سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

امیرالمؤمنین (علیہ‌السلام)؛ مجاہد فی سبیل اللہ

سورۂ نساء کی آیت نمبر ۹۵، جس کا تذکرہ "زیارتِ غدیریہ" میں بھی آیا ہے، راہِ خدا میں جہاد کرنے والوں (مجاہدین) کی دوسروں پر برتری اور فضیلت کی طرف اشارہ کرتی ہے اور یہ "آیتِ مجاہدین" کے نام سے معروف ہے۔ بعض تفاسیر میں اس آیتِ کریمہ کو امیر‌المؤمنین (علیہ‌السلام) کے فضائل و مناقب کی ایک روشن دلیل اور اشارے کے طور پر یاد کیا گیا ہے۔

یہ آیتِ مبارکہ حضرت امیر‌المؤمنین (علیہ‌السلام) کی فضیلت میں نازل ہوئی ہے، کیونکہ آپ نے اسلام کی خاطر اور جہاد کی راہ میں ہمیشہ اپنی جان اور مال کی قربانی دی اور وہ راہِ خدا میں ایک کامل مجاہد کا سب سے اعلیٰ نمونہ تھے۔

سورۂ نساء کی آیت نمبر ۹۵

«لَا يَسْتَوِي الْقَاعِدُونَ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ غَيْرُ أُولِي الضَّرَرِ وَالْمُجَاهِدُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ‌ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ فَضَّلَ اللهُ‌ الْمُجَاهِدِينَ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ عَلَى الْقَاعِدِينَ دَرَجَةً وَكُلّاً وَعَدَ اللهُ‌ الْحُسْنَى وَفَضَّلَ اللهُ‌ الْمُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ أَجْراً عَظِيماً»

"مومنوں میں سے وہ لوگ جو (کسی عذر اور) بیماری کے بغیر (گھروں میں) بیٹھ رہنے والے ہیں اور وہ مجاہدین جو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کرنے والے ہیں، (مرتبے میں) برابر نہیں ہو سکتے۔ اللہ نے اپنے مالوں اور اپنی جانوں سے جہاد کرنے والوں کو بیٹھ رہنے والوں پر درجے میں فضیلت دی ہے، اور اللہ نے (ان میں سے) ہر ایک سے بھلائی (جنت) کا وعدہ فرمایا ہے، اور اللہ نے مجاہدین کو بیٹھ رہنے والوں پر بہت بڑے اجر کی فضیلت عطا کی ہے۔”

حضرت امام علی نقی‌الہادی (علیہ‌السلام) نے عیدِ غدیر کے دن "زیارتِ غدیریہ” کے ذریعے اپنے جدِ امجد حضرت امیر‌المؤمنین (علیہالسلام) کی زیارت فرمائی۔

زیارتِ غدیریہ کے ایک فراز (حصے) میں آیا ہے:

"آپ وہ ہستی ہیں کہ قرآن آپ کی برتری اور فضیلت پر گویا (ناطق) ہے، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے: ‘اور اللہ نے مجاہدین کو (بغیر کسی عذر کے) بیٹھ رہنے والوں پر بہت بڑے اجر کی فضیلت عطا کی ہے؛ [وہ اجرِ عظیم] اللہ کی طرف سے درجات، (خصوصی) مغفرت اور (خاص) رحمت کی صورت میں ہے؛ اور اللہ ہمیشہ بڑا بخشنے والا، نہایت رحم فرمانے والا ہے۔’ (نساء/۹۵)”

سورۂ نساء کی آیت نمبر ۹۵، راہِ خدا میں جہاد کرنے والوں اور جہاد نہ کرنے والوں کے درجات کے فرق کو واضح کرتی ہے اور مجاہدین کی فضیلت کو بیان کرتی ہے۔ یہ آیت قرآنِ کریم کی ان آیاتِ علوی میں سے ایک ہے جو امیر‌المؤمنین (علیہ‌السلام) کے فضائل کی طرف اشارہ کرتی ہے؛ کیونکہ آپ (علیہ‌السلام) تاریخِ اسلام میں سب سے نمایاں اور بے مثل مجاہد کے طور پر پہچانے جاتے ہیں۔

حضرت امام حسن عسکری (علیہ‌السلام) نے اپنے والدِ گرامی امام علی نقی‌الہادی (علیہ‌السلام) سے نقل کرتے ہوئے ایک روایت میں اس آیت اور امیر‌المؤمنین (علیہالسلام) کے جہاد و مجاہدت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

"جب تم امیر‌المؤمنین (علیہ‌السلام) کی زیارت کا ارادہ کرو، تو اس روضۂ مبارک کے آستانے پر کھڑے ہو جاؤ اور کہو: ۔۔۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ہی سچے اور حقیقی امیر‌المؤمنین (علیہ‌السلام) ہیں، جن کی ولایت کے بارے میں اللہ کی نازل کردہ آیات گواہی دیتی ہیں۔ آپ اللہ کے ولی، اس کے رسول کے بھائی اور دینِ خدا کے ناصر و مددگار ہیں۔ آپ وہی ہیں جس کی برتری پر قرآن گواہی دیتا ہے اور خدا نے فرمایا ہے: ‘فَضَّلَ اللهُ المُجَاهِدِينَ عَلَى الْقَاعِدِينَ أَجْراً عَظِيماً دَرَجَاتٍ مِنْهُ وَمَغْفِرَةً وَرَحْمَةً وَكَانَ اللهُ غَفُوراً رَحِيماً’۔

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے