سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

ولایت؛ ہدایت کا راستہ

سورۂ طہ کی آیت نمبر ۸۲، جس کی طرف "زیارتِ غدیریہ" کے ایک فراز (حصے) میں اشارہ کیا گیا ہے، اگرچہ اس میں براہِ راست حضرت امیر‌المؤمنین (علیہ‌السلام) کی ولایت کا نام ذکر نہیں ہوا، تاہم کثیر مفسرینِ کرام لفظ "ثُمَّ اهْتَدَىٰ" (پھر اس نے ہدایت پائی) کے مفہوم کو امیر‌المؤمنین (علیہ‌السلام) اور اہلِ بیتِ اطہار کی ولایت و امامت کو قبول کرنے سے مربوط اور مشروط جانتے ہیں۔

روایات کے مطابق، حضرت امیر‌المؤمنین (علیہ‌السلام) اور اہلِ بیتِ اطہار کی ولایت کی معرفت (پہچان) کے بغیر ہدایتِ کامل ممکن ہی نہیں ہے، اور بارگاہِ الٰہی کی طرف جانے والا ہدایت کا راستہ ائمہ معصومین (علیہم‌السلام) سے تمسک اختیار کرنے ہی سے روشن ہوتا ہے۔

سورۂ طہ کی آیت نمبر ۸۲

«وَإِنِّي لَغَفَّارٌ لِمَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحاً ثُمَّ اهْتَدَىٰ»

"اور بے شک میں بہت بخشنے والا ہوں اس کو جس نے توبہ کی، اور ایمان لایا، اور نیک عمل کیے، پھر ہدایت پا گیا۔”

حضرت امام علی نقی‌الہادی (علیہ‌السلام) کی روایت کے مطابق "زیارتِ غدیریہ” میں یہ آیتِ کریمہ حضرت امیر‌المؤمنین (علیہالسلام) کے بلند و بالا مقام و مرتبہ کی یاد دہانی کراتی ہے۔

زیارتِ غدیریہ کے ایک فراز (حصے) میں آیا ہے:

"گمراہ ہو گیا وہ شخص جس نے لوگوں کو آپ (کی ولایت) سے روکا، اور وہ نہ تو خدا کی طرف راستہ پا سکا اور نہ ہی میری طرف؛ اور یہی میرے پروردگار عزوجل کا فرمان ہے: ‘یقیناً میں بہت بخشنے والا ہوں اس کو جس نے توبہ کیا، ایمان لایا اور نیک عمل انجام دیا، پھر آپ کی ولایت کی طرف ہدایت پا گیا۔’ (طہ/۸۲)”

سورۂ طہ کی آیت نمبر ۸۲، جو کہ قرآن کریم کی آیاتِ علوی میں سے ایک ہے، تفسیرِ قرآن اور اسلام کے اخلاقی اصولوں میں مولائے متقیان کے مقتدا اور محور ہونے پر تاکید کرتی ہے۔ نیز یہ آیت امیر‌المؤمنین (علیہ‌السلام) کے فرامین کے ساتھ ایک گہرا اور مضبوط ربط رکھتی ہے، جہاں آپ (علیہ‌السلام) نے بارہا خداوندِ متعال کی وسیع رحمت، توبے کی اہمیت، پروردگار کی طرف بازگشت اور مغفرت و رضائے الٰہی کے حصول کے راستے کے طور پر عملِ صالح پر مکرر تاکید فرمائی ہے۔

حضرت امام حسن عسکری (علیہ‌السلام) نے اپنے والدِ گرامی امام علی نقیالہادی (علیہ‌السلام) سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے عیدِ غدیر کے دن حضرت امیر‌المؤمنین (علیہالسلام) کی زیارت کے دوران، ان کلمات کے ساتھ اس آیتِ کریمہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:

"میں حق کے ساتھ گواہی دیتا ہوں اور سچائی و راستی کے ساتھ خدا کی قسم کھاتا ہوں کہ محمد (صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌وسلم)  اور ان کی آل تمام مخلوقات کے سردار ہیں، اور آپ میرے اور تمام مؤمنین کے مولا ہیں۔ اور (میں گواہی دیتا ہوں) کہ آپ اللہ کے بندے، اس کے ولی، رسولِ خدا کے بھائی، ان کے وصی اور ان کے وارث ہیں؛ اور رسول اللہ نے آپ سے فرمایا تھا: ‘اس ذات کی قسم جس نے مجھے حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! جس نے آپ کا کفر کیا، وہ مجھ پر ایمان نہیں لایا، اور جس نے آپ کا انکار کیا، اس نے خدائے متعال کا اقرار ہی نہیں کیا۔'”

"جس نے آپ کا راستہ روکا اور آپ کے آڑے آیا، وہ گمراہ ہو گیا اور وہ خدائے متعال اور میری طرف ہدایت کا کوئی راستہ نہ پا سکا۔ اور یہی قرآنِ کریم کی اس آیت کا مفہوم ہے جس میں خدائے عزوجل نے ارشاد فرمایا: ‘وَإِنِّي لَغَفَّارٌ لِمَنْ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحاً ثُمَّ اهْتَدَىٰ’ یعنی وہ آپ کی ولایت کی طرف ہدایت پا جائے۔”

مآخذ
تفسیر اهل‌بیت (علیهم‌السلام) ج۹، ص۲۵۴ بحار الانوار، ج۹۷، ص۳۶۱

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے