رسولِ اکرم (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) نے اپنے تاریخی "خطبۂ غدیر” کے آخری حصے میں سورۂ انعام کی آیت نمبر ۱۵۳ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تمام حاضرین اور امت کو سخت تاکید و خبردار فرمایا تھا کہ وہ حضرت امیرالمؤمنین (علیہالسلام) کے بتائے ہوئے راستے سے دور نہ ہوں۔
سورۂ انعام کی آیت نمبر ۱۵۳
«وَأَنَّ هَٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيماً فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ»
"اور (خدا فرماتا ہے کہ) یقیناً یہی میرا صراطِ مستقیم (سیدھا راستہ) ہے، پس تم اسی کی پیروی کرو اور (دوسرے) راستوں پر نہ چلو کہ وہ تمہیں اللہ کی راہ سے جدا کر کے پراگندہ کر دیں گے۔ یہی وہ بات ہے جس کی اللہ نے تمہیں تاکید فرمائی ہے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔”
حضرت امام علی نقیالہادی (علیہالسلام) کی روایت کے مطابق "زیارتِ غدیریہ” میں یہ آیتِ کریمہ حضرت امیرالمؤمنین (علیہالسلام) کے بلند و بالا مقام و مرتبہ کی یاد دہانی کراتی ہے۔
زیارتِ غدیریہ کے ایک فراز (حصے) میں آیا ہے:
"میں گواہی دیتا ہوں کہ خدائے عزیز و رحیم کے اس فرمان میں مقصود و مراد آپ ہی کی ذاتِ گرامی ہے: ‘اور یقیناً یہی میرا صراطِ مستقیم ہے، پس تم اسی کی پیروی کرو اور (دوسرے) راستوں پر نہ چلو کہ وہ تمہیں اللہ کی راہ سے جدا کر کے پراگندہ کر دیں گے۔’ (انعام/۱۵۳)”
سورۂ انعام کی آیت نمبر ۱۵۳ قرآنِ مجید کی ان "آیاتِ علوی” میں سے ایک ہے جو اللہ کے قائم کردہ سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ روزِ غدیر پیغمبرِ اکرم (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) نے حضرت امیرالمؤمنین (علیہالسلام) کو اپنا جانشین (و خلیفہ) منسوب فرما کر امت کے سامنے پیش کیا تھا، اور یہ الٰہی پیغام درحقیقت اسی صراطِ مستقیمِ خداوندی کی طرف ہدایت کے تسلسل میں ہے۔
حضرت امام علی نقیالہادی (علیہالسلام) نے عیدِ غدیر کے دن اسی آیتِ مبارکہ کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے ان نورانی کلمات کے ساتھ مولائے متقیان کی زیارت فرمائی:
"اے امیرالمؤمنین (علیہالسلام)! میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ (کی ولایت و امامت) میں شک کرنے والا دراصل رسولِ امین (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) پر ایمان ہی نہیں لایا۔ اور جو شخص دوسروں کو آپ کے برابر و ہم پلہ قرار دیتا ہے، وہ اس مستحکم و استوار دین سے منحرف ہو چکا ہے جسے پروردگارِ عالم نے اپنے بندوں کے لیے پسند فرمایا اور غدیر کے دن آپ کی ولایت کے ذریعے اسے درجۂ کمال تک پہنچایا۔”
"اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ہی اس دین اور خدائے عزیز و رحیم کے کلام (فرمان) کا حقیقی مقصود و محور ہیں؛ اور (لوگو جان لو کہ) یہی میرا سیدھا راستہ ہے، پس اسی کی پیروی کرو اور دیگر راستوں کے پیچھے نہ چلو جو تمہیں اس کے راستے سے بھٹکا اور پراگندہ کر دیں۔ خدا کی قسم! وہ شخص خود بھی گمراہ ہوا اور اس نے دوسروں کو بھی گمراہ کیا جس نے آپ کے علاوہ کسی اور کی پیروی کی؛ اور وہ حق سے مکمل منحرف ہو گیا جس نے آپ سے دشمنی و عناد رکھا۔ بارِ الٰہا! ہم نے تیرے حکم کو سنا، اس کی اطاعت کی اور تیرے صراطِ مستقیم کی پیروی اختیار کی۔”
مآخذ
تفسیر اهلبیت (علیهمالسلام) ج۴، ص۶۴۲ بحار الانوار، ج۹۷، ص۳۶۱