سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

نادر شاہ اور حرم امیرالمومنین

حرم مقدس امیر‌المومنین علیہ‌السلام سے نادر شاہ افشار کی زریں عقیدت

عہدِ صفوی میں، حرم مقدس امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی عمارت نیلے اور لاجوردی رنگ کی خوبصورت کاشی کاری (ٹائلزوں) سے آراستہ تھی۔ لیکن ایران میں صفوی سلطنت کے خاتمے اور نادر شاہ افشار کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد، اس نے فرطِ عقیدت سے ایک یادگار تاریخی حکم جاری کیا۔ نادر شاہ نے فرمان دیا کہ: گنبدِ مبارک ،دونوں میناروں اور مشرقی بڑا ایوان (ایوانِ زریں). پر لگی تمام پرانی ٹائلزوں کو اتار دیا جائے اور ان کی جگہ خالص سونے کے پتروں سے مڑھے ہوئے تانبے کے صفحات نصب کیے جائیں۔ اس طرح بارگاہ امیرالمومنین علیہ‌السلام کی تاریخ میں پہلی بار اس کی مادی ساخت کو یہ بے نظیر طلائی شکوہ حاصل ہوا۔

نادر شاہ افشار اور حرم مقدس امیرالمومنین علیہ‌السلام کا تعارف

  • حرم مقدس امیرالمومنین علیہ‌السلام کی طلائی ملمع کاری (تذہیب) کا یہ عظیم الشان کام نادر شاہ کے حکم پر سنہ ۱۱۵۵ ہجری قمری، مطابق ۱۷۴۲ء، میں شروع ہوا۔
  • یہ کام سنہ ۱۱۵۶ ہجری قمری، مطابق ۱۷۴۳ء، میں پایۂ تکمیل کو پہنچا۔

گنبد امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی طلا کاری: تاریخِ جہاں کشائے نادری کی روشنی میں

  • میرزا محمد مہدی استر آبادی اپنی مشہورِ زمانہ تاریخی تصنیف تاریخِ جہاں کشائے نادری میں رقم طراز ہیں:

    نجف اشرف کے گنبدِ مبارک کو سونے سے مڑھنے (تذہیب) کے شاہی فرمان کے جاری ہوتے ہی، شاہی کارندے اور متعلقہ حکام اس حکم کی تعمیل پر مامور ہو گئے۔ انہوں نے کمال حسن اور بے پناہ نفاست کے ساتھ اس گنبد کی طلا کاری کا کام مکمل کیا جو اپنی رفعت میں آسمان سے باتیں کرتا ہے۔ اس کے بعد، اس عمل خیر میں حصہ لینے والے تمام افراد کی بھرپور حوصلہ افزائی اور قدردانی کی گئی۔ اس بلند و بالا اور درخشاں گنبد کو سونے سے آراستہ کرنے کے لیے کل دس ہزار نادر شاہی سکے (جو اس وقت کے پچاس ہزار تومان کے برابر تھے) خرچ کیے گئے۔

  • میرزا محمد کاظم مروی نے اپنی کتاب ’’عالم آرائے نادری‘‘ میں اس واقعے کی تفصیلی وضاحت کی ہے۔ انہوں نے نادر شاہ کے اس اقدام کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے لکھا ہے:

    چونکہ نذر پوری کرنا، نیکی کو عام کرنا اور مال و دولت کی بخشش پسندیدہ ترین اعمال میں سے ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا ہے:

    يُوفُونَ بِالنَّذْرِ وَيَخَافُونَ يَوْماً كَانَ شَرُّهُ مُسْتَطِيراً (سورہ انسان: ۷)
    وہ اپنی نذریں پوری کرتے ہیں اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی سختی ہر طرف پھیلی ہوئی ہو گی

    اسی طرح اپنے اموال و اجناس کا کچھ حصہ خدا کی راہ میں دینا اور مسکینوں، یتیموں اور اسیروں کو کھانا کھلانا وہ عمل ہے جس کا ذکر قرآن مجید نے اس آیت شریفہ میں کیا ہے:

    وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِيناً وَيَتِيماً وَأَسِيراً (سورہ انسان: ۸)؛
    اور وہ اس کی محبت میں مسکین، یتیم اور قیدی کو کھانا کھلاتے ہیں اور اس کے بدلے آخرت میں بڑے اجر کا وعدہ فرمایا ہ

نادر شاہ کی اس مخصوص نذر کا سبب

  • کتاب عالم آرائے نادری میں مزید صراحت ملتی ہے:

    جب عظیم، ذی ہوش اور خیر اندیش خاقان گرامی (جو خود بھی عامل خیر اور دنیا کے سلاطین کا سلطان ہے) بلوچستان، ترکستان اور ہندوستان کے فرمانرواؤں کو مغلوب کر کے اور اپنی فتح کا پرچم لہرانے کے بعد خراسان وارد ہوا، اور اس خطۂ مقدسہ میں پہنچا جہاں امام مظلوم، علی بن موسیٰ الرضا علیہ‌السلام کا روضۂ شریف واقع ہے اور آپ علیہ‌السلام کی زیارت کا شرف حاصل ہوا، تو اس نے اسی وقت یہ پختہ عزم کیا کہ وہ نجف اشرف میں سلطان اولیاء مولا علی علیہ‌السلام کے گنبد مبارک کو بھی سونے سے اس طرح آراستہ کرے گا کہ وہ بھی گنبد ثامن الحجج علیہ‌السلام کی مانند چمکنے اور دمکنے لگے۔ جیسے ہی یہ مبارک خیال اس کے ذہن میں آیا، اس نے فوراً حکم حاکمانہ جاری کیا کہ حرم رضوی کے تمام ماہر معماروں اور استاد کاروں کو جمع کیا جائے۔ چنانچہ محمد حسین بیگ کی سربراہی میں مخلص ماہرین کا ایک وفد، جس میں قزوین کے نامور معمار اور تزئین کاری کے ماہر آقا نجف بھی شامل تھے، سلطان کی بارگاہ میں حاضر ہوا۔

ایران سے والیِ بغداد کے نام شاہی مکتوب

  • اس کے بعد سورج کی کرنوں کی مانند ایک واضح اور روشن مکتوب بغداد کے والی احمد پاشا کو ارسال کیا گیا۔ اس مکتوب کا متن درج ذیل تھا:

    ہمارے ہر دلعزیز بادشاہ، جو ہمیشہ کارِ خیر اور سخاوت میں پیش پیش رہتے ہیں، نے یہ عزم صمیم کیا ہے کہ سلطانِ اولیاء، مہرِ برجِ انوار الٰہی اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ‌ کے ابن عم، یعنی امیرالمومنین علیہ‌السلام کے گنبد شریف کو سرخ سونے (طلائے سرخ) سے مزین کریں۔ اس مقصد کے لیے، ہم نے کثیر تجربہ کار کاریگروں، معماروں اور نگرانوں کی ایک ٹیم کو پچاس ہزار مشرقی خالص تومان اور چھ ہزار تبریزی تومان کی خطیر رقم کے ساتھ ان علاقوں کی طرف روانہ کر دیا ہے۔ امید قوی ہے کہ توفیق الٰہی اور سلطان معظم کے ایمانی جذبے کی بدولت یہ کام احسن طریقے سے پایۂ تکمیل کو پہنچے گا، تاکہ دنیا میں عزت اور آخرت میں رفعت درجات کے لیے ان کی یہ شایان شان خدمات تاریخ کا حصہ بن سکیں۔ گنبد مقدس کی تعمیر و تزیین میں رات دن پسینہ بہانے والے تمام مزدوروں اور دستکاروں کے حقوق کی ادائیگی کا ذمہ سلطان معظم کے توشہ خانے (صندوق) کے امینوں پر عائد ہوتا ہے۔ شرط یہ ہے کہ ان کے معاوضے انتہائی تسلی بخش ہوں اور ادائیگی میں کسی بھی قسم کی کوتاہی یا تاخیر ہرگز نہ کی جائے۔ مزید برآں، فقراء اور ضرورت مندوں کی خوشنودی کا ہمیشہ خیال رکھا جائے تاکہ اس کام کے روحانی اور قدسی اثرات ظاہر ہو سکیں۔اگر مختص کردہ بجٹ کم پڑ جائے، تو مطلوبہ رقم کی صراحت کے ساتھ ایک مکتوب لکھ کر کرمانشاہ اور ہمدان کے گورنروں، ان کے حکام اور کارندوں کو بھیج دیا جائے۔ ان معماروں اور کاریگروں کو ہر ممکنہ طور پر بہترین سفری و مادی سہولیات فراہم کی جائیں۔ یہ شاہی فرمان فیض البنیان کی سرزمین سے مطلوبہ بجٹ کے ساتھ سنہ ۱۱۵۳ ہجری میں جاری کیا گیا۔

والیِ بغداد کی جانب سے شاہی فرمان کی تعمیل

  • احمد پاشا نے معماروں، کاریگروں اور ان کے نگرانوں کے وفد کا دارالسلام (بغداد) آمد پر شاندار اور شایان شان استقبال کیا۔
  • اس کے بعد، وہ خود سلطان نجف مولا علی علیہ‌السلام کی بارگاہ میں حاضری کے لیے روانہ ہوا۔
  • شاہی کاریگروں و نگرانوں کو ان کے مطالبات سے دگنا معاوضہ ادا کیا۔ اس طرح شاہی احکام کی کاملاً تعمیل کی گئی۔
  • تعمیراتی امور کو منظم کرنے کے لیے درج ذیل اقدامات کیے گئے:
  • مزدوروں اور وسائل کا تعیّن: گنبدِ مقدس کی تعمیر کے لیے درکار تعمیری سامان کی منتقلی کا خصوصی انتظام کیا گیا۔
    دارالسلام سے نجف تک ۳۰۰ مزدور اور بارکش جانور مسلسل اس کام کے لیے مامور رہے۔
  • تکنیکی نظام الاوقات: ماہر استادکاروں نے طلائی ٹائلوں کی تیاری کا کام شروع کرنے کے لیے موزوں ترین وقت کا تعیّن کیا۔
    اسی طرح گنبد مقدس پر داربست باندھنے کے لیے بھی مناسب وقت مقرر کیا گیا۔
  • قصہ مختصر، گنبد مقدس کی یہ تاریخی طلائی تزیین سنہ ۱۱۵۵ ہجری قمری میں پایۂ تکمیل کو پہنچی۔
  • میرزا عبدالرزاق تبریزی جہاں شاہی نے گنبد مقدس کی تاریخِ تعمیر کو ترکی زبان میں منظوم انداز میں قلمبند کیا۔
  • گنبدِ مقدس کی تکمیل کے بعد احمد پاشا نے اس عظیم الشان کارنامے کی تفصیلی روداد مرتب کی۔ بعد ازاں یہ روداد دربارِ سلطانی میں ارسال کردی گئی۔
  • اس نے مہم کے نگرانوں، معماروں اور دیگر تمام معاونین کو فاخرہ خلعتیں اور گراں قدر انعامات عطا کیے۔
  • ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے سلطان نے ان کی بھرپور ستائش کی اور انہیں خلعت و انعام سے نوازا۔ اس کے بعد انہیں واپسی کی اجازتِ مرحمت بھی عطا فرمائی۔
  • ان معماروں اور کاریگروں کی شاہی دربار میں واپسی پر نہایت شایان شان آؤ بھگت اور تکریم کی گئی۔ اس کا مقصد ان کی گراں قدر خدمات اور غیر معمولی محنت کی بھرپور قدر دانی تھا۔
  • والیِ بغداد احمد پاشا کی حسنِ کارکردگی اور مخلصانہ خدمات کو دربارِ نادری میں قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ ان کی تحسین کے لیے قیمتی ہندوستانی ملبوسات، نفیس کپڑے اور جواہرات کی بڑی مقدار ارسال کی گئی۔

نادر شاہ کی دلی آرزو اور سفر زیارت

  • نادر شاہ ہمیشہ سے عتباتِ عالیہ کی زیارت کی دلی تمنا رکھتا تھا۔ سلطانِ نجف کے روضۂ انور کی زیارت کا خواب بھی مدتوں سے اس کے دل میں بسا ہوا تھا۔
  • خوش قسمتی سے اس عہد میں اسے یہ سعادت نصیب ہوئی۔
  • وہ اس پاکیزہ، ملکوتی اور فرشتہ نشین آستانے کی زیارت سے سرفراز ہوا۔
  • جب وقت کا یہ بادشاہ شہید کربلا، امام مظلوم علیہ‌السلام کے روضۂ مبارک کی زیارت سے شرف یاب ہوا۔ دیگر شہدائے کربلا کی بارگاہ میں نذرانۂ عقیدت پیش کرنے کے بعد، وہ شاہانہ جاہ و جلال کے ساتھ نجف اشرف کی جانب روانہ ہوا۔

بارگاہ امیر‌المومنین علیہ‌السلام میں نادر شاہ کی عاجزی

  • وہ کمال عجز و انکسار کے ساتھ ایک ادنیٰ زائر کی حیثیت سے اس حرم مقدس میں داخل ہوا۔
  • یہ وہ بارگاہ ہے جو مردان خدا کے ملجا اور اسداللہ الغالب، امامِ مشرق و مغرب، امیرالمومنین امام المتقین علی ابن ابی‌طالب علیہ‌السلام کی آرام گاہ ہے۔
  • پھر اس نے اپنی پیشانیِ اخلاص اس مقدس مقام کی خاک پر رکھ دی۔ یہ وہ بارگاہ ہے جو حاجت مندوں کا قبلہ اور مقاصد کے حصول کی پناہ گاہ ہے۔
  • اس نے خدائے رحیم و کریم کے حضور گڑگڑا کر دعا کی۔ اس نے التجا کی کہ اس کے دل کی ہر مراد اور باطنی تمنا بلا کم و کاست پوری فرمائی جائے۔
  • قصہ مختصر، جب وقت کے بادشاہ اور فاتحِ جہاں کو سلطانِ ولایت کی جانب سے اپنے باطنی سوال کا جواب مل گیا۔ اس کا دل اطمینان اور سکون سے سرشار ہوگیا، تو اس نے سجدۂ شکر سے سر اٹھایا۔
  • پھر اس نے حرم مقدس کے خدام، مجاورین اور ساکنان کو گوناگوں تحائف و عطیات سے نوازا۔
  • اس نے انہیں تاکید کی اور حوصلہ دیا کہ اس پاکیزہ مقام کی تزئین و آرائش کے لیے مزید کوششیں کریں۔ ساتھ ہی خدام اور ساکنان کی فلاح، بہبود اور رفاہ کے لیے بھی بھرپور اقدامات کریں۔
  • اس کے بعد اس نے دارالسلام، یعنی بغداد، کی جانب پیش قدمی کا حتمی فیصلہ کیا۔ بارگاہ امیرالمومنین علیہ‌السلام سے باقاعدہ اجازتِ رخصت حاصل کرکے، طلوعِ آفتاب کے ساتھ اپنے لشکر کو کوچ کا حکم دیا۔

فتح ہند کے لیے نادر شاہ کی نذر

  • مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں اس تاریخی ملوکیت کا بھی ذکر کیا جائے، جسے علامہ البراقی نے شیخ محمد کبّہ کی کتاب ’’الدرر المنثورة في فوائد من أبواب غير محصورة‘‘ کے حوالے سے نقل کیا ہے۔ انہوں نے اس واقعے کو یوں بیان کیا ہے:

    سنہ ۱۱۵۵ ہجری قمری میں، ہمارے آقا امیرالمومنین علیہ‌السلام کے حرم مقدس پر خالص سونے کا بلند و بالا گنبد تیار کیا گیا۔ یہ گنبد نادر شاہ نے تعمیر کروایا تھا، کیونکہ اس نے نذر مانی تھی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے اسے فتوحات کی قوت دی تو وہ سرزمینِ ہند (کی مہم) سے اس کار خیر کو انجام دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے اسباب فراہم کیے، ہندوستان اور متعدد دیگر علاقے فتح ہوئے اور اسے ابو الفتوح (فتوحات کا بابا) کا لقب دیا گیا۔ چنانچہ اس نے اپنی نذر کو کمال وفاداری سے پورا کیا۔

  • شیخ جعفر محبوبہ بھی اس ضمن میں رقم طراز ہیں:

    سلطان نادرشاہ افشار نے نجف اشرف میں حاضری دی۔ وہ سنہ ۱۱۵۶ ہجری قمری میں خانقین کے راستے بغداد گیا، پھر حلّہ سے ہوتا ہوا نجف پہنچا۔ وہ اتوار کے دن ۲۱ شوال کو نجف میں داخل ہوا اور جمعہ کے دن تک وہاں اقامت اختیار کی، جس کے بعد وہ کربلائے معلیٰ کی طرف روانہ ہوا۔ وہاں اس نے اپنے وزراء، لشکر، عمائدین سلطنت اور اپنے مقرب ندیم میرزا زکی کے ہمراہ پانچ روز قیام کیا۔

امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے معجزہ کی شان میں ایک خوبصورت شعر

  • نادر شاہ کے ندیم میرزا زکی نے نجفِ اشرف کی مدح اور ایک خاص معجزے کے بیان میں یہ اشعار کہے:

    در خاکِ نجف (ندیم) آسودہ بخواب / اندیشہ مکن ز پرسشِ روزِ حسابجایی کہ بدل بہ سرکہ گردد مئے ناب / بے تردید گناہ مبدل بہ ثواب می‌شوداے ندیم! نجف کی خاک پر بے فکر ہو کر سو جا، اور روز محشر کے سوال و جواب کا کوئی خوف دل میں نہ لا۔ یہ وہ پاک سرزمین ہے جہاں خالص شراب معجزانہ طور پر سرکے میں بدل جاتی ہے، پس یقیناً یہاں گناہ بھی ثواب میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔

  • شیخ محبوبہ نے اپنی کتاب کے حاشیے میں ان دو ابیات کی تشریح و ترجمہ یوں بیان کیا ہے:

    اے ندیم! نجف کی خاک پر امن و سکون کے ساتھ سو جا اور روزِ حساب پیش آنے والے معاملات کے بارے میں مت پوچھ؛ کیونکہ جس زمین پر شراب معجزاتی طور پر (سرکے میں) تبدیل ہو جاتی ہے، وہاں بلا شبہ و بلا شک گناہ بھی نیکیوں میں بدل دیے جاتے ہیں۔

  • یہ اشارہ امیرالمومنین علیہ‌السلام کے اس مشہور زمانہ معجزے کی طرف ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتا چلا آ رہا ہے۔
  • منقول ہے کہ چند بدقماش افراد نجفِ اشرف کے باہر سے شراب لے کر آرہے تھے۔ مگر حرم مقدس کی ابتدائی حدود تک پہنچنے سے پہلے ہی وہ شراب معجزانہ طور پر سرکے میں تبدیل ہوگئی۔
  • نادر شاہ کے ندیم کا یہ کلام بھی اس حیرت انگیز واقعے کے وقوع پذیر ہونے کا ایک تاریخی شاہد ہے۔ مزید برآں، یہ معجزہ روئے زمین کے ان مسلمہ اور ناقابلِ انکار حقائق میں شمار ہوتا ہے۔

نادر شاہ کا بارگاہ نجف میں منفرد انداز زیارت

  • شیخ محمد حسین حرز الدین نقل کرتے ہیں:

    کتاب النوادر کے تاریخی باب میں ان کے والد گرامی علامہ شیخ علی بن شیخ عبداللہ حرز الدین سے روایات منقول ہیں کہ سلطان نادرشاہ افشار نے سنہ ۱۱۵۷ ہجری قمری میں نجف اشرف میں مرقد امیرالمومنین علیہ‌السلام کی زیارت کا شرف حاصل کیا۔جب نادر شاہ روضۂ مقدس کی زیارت کے لیے نجف میں داخل ہوا، تو اس نے اس عام مشرقی راستے کا انتخاب نہیں کیا جو رباطِ عباسی (زائرسرا) کہلاتا تھا اور جسے شاہ عباس اول صفوی نے زائرین کی سہولت کے لیے بنوایا تھا؛ بلکہ وہ جنوبی گلی سے داخل ہوا جو باب قبلہ اور محلۂ البراق کی طرف جاتی ہے۔

  • سلطان نے حکم دیا کہ اس کی گردن میں ایک لوہے کی زنجیر ڈال دی جائے اور وہ اسی زنجیر کے ساتھ نہایت عجز، انکساری اور فروتنی کی حالت میں ایک تنگ گلی سے ہوتا ہوا حرم مقدس امیرالمومنین علیہ‌السلام میں داخل ہو۔ وزراء یا دیگر درباریوں میں سے کسی میں یہ ہمت نہ تھی کہ وہ بادشاہ کی خواہش کے مطابق اس کی زنجیر پکڑ کر اسے آگے لے جائے، یہاں تک کہ ایک اجنبی شخص سامنے آیا اور اس نے کہا: میں اس کی رہنمائی کروں گا (اس کی زنجیر پکڑوں گا)۔ چنانچہ نادر شاہ اسی حالت اور عاجزانہ کیفیت میں حرم مقدس کے اندر داخل ہوا اور وہ نامعلوم شخص اس کے بعد وہاں سے غائب ہو گیا۔

  • کہا جاتا ہے کہ یہ وہی طلائی زنجیر ہے جو آج بھی حرم مقدس کے مشرقی دروازے کے ایوانِ طلا میں آویزاں ہے۔ وہ گلی جس سے نادرشاہ زنجیر گلے میں ڈال کر گزرا تھا، تاریخ میں زقاق الزنجیل (زنجیر والی گلی) کے نام سے مشہور ہو گئی اور اس علاقے کی پرانی دستاویزات اور اراضی کے ریکارڈ میں، جو رباطِ عباسی اور حرم مقدس کے جنوب میں واقع ہے، اسی نام سے درج ہے۔

امیر‌المومنین علیہ‌السلام سے نادرشاہ کی والہانہ عقیدت کا پس منظر

  • شیخ محمد حسین حرز الدین نے محمد حسین قدوسی کی تالیف کردہ فارسی کتاب نادر نامہ کے حوالے سے ایک ایمان افروز واقعہ نقل کیا ہے:

    جس وقت اہل ایران (بالخصوص اصفہان کے لوگ) افغانوں کے ظلم و ستم سے شدید رنج و کرب میں مبتلا تھے اور انہوں نے مظالم سے نجات کی خاطر نجفِ اشرف کے علماء کی بارگاہ میں فریاد بھیجی تھی، تو نجف کے سادات عظام کے ایک جلیل القدر عالم دین، سید ہاشم الحطاب، انتہائی تشویش اور گہری فکر میں ڈوب گئے۔ اسی عالم میں انہوں نے خواب میں رسول اکرم صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ‌ اور امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی زیارت کی اور ان کے حضور شیعیانِ ایران کے مصائب و شکوے پیش کیے۔ اچانک حضرت عباس علیہ‌السلام تشریف لائے، جن کے ہاتھ میں ایک زنجیر (قلادہ) تھا جس کا دوسرا سرا ایک ہیبت ناک اور وحشی جانور کے گلے میں بندھا ہوا تھا؛ وہ ایک باوقار اور پرشکوہ جانور تھا جس کی دو چھوٹی مگر انتہائی تیز اور نافذ آنکھیں تھیں۔ جب یہ منظر ظاہر ہوا، تو امیرالمومنین علیہ‌السلام نے ارشاد فرمایا: شیعہ بہت جلد (ظلم سے) نجات پا جائیں گے۔سید ہاشم الحطاب اس غیبی خواب کی تعبیر کے انتظار میں رہے، یہاں تک کہ نادر شاہ افشار ایران کا بادشاہ بن گیا۔ جب نادر شاہ نجف اشرف پہنچا، تو اس کے لیے شہر کی حدود سے باہر ایک عظیم شاہی خیمہ نصب کیا گیا اور نجف کے تمام علمائے کرام اس سے ملاقات کے لیے خیمے میں تشریف لے گئے، سوائے سید ہاشم الحطاب کے۔ نادر شاہ نے دریافت کیا کہ سید نے آنے میں اتنی تاخیر کیوں کی؟ اسے بتایا گیا کہ سید ایک زاہد روزگار شخص ہیں جو دنیاوی مجالس اور سیاست کی دنیا سے دور رہتے ہیں۔ شاہ نے ان سے ملاقات پر اصرار کیا اور اپنے درباریوں کو حکم دیا کہ سید جس طرح بھی آنا چاہیں، انہیں پورے احترام کے ساتھ لایا جائے۔شیعیان علی کے وسیع تر مفادات کی خاطر، سید ہاشم اپنے گدھے پر سوار ہو کر نادرشاہ کے خیمے میں داخل ہوئے، اپنے گدھے کو خیمے کے ایک ستون سے باندھا، اور نادر شاہ ان کے استقبال کے لیے تعظیماً کھڑا ہو گیا۔ جیسے ہی سید کی نظر نادرشاہ کے چہرے پر پڑی اور انہوں نے اس کی آنکھوں میں وہی چمک دیکھی، تو انہوں نے چند بار بلند آواز سے پکارا: اللہ اکبر! اللہ اکبر! اللہ اکبر!
    نادر شاہ اس حیرت انگیز ردعمل پر دنگ رہ گیا اور اس کا سبب پوچھا؛ چنانچہ سید نے اپنا پورا خواب اس کے سامنے بیان کر دیا۔ خواب سنتے ہی نادر شاہ پر ایک عجیب رقت طاری ہوئی، اس نے فوراً ایک رسی منگوائی اور خود کو اس رسی سے باندھ لیا، اور اسی عاجزانہ اور خواب میں دیکھے گئے مملوک جانور کی مانند کیفیت میں روضۂ مقدس کی طرف چل پڑا۔ اس واقعے کے بعد، نادر شاہ جب بھی نجف اشرف میں زیارت کا ارادہ کرتا، حکم دیتا کہ اس کے گلے میں ایک پٹہ یا زنجیر ڈال دی جائے اور وہ اسی کمال نیاز مندی کے ساتھ حرمِ پاک میں داخل ہوتا تھا۔

  • اسی تاریخی و معنوی ربط کے باعث نادر شاہ کے دل میں امیرالمومنین علیہ‌السلام کی گہری محبت پیدا ہوگئی۔ اس کے ساتھ ان کی ولایت پر اس کا ایمان مزید راسخ ہوگیا۔ چنانچہ اس نے بارگاہِ مقدس کی مرمت، ایوانِ طلا کی تذہیب اور روضۂ انور کی بے نظیر تزئین و آرائش کروائی۔
  • اس واقعے کے بعد نادر شاہ نے اپنے لیے ’’سگِ آستانِ علی علیہ‌السلام، نادر قلی‘‘ کا لقب اختیار کرلیا۔ اس لقب کا مفہوم ’’علی علیہ‌السلام کے آستانے کا کتا، نادر قلی‘‘ ہے۔

مآخذ
کتاب تاریخ المرقد العلوی المطهر سے ماخوذ

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے