: جب انہیں حضرت فاطمہ زہرا سلاماللہعلیہا اور امیرالمومنین علیہالسلام کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا تو انہوں نے دوبارہ حضرت زہرا سلاماللہعلیہا کی حرمت کو پامال کیا اور امیرالمومنین علیہالسلام کو زبردستی مسجد کی جانب لے گئے۔ اسی حملے کے دوران حضرت محسن علیہالسلام کی شہادت واقع ہوئی۔
کتاب سلیم بن قیس ہلالی، ص ۱۵۰-۱۵۱
۳۔ امیرالمومنین علیہالسلام کے قتل کی سازش
جب مخالفین یہ دیکھنے میں ناکام رہے کہ امیرالمومنین علیہالسلام سے بیعت لی جا سکے، تو انہوں نے آپ کو قتل کرنے کی سازش تیار کی۔ خلیفہ نے اس مہم کی ذمہ داری خالد بن ولید کے سپرد کی۔
الأنساب، سمعانی، ج ۳، ص ۹۵
۴۔ غصب فدک
جب انہیں اندازہ ہوا کہ امیرالمومنین علیہالسلام کو قتل کرنا مصلحت حکومت کے مطابق نہیں، تو انہوں نے اقتصادی دباؤ کا راستہ اختیار کیا اور فدک کو غصب کر لیا؛ وہ فدک جسے رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ نے حکم الٰہی کے تحت حضرت فاطمہ زہرا سلاماللہعلیہا کو عطا فرمایا تھا اور جس کے باغات میں آپ کے مقرر کردہ کارکن عرصۂ دراز سے خدمات انجام دے رہے تھے۔
الاحتجاج، طبرسی، ج ۱، ص ۱۱۹
۵۔ امّ ابیھا سلام اللہ علیہا کی شہادت کا سبب
شیعہ اور اہل سنت کے روایت کے منابع کا جائزہ لینے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ حضرت فاطمہ زہرا سلاماللہعلیہا کی شہادت کے اسباب میں آپ پر ہونے والے مظالم، اذیت و آزار اور حمل کے ساقط ہونے کا واقعہ شامل ہے۔
الاختصاص، شیخ مفید، ص ۱۸۳-۱۸۵