تعمیر حرم مقدس میں عقیدتی علامات اور رمز نگاری
- نادر شاہ کی جانب سے تذہیب کے اسباب سے قطعِ نظر، اس اقدام کے گہرے رمزی اور علامتی مفاہیم بالکل واضح ہیں۔
- سونا دنیا کی عظیم ترین مادی کشش میں شمار ہوتا ہے۔ بادشاہ کے دنیا سے کنارہ کش ہونے کے بعد یہی سونا امیرالمومنین علیہالسلام کے مرقد مقدس کے سامنے تسلیم ہوگیا۔
- یہ عمل ترک دنیا اور معنوی و روحانی امور کی جانب میلان کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اسی حقیقت پر متعدد خطبات اور احادیثِ مبارکہ میں بھی خصوصی زور دیا گیا ہے۔
- یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ طلا کاری کے اس عمل میں متعدد حیرت انگیز تزئینات اور سونے کے پترے شامل تھے۔ ان پٹروں پر قرآنی آیات، احادیث نبوی اور عربی، فارسی و ترکی زبانوں کے اشعار کندہ تھے۔
- تذہیب کے آغاز و اختتام کے سالوں کو متعدد شعری تاریخوں (مادّہ تاریخ) کے ذریعے ریکارڈ کیا گیا تھا۔ گنبد، میناروں اور ایوانِ طلا کے مختلف مقامات پر بعض عبارات اور اعداد کندہ کیے گئے تھے۔
- نادر شاہ کے عہد کے متعدد شعرا اور علما نے حرم مقدس کے بالائی گنبد کی طلا کاری کا سال، یعنی ۱۱۵۵ ہجری قمری، محفوظ کیا۔
- انہوں نے اس تاریخی واقعے کو نظم و نثر کے قالب میں ڈھال کر ہمیشہ کے لیے یادگار بنا دیا۔
- ان اہلِ علم و ادب میں علامہ سید نصر اللہ حائری (متوفیٰ ۱۱۶۸ ہجری قمری) بھی شامل ہیں۔ انہوں نے اس تاریخی واقعے کی مناسبت سے ایک طویل اور شاندار قصیدہ تخلیق کیا۔
گنبدِ حرم مقدس پر جلوہ گر ’تاج زرّیں‘ کے رمزی مفاہیم
قرآنی آیات اور احادیث اہل بیت علیہمالسلام سے ماخوذ متعدد عقیدتی و رمزی علامات یہاں نمایاں ہیں۔ یہ علامات روضۂ مبارک کے بالائی طرزِ تعمیر میں نہایت واضح اور دلکش انداز میں جلوہ گر ہوتی ہیں:
گنبد کے تاج زرّیں میں چودہ نورانی شعاعوں کی علامت
- خورشیدِ درخشاں اور چودہ نورانی شعاعیں: گنبدِ منور کے بلند ترین محور پر واقع طلائی کرے کے اوپر ایک طلائی تاج (سرطوق) نصب ہے۔ یہ تاج تقریباً دائرہ نما حلقے کی شکل میں ہے اور قرصِ خورشید کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس حلقے سے چودہ شعاعیں یا کرنیں نکلتی ہیں، جو چودہ معصومین علیہمالسلام کی علامت ہیں۔
ان میں حضرت محمد مصطفیٰ صلیاللہعلیہوآلہ، امیرالمومنین، سیدہ فاطمہ زہرا، امام حسن، امام حسین اور فرزندانِ حسین میں سے نو ائمہ معصومین علیہمالسلام شامل ہیں۔
یہ علامت اس امر کی طرف بھی اشارہ ہے کہ اہل بیت علیہمالسلام اللہ کا نور ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ امیرالمومنین علیہالسلام کے لیے سورج کے پلٹنے (ردالشمس) کے دو تاریخی واقعات کی یادگار بھی ہے۔
قلبِ محورِ متحرک اور پنجۂ مبارک کی علامتی حیثیت
- محوری متحرک دل: اس دائرے کے مرکز میں ایک دل واقع ہے جو ایک ہی محور پر دو حصوں سے تشکیل پایا ہے۔ یہ دل ہوا کے دباؤ سے متحرک ہونے اور گھومنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس علامت کا فلسفہ ہر صاحب عقل پر عیاں ہے کہ کائنات کے تمام دائروں کا مدار اپنے مرکزی محور کے گرد ہوتا ہے۔
- پنجۂ مبارک: اس قرص کے اوپر ایک کھلا ہوا ہاتھ (پنجہ) نقش ہے۔ اس پر قرآن کریم کی یہ آیت مبارکہ کندہ ہے: يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ (اللہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر ہے)۔ واضح رہے کہ یہ ہتھیلی جہاں پنجتن پاک علیہمالسلام کی علامت ہے، وہاں امیرالمومنین علیہالسلام کی بیعت (غدیر و دیگر مواقف) کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے۔ اس ہتھیلی کی لمبائی ۶۳ سینٹی میٹر رکھی گئی ہے۔ یہ عدد امیرالمومنین علیہالسلام کی عمر مبارک کے کل برسوں (۶۳ سال) کی عکاسی کرتا ہے۔
تاج زرّیں: نادر شاہی وقف کے نقوش یادگار
یہ بات قابل ذکر ہے کہ وہ طلائی تاج، کرنیں اور پنجہ مبارک جو گنبد مقدس کے سب سے اعلیٰ مقام پر نصب ہیں۔ سلطان نادر شاہ نے پہلی طلا کاری کے وقت سید الاوصیاء علیہالسلام کے گنبد کے لیے وقف کیے تھے۔ اس وقف کی تفصیلات کرے (گوی) پر کندہ دو چھوٹی مہروں پر درج ہیں:
- ایک مہر پر عبارت درج تھی:
وقف حضرت امیرالمومنین علیہالسلام
- جبکہ دوسری مہر پر فارسی زبان میں یہ عبارت کندہ ہے:
بسمہ تعالیٰ، علی بن ابی طالب علیہالسلام کو ہدیہ کیا گیا سر طوق گنبد مبارک غرویہ، شہنشاہ جہاں اور نادر دوران کے حکم سے مفتخر و سرفراز ہوا، العبد المذنب الآثم، کلب آستان ابن میرزا محمد ابراہیم خان زرگر تبریزی، فی سنہ ۱۱۵۵۔
- شیخ محمد حرز الدین ایک دلچسپ حکایت نقل کرتے ہیں:
جب نادر شاہ سے گنبد کے اوپر نصب طلائی دست (پنجے) پر کندہ کی جانے والی تحریر کے بارے میں رائے مانگی گئی، تو اس نے (بغیر کسی تامل کے) فرمایا: لکھو: يَدُ اللَّهِ فَوْقَ أَيْدِيهِمْ۔اس کے ہمراہ موجود وزیر پہلے تو حیران ہوا اور اس بات کا منکر ہوا کہ بادشاہ کی توجہ اس دقیق علمی و قرآنی نکتے پر ہو سکتی ہے، لیکن جب دوبارہ دریافت کرنے پر بھی نادر شاہ نے اپنے اسی پہلے جواب کی تصدیق کی، تو وزیر شاہ کی علمی فراست اور گہری بصیرت کا قائل ہو گیا۔
حرم مقدس کی طلا کاری کے مراحل
- سنہ ۱۱۵۳ ہجری قمری (۱۷۴۰ء) میں مرقد مقدس کی بالائی ملمع کاری (تذہیب) کا شاہی فرمان جاری ہوا۔
- سنہ ۱۱۵۴ ہجری قمری (۱۷۴۱ء) میں تعمیری مقدمات کا آغاز کیا گیا۔
- گنبد، میناروں اور عظیم ایوان کی تزیین و آرائش کے لیے موزوں ترین متون کا انتخاب کیا گیا۔
- ان متون میں قرآنی آیات، احادیثِ نبوی اور عربی، فارسی و ترکی زبانوں کے منتخب اشعار شامل ہیں۔
- طلا کاری کا یہ عظیم الشان عمل دو مراحل میں انجام پایا:
- پہلا مرحلہ: گنبد منور کو سونے سے مڑھنے کا کام سنہ ۱۱۵۵ ہجری قمری (۱۷۴۲ء) میں شروع ہوا۔
- دوسرا مرحلہ: سنہ ۱۱۵۶ ہجری قمری، مطابق ۱۷۴۳ء میں دونوں میناروں کی تذہیب و تزیین کا کام مکمل کیا گیا۔ اسی سال عظیم مشرقی ایوان، یعنی ایوانِ طلا، کی تذہیب و تزیین بھی پایۂ تکمیل کو پہنچی۔
- گنبد کی زینت بننے والے طلائی تاج کے بڑے و چھوٹے دائرے پر تذہیب کے آغاز و اختتام سے متعلق دستاویزی شواہد کندہ کیے گئے۔ ان شواہد کو فارسی زبان میں تحریر کیا گیا ہے۔
- کام کی رفتار اور اس کے ذمہ داران کے نام گنبد کے بلند ترین حصے پر واقع پہلے چھوٹے دائرے پر درج کیے گئے۔ یہ تفصیلات خطِ نستعلیق میں تحریر کردہ ایک کتبے کے ذریعے محفوظ کی گئیں۔
- اس کندہ تحریر کا متن درج ذیل ہے:
۱۲ محرم الحرام سنہ ۱۱۵۵ ہجری کو کام کا آغاز ہوا اور ماہ مبارک رمضان میں یہ کام پایۂ تکمیل کو پہنچا۔ یہ کار خیر مہدی قلی خان کی کی نگرانی و انتظام میں انجام پایا، جبکہ ابراہیم خان نے بطور زرگر باشی اور محمد صابر اصفہانی نے بطور معمار اپنے فرائض سرانجام دیے۔
- بالائی گنبد کی طلا کاری کا عمل تقریباً ساڑھے سات ماہ جاری رہا۔ یہ مدت قمری مہینوں کے حساب سے متعین کی گئی ہے۔
- مرقد مقدس کی تذہیب کی تکمیل کا سال، یعنی ۱۱۵۶ ہجری قمری، بھی درج کیا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ سلطان نادر شاہ کا نام ترکی زبان میں ایک پٹی پر دائرے کی شکل میں بڑے دائرے کے بالائی حصے پر کندہ کیا گیا ہے۔
گنبد، میناروں اور ایوان طلا کے لیے متون کا انتخاب
- روضۂ مقدس کی طلا کاری کے آغاز و اختتام کی متعدد شعری تواریخ (مادّۂ تاریخ) بھی بیان کی گئی ہیں۔ یہ تواریخ مشہور شاعر محمد زکی مشہدی، معروف بہ ندیم، کے قصیدے میں درج ہیں۔
- یہ قصیدہ ترکی، فارسی اور بعض عربی الفاظ کا خوبصورت امتزاج ہے۔ اسے گنبد کے گرد قرآنی آیات کی پٹی کے اوپر اور نیچے دو الگ کتبوں، یعنی بالائی اور زیریں کتبے، کی صورت میں کندہ کیا گیا ہے۔
- اس قرآنی پٹی کے آخر میں ایک چھوٹی طلائی مہر نقش ہے۔ اس پر فارسی آمیز خطِ نسخ میں یہ عبارت درج ہے:
الحمدللہ تعالیٰ، کمترین غلامان مہدی قلی بن محمد خان بیدگلی شاملو اور محمد علی بن محمد صالح قزوینی مستوفیِ امرِ خیر انجام، اور محمد ابراہیم زرگر باشی بن میرزا محمد تبریزی جو اس گنبدِ منورہ جو جن و انس کا مطاف ہے کو سونے سے مڑھنے کے کام پر مامور تھے ان کے گناہوں کی مغفرت ہو، اس ملمع کاری کی بدولت یہ فلک بوس گنبد دنیا بھر کے لیے رشک کا باعث بنا۔ الحمدللہ الذی اکرمنا بہذہ النعمۃ العظمیٰ فی سنہ ۱۱۵۶ تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے ہمیں سنہ ۱۱۵۶ میں اس نعمتِ عظمیٰ سے سرفراز فرمایا۔ ابنِ زرگر باشی محمد حسین تبریزی کو اس کی کتابت کا شرف حاصل ہوا۔
- مذکورہ بالا کتبے کا مفہوم و تشریح درج ذیل ہے:
حمد و ثنا خدائے تعالیٰ کے لیے، یہ تمام عاجز خدمت گزارمہدی قلی بن محمد خان بیدگلی شاملو، محمد علی بن محمد صالح قزوینی، اور رئیسِ تذہیب و طلا کاری محمد ابراہیم بن میرزا محمد تبریزی، جو اس گنبدِ منور جو جن و انس کا مطاف ہے کی طلا کاری پر مامور تھے لطفِ خداوندی سے اس اعلیٰ مرتبے پر فائز ہوئے۔ شکر ہے اس خدا کا جس نے ہمیں اس عظیم نعمت سے سرفراز فرمایا۔ سنہ ۱۱۵۶ ہجری قمری میں اس تحریر کو زرگر باشی کے فرزند، محمد حسین تبریزی نے قلمبند کیا۔
سورہ فتح کے طلائی پترے اور تاریخی کتبے
- یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ گنبد کی گردن کے گرد ۲۴ طلائی پترے (ورق) نصب کیے گئے ہیں۔ ان پر سورۂ فتح کی آیات مبارکہ نقش ہیں۔ یہ گنبد کی گردن پر بنی پٹی کا ہی تسلسل معلوم ہوتے ہیں۔
- سورۂ مبارکہ کی آیات کی ترتیب کا باریک بینی سے جائزہ لینے سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے۔ آخری پترے کو روضۂ مبارک کی طلا کاری کی تکمیل کی تاریخ محفوظ کرنے کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔
- اس مخصوص پترے پر عربی زبان اور خطِ ثلثِ متراکب میں یوں لکھا ہوا ہے:
اسے فانی محمد مقیم نے سنہ ۱۱۵۶ ہجری قمری میں، تاریخ نگاری کے ایک ممتاز اور منفرد انداز کو اپناتے ہوئے مدون کیا۔
- اسی پترے کے دونوں بالائی اطراف میں عربی زبان اور فارسی طرز کے خطِ نسخ میں یہ عبارت نقش ہے:
قَدْ تَشَرَّفَ بِتَذْهِيبِ كَعْبَةِ الْإِسْلَامِ، تُرَابُ مَقْدَمِ الْمُتَوَلَّدِ بِبَيْتِ اللَّهِ الْحَرَامِ، زَرْگَرْبَاشِى إِبْرَاهِيم خَان بْن مِيرْزَا مُحَمَّد تَبْرِيزِي، الْمُوَفَّقُ بِالشُّرُوعِ فِي سَنَةِ ١١٥٥، الْمُوَفَّقُ بِالْإِتْمَامِ فِي سَنَةِ ١١٥٦، كَتَبَهُ مُحَمَّد حُسَيْن بْن زَرْگَرْبَاشِي
کعبۂ اسلام یعنی بارگاہ مقدس کی طلا کاری کا شرف اس شخص کو حاصل ہوا جو مولود کعبہ علیہالسلام کے قدموں کی دھول ہے، یعنی زرگر باشی ابراہیم خان بن میرزا محمد تبریزی۔ اسے سنہ ۱۱۵۵ ہجری میں اس کام کے آغاز کی توفیق ملی اور سنہ ۱۱۵۶ ہجری میں اسے پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی سعادت حاصل ہوئی۔ اسے زرگر باشی کے بیٹے محمد حسین نے لکھا۔ - گنبد کے بعض طلائی پتروں پر بیس سے زائد نام کندہ ہیں۔ یہ نام طلا کاری کے عمل کی نگرانی کرنے والے مختلف شعبوں کے سربراہان کی یادگار کے طور پر درج کیے گئے ہیں۔
- ان پتروں میں سے تقریباً نصف پر طلا کاری کے نگرانِ اعلیٰ ابراہیم خان کا نام درج ہے۔ جبکہ بعض پتروں پر ماہرِ تعمیرات، یعنی معمار محمد صابر، کا نام بھی کندہ کیا گیا ہے۔
ایوان طلا پر نادر شاہ کے نام کا اندراج
- طلا کاری (تذہیب) کے عمل کی مکمل تکمیل کو ایک عربی کتبے کے ذریعے محفوظ کیا گیا ہے۔ یہ کتبہ ایوانِ طلا کے اوپر موجود چوڑے پٹے پر خطِ ثلثِ متراکب میں تحریر ہے، جس کا متن درج ذیل ہے:
الحمدللہ تعالیٰ، اس گنبدِ منور اور روضۂ مطہرہ کی طلا کاری کا یہ کتبہ خاقانِ اعظم، سلطانِ سلاطین، ابو المظفر، تائیدِ غیبی سے لیس شہنشاہ نادر شاہ کے حکم سے رقم کیا گیا، اللہ تعالیٰ اس کی مملکت و سلطنت کو دوام بخشے اور دنیا بھر پر اس کا کرم، عدل اور احسان جاری رکھے۔ اور اس کی تاریخ تکمیل (مادّہ تاریخ) میں آیا ہے: خداوند اس کی دولت کو پائیدار کرے، سنہ ۱۱۵۶ ہجری قمری۔
- نیز ایوانِ طلا کی پٹی پر دائیں اور بائیں جانب بھی مرقدِ مقدس کی تذہیب کی تکمیل کی شعری تاریخ کندہ ہے۔ یہ شعری تاریخ میرزا عبدالرزاق تبریزی جہاں شاہی، معروف بہ نشئہ یا نشا، کے قصیدے سے ماخوذ ہے۔ یہ تحریر ترکی زبان اور خطِ نستعلیق میں ایوان کی دیوار کی طویل پٹی اور اس کے اطراف میں کندہ ہے۔ آخری شعر کے نیچے سنہ ۱۱۵۶ ہجری قمری درج ہے۔
- اصل عربی متن اور اس کا مفہوم یوں ہے:
«كُنْ مُتَأَدِّباً فَذَاكَ / أَيِ الْإِمَامُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلَامُ / هُوَ شَمْسٌ ثَابِتَةٌ يَطُوفُ حَوْلَهَا الْإِنْسُ وَالْجَانُّ.»
باادب رہو! کیونکہ وہ یعنی امام امیرالمؤمنین علی علیہالسلام ایک ایسا مستحکم و ثابت سورج ہیں جس کے گرد جن و انس طواف کرتے ہیں۔
طلا کاری کے عمل کی تکمیل کا سال
- اس پٹی کے آخر میں دو پترے (طلائی ورق) موجود ہیں جو فارسی زبان میں نقش ہیں۔ ان پر مرقد مقدس کی طلا کاری کے نگرانوں اور ذمہ داران کے نام یوں محفوظ کیے گئے ہیں:
تذہیبِ این قبہ و بارگاہ بسعی و اہتمامِ بندگانِ درگاہِ عرش شاہ، مہدی قلی بن محمد بیگدلی شاملو، و محمد علی بن محمد صالح قزوینی، و مستوفیِ این امر محمد ابراہیم زرگر باشی بن میرزا محمد تبریزی باتمام و اختتام رسید ۱۱۵۶۔ الحمد للہ علیٰ نعمائہ، کتبہ کمترین بندۂ شاہِ دین بن علی محمد امین۔
اُردو مفہوم:
اس گنبد اور اس بارگاہ عالیہ کی طلا کاری آستانِ علوی کے مخلص خادموں—سید مہدی قلی بن محمد بیگدلی شاملو، محمد علی بن محمد صالح قزوینی اور اس مہم کے نگرانِ اعلیٰ محمد ابراہیم بن میرزا محمد تبریزی کی کوششوں اور حسن انتظام سے پایۂ تکمیل کو پہنچی اور سنہ ۱۱۵۶ ہجری قمری میں اختتام پذیر ہوئی۔ اللہ کی نعمتوں پر اس کا شکر ہے۔ اس تحریر کو فروتن ترین خادم ‘شاہِ دین بن علی محمد امین’ نے خطاطی کیا۔
- بڑے ایوانِ طلا کے اندر، چھوٹے ایوان کے دونوں جانب سونے کے دو پترے نصب ہیں۔ ان پٹروں پر شاعر ندیم کے ترکی زبان میں اشعار کندہ ہیں، جبکہ ان کے نیچے فارسی میں عبارت تحریر ہے:
بندۂ این مقام محمد زکی ندیم
- یہ تحریر سنہ ۱۱۵۶ ہجری قمری کی جانب اشارہ کرتی ہے۔ اس کا مفہوم ’’اس پاک مقام کا غلام، محمد زکی ندیم‘‘ ہے۔ یہ عبارت بالائی مرقد کی طلا کاری کی مکمل تکمیل کی بھی واضح تصدیق کرتی ہے۔
- دائیں جانب کے پترے پر دو ابیات نقش ہیں۔
- طلا کاری کی تکمیل کی تاریخ، یعنی ۱۱۵۶ ہجری قمری، معروف شاعر عرفی شیرازی (متوفیٰ ۹۹۹ ہجری قمری) کے قصیدے کے اختتام پر بھی درج ہے۔ قصیدے کے آخر میں خطاط کا نام ’’محمد جعفر اصفہانی‘‘ بھی واضح طور پر تحریر کیا گیا ہے۔
- اسی طرح شمالی مینار کی بنیاد پر نصب طلائی پتروں کی آخری قطار میں فارسی زبان کے پانچ اشعار کندہ ہیں۔ یہ اشعار علامہ حلی علیہالرحمہ کے مرقدِ مطہر سے متصل مقام پر تحریر کیے گئے ہیں۔ جبکہ آخر میں کاتب کا نام ’’محمد جعفر‘‘ درج ہے۔
- اس قصیدے کا اختتام ایک ایسے شعر پر ہوتا ہے جو میناروں کی طلا کاری کی تکمیل کی تاریخ کو محفوظ کرتا ہے۔ یہ شعری تاریخ سنہ ۱۱۵۶ ہجری قمری پر مشتمل ہے اور اسے مستقل طور پر یادگار بنا دیا گیا ہے۔
ولیالله ازین گلدستۀ فیض / که بر هفت آسمان شد سایه گستر / مگو گلدستۀ نخل طور ايمن / مؤذنها كليم سدره منظر / تجلی راز معنی بود دایم / تجلی این زمان بنمود از زر / برنگ زر شدم در بوتۀ فکر / پی تاریخ این خورشید مظهر / بگفتا مقریِ طبعِ نواسنج/ تعالى شأنه الله أكبر
اُردو مفہوم:
ولی اللہ مولا علی علیہالسلام کے فیض کے اس مینار سے، جس کا سایہ ساتوں آسمانوں پر پھیل گیا ہے۔ اسے وادیِ ایمن کے طور کا نخلِ ایمن (درخت) نہ کہو؛ کیونکہ یہاں کے مؤذن سدرۃ المنتہیٰ پر نظر رکھنے والے کلیم موسیٰ علیہالسلام کی مانند ہیں۔ اس آستانے کی تجلی ہمیشہ معانی کا ایک پوشیدہ راز تھی، مگر اس بار یہ تجلی سونے کے روپ میں ظاہر ہوئی ہے۔ میں اس آفتابِ مظہر کی تاریخِ تعمیر پانے کے لیے فکر کی بھٹی میں سونے کی طرح تپ گیا؛ تو میری نغمہ سنج طبیعت کے قاری نے پکارا: تعالیٰ شأنہ اللہ اکبر یعنی بلند ہے اس کی شان، اللہ سب سے بڑا ہے۔
جنوبی مینار کے کتبات اور
- دوسری جانب، جنوبی مینار کی بنیاد پر نصب طلائی پتروں کی آخری قطار میں عربی زبان کے پانچ اشعار کندہ ہیں۔
- یہ اشعار علامہ اردبیلی، معروف بہ مقدس اردبیلی، کے مرقد مقدس سے متصل مقام پر علی بن ابی المعالی طباطبائی نے تحریر کیے ہیں۔
- اس قصیدے کا آخری شعر بھی دونوں میناروں کی طلا کاری کی تکمیل کے سال کی جانب اشارہ کرتا ہے۔ اس شعر میں سنہ ۱۱۵۶ ہجری قمری کو تاریخِ تکمیل کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
علمِ ابجد کے اسرار
- یہاں تعمیراتی تاریخ کو محفوظ کرنے کے لیے حسابِ ابجد کے دو حیرت انگیز طریقے استعمال کیے گئے ہیں:
- عبارتِ اللہ اکبر کی عددی خصوصیت: یہ بات نہایت قابلِ ذکر ہے کہ اگر عبارت ’’اللہ اکبر‘‘ کے حروف کی عددی قیمت علمِ ابجد کے مطابق شمار کی جائے۔ تو اس کا حاصلِ عدد ۲۸۹ بنتا ہے۔ اگر اس عدد کو چار سے ضرب دی جائے تو حاصلِ ضرب ۱۱۵۶ بنتا ہے۔ یہی وہ ہجری سال ہے جس میں دونوں میناروں کی طلا کاری کا کام پایۂ تکمیل کو پہنچا۔
- کھڑکی پر کندہ مادۂ تاریخ: مزید برآں، طلا کاری کی تاریخِ تکمیل جنوبی مینار کے زیریں حصے میں واقع ایک چھوٹی سی کھڑکی پر بھی کندہ کی گئی ہے۔
یہ کھڑکی ایک طلائی پترے کے برابر ہے اور اس پر ’’سَعْداً عَظِيماً‘‘ کی عبارت درج ہے۔ اگر ان دونوں الفاظ کے حروف کی عددی قیمت، علمِ ابجد کے مطابق، جمع کی جائے تو حاصلِ عدد ۱۱۵۶ ہی بنتا ہے۔
یہ عدد طلا کاری کی تکمیل کے سال کی ریاضیاتی طور پر بھی تصدیق کرتا ہے۔ - مزید برآں، سنہ ۱۱۵۶ ہجری قمری جنوبی مینار کے گرد لپٹی ہوئی قرآنی آیات کی عریض پٹی پر بھی درج ہے۔ یہ تاریخ مذکورہ پٹی کے آخری حصے میں، بالائی جانب واضح طور پر کندہ کی گئی ہے۔
مآخذ
کتاب تاریخ المرقد العلوی المطهر سے ماخوذ