سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

شیخ بہائی اور حرم کی معماری

روضۂ مبارک کی تعمیر و ہندسہ میں شیخ بہائی کا معمارانہ کردار

عہد صفوی کے مایہ ناز اور عبقری دانشور، شیخ بہائی علوم دینیہ کے ساتھ ساتھ ریاضیات، علم نجوم اور ہندسیات (انجینئرنگ) میں بھی یدِ طولیٰ (امتیازی مقام) رکھتے تھے۔ تاریخی شواہد اور مستند روایات نجف اشرف میں ان کی تشریف آوری اور صحن مقدس کی معمارانہ تزئین، ڈیزائننگ اور نقشہ سازی میں ان کے کلیدی و مؤثر کردار کی حکایت کرتی ہیں۔

شیخ بہائی نے اپنے معماری علم اور فنی ذوقِ سلیم کے ذریعے حرم مقدس کے روحانی شکوہ سے ہم آہنگ فنِ تعمیر کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ بلند پایہ عمارت تاریخِ تمدنِ اسلامی میں علم، فن اور ایمان کے حسین امتزاج کا ایک نمایاں مظہر شمار ہوتی ہے۔

شیخ بہائی کا علمی و ہندسی مقام و مرتبہ

جیسا کہ معروف ہے، شیخ بہائی کو علومِ ریاضیات، ہندسہ اور نجوم میں کامل تبحر حاصل تھا۔ وہ اسطرلاب کے پیچیدہ نظام اور اس کے دقیق میکانزم سے بھی بخوبی واقف تھے۔ انہوں نے ان علوم اور خصوصاً تعیینِ قبلہ کے موضوع پر متعدد رسائل اور گراں قدر تصانیف تحریر فرمائیں۔ ان کے جلیل القدر علمی آثار میں ’’تشریح الافلاک‘‘، ’’خلاصۃ الحساب‘‘ اور ’’الاسطرلاب‘‘ شامل ہیں، جو عربی اور فارسی دونوں زبانوں میں تصنیف ہوئے۔

اس کے علاوہ، انہوں نے قبلہ کے موضوع پر ایک متمایز رسالہ بھی تحریر کیا۔ وہ شاہ عباس اول کے معتمدِ خاص اور شاہی معمار شمار ہوتے تھے۔ انہوں نے ایران میں شاہ کے لیے کئی بے نظیر عمارات کے نقشے تیار کیے اور انہیں پایۂ تکمیل تک پہنچایا۔

نجف اشرف میں شیخ بہائی کی اقامت کے شواہد

روضۂ مقدس کی نئی عمارت کی تعمیر پر نگرانی کے دوران، جس حجرے (کمرے) میں شیخ بہائی اقامت پذیر تھے۔ یہ حجرہ صحنِ شریف کے مغربی حصے کی بالائی منزل پر، باب الفرج کی سمت واقع ہے۔ یہ عین ’’پہلے غرفے‘‘ کے اوپر اور رواقِ ابوطالب علیہ‌السلام کے بائیں جانب متصل ہے۔ یہ حقیقت نجف کے مقامی باشندوں میں سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی آئی ہے اور وہاں زبان زدِ عام ہے۔ روضۂ مبارک کی تعمیراتی نگرانی کے دوران انہوں نے دو اشعار بھی کہے۔ یہ اشعار کاشی کی ٹائلوں پر کندہ کرکے باب المراد کے قریب واقع مخصوص مقام ’’الکیشوانیہ‘‘ کی دیوار پر نصب کیے گئے، جو آج بھی اس مقام کی زینت ہیں۔

شیخ بہائی کی موجودگی کا مکتوب دستاویز

ان کی مشہور تصنیف ’’کشکول‘‘ میں ایک نہایت اہم عبارت ملتی ہے۔ یہ عبارت عہدِ صفوی کے فنِ تعمیر اور نقشہ سازی میں علامہ بہائی کے اصلی کردار کی تائید کرتی ہے۔

اس کتاب میں یوں رقم ہے:

اس تحریر کا رقم کنندہ، محمد المعروف بہ بہاء الدین عاملی، نجفِ اشرف میں بارگاہ مقدس کے زائرین کے جوتوں کی حفاظت کے لیے ایک جگہ (کفش برداری) تعمیر کرنے کا عزم رکھتا ہے، اور جو دو اشعار اس کے ذہنِ رسا میں آئے ہیں، انہیں وہاں درج کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

هذا الأُفُقُ الْمُبِينُ قَدْ لَاحَ لَدَيْكَ
یہ وہ افقِ مبین اور روشن آسمان ہے جو تمہارے سامنے جلوہ گر ہو چکا ہے

فَاسْجُدْ مُتَذَلَّلاً وَعَفْرْ خَدَّيْك
پس یہاں غایتِ عاجزی اور انکساری کے ساتھ سجدہ ریز ہو جاؤ اور اپنے رخساروں کو اس خاکِ آستانہ پر رگڑو

ذا طُورُ سِينِينَ فَاغْضُضِ الطَّرْفَ بِهِ
یہ وادیِ طورِ سینا ہے، پس یہاں جلالِ الٰہی کی ہیبت سے اپنی نگاہوں کو جھکا لو

هذا حَرَمُ العِزَّةِ فَاخْلَعْ نَعْلَيْكَ
یہ عزت، عظمت اور خدائی جلال کا حرم ہے، پس اپنے جوتے اتار دو

علامہ سید نعمت اللہ جزائری (متوفی ۱۱۱۲ ہجری قمری) نے شیخ بہائی کے ان لافانی اشعار کے بارے میں کمالِ عقیدت سے فرمایا ہے:

یہ کلمات اس قابل ہیں کہ انہیں حوران بہشت کے رخساروں پر نور سے لکھا جائے۔

یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ یہ مکتوبہ کتبہ اس وقت صحنِ شریف میں موجود نہیں ہے۔ گزشتہ چار صدیوں کے دوران کاشی کاری کی مرمت اور تزئینِ نو کے مختلف مراحل میں بہت سے تاریخی و ثقافتی شواہد مٹ گئے ہیں۔ اس تحریر پر مشتمل کاشی کو سنہ ۱۳۶۹ ہجری قمری، مطابق ۱۹۴۹ء میں ہٹا دیا گیا تھا۔ یہ اقدام بارگاہ مقدس کے حجروں اور رواقوں کی دیواروں کی نوسازی اور لعاب کاری کے دوران کیا گیا۔ اس طرح وہ اہم مادی و ملموس دستاویز بھی ضائع ہوگئی، جو نجفِ اشرف میں شیخ بہائی کی مستقل موجودگی کی واضح دلیل تھی۔ یہ دستاویز مرقد مقدس کی تعمیر اور نقشہ سازی میں ان کے کلیدی کردار کو بھی ثابت کرتی تھی۔

ڈاکٹر حسن الحکیم اس ضمن میں رقم طراز ہیں:

شیخ بہائی نے صحن شریف اور بارگاہ مقدس کے فن تعمیر میں ایک عظیم کردار ادا کیا ہے، کیونکہ عرب اور مسلمان علماء و مفکرین میں شاذ و نادر ہی کوئی ایسی شخصیت ملتی ہے جو دینی علوم کے ساتھ ساتھ ریاضی، نجوم اور ہندسیات (انجینئرنگ) پر بھی اس درجے کی مضبوط گرفت رکھتی ہو۔ انہوں نے ایک طویل عرصے تک نجفِ اشرف کے ایک مدرسے میں بحیثیت استاد قیام فرمایا، جہاں ان کے اور نجف کے جلیل القدر علماء کے مابین گہرے فکری و علمی مراسم استوار ہوئے۔ اصفہان واپسی کے بعد بھی ان کے اور علمائے نجف کے درمیان شعر و نثر پر مشتمل ادبی خط و کتابت کا سلسلہ جاری رہا۔ صحن مقدس کی ڈیزائننگ کے دوران، انہوں نے زائرین کے جوتوں کی حفاظت کے لیے ایک مخصوص جگہ جوتوں کی امانتداری بھی تعمیر کروائی۔

شیخ بہائی کی معمارانہ موجودگی کا تاریخی جائزہ

بعض مورخین نے حرم مقدس کے معمارانہ نقشے کی تیاری میں شیخ بہائی کے کردار پر شکوک کا اظہار کیا ہے۔ بعض نے تو اس سلسلے میں شیخ بہائی کے کردار کی مکمل طور پر نفی بھی کی ہے۔ اس تذبذب کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ اس عمارت کی تعمیر کا آغاز شاہ عباس اول کے بجائے ان کے پوتے، شاہ صفی سے منسوب کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ شیخ بہائی شاہ صفی کے تخت نشین ہونے سے پہلے ہی رحلت فرما چکے تھے۔ چونکہ شاہ صفی سنہ ۱۰۳۸ ہجری قمری میں تخت نشین ہوئے، اس لیے بظاہر شیخ بہائی اس تعمیر میں شریک نہیں ہوسکتے تھے۔ آیت اللہ سید حسن صدر (متوفیٰ ۱۳۵۴ ہجری قمری) بھی ان معترضین میں شامل ہیں۔

ان کا مؤقف تھا کہ اس عمارت کی تعمیر شاہ عباس اول کے عہد میں شروع نہیں ہوئی۔ بلکہ وہ اسے شاہ صفی سے منسوب کرتے اور تعمیر کا آغاز سنہ ۱۰۴۷ ہجری قمری قرار دیتے تھے۔ سنہ ۱۰۵۲ ہجری قمری میں شاہ صفی کی وفات کے بعد، ان کے فرزند شاہ عباس دوم نے تعمیر کا کام جاری رکھا۔ اس طرح عمارت کی تکمیل کا مرحلہ شاہ عباس دوم کے عہد میں انجام پایا۔ اسی بنیاد پر وہ اس احتمال کو یکسر مسترد کرتے ہیں کہ مرقدِ مقدس کا معمارانہ نقشہ شیخ بہائی نے تیار کیا تھا۔ ان کے نزدیک شیخ بہائی کی وفات شاہ صفی کے حکم سے تعمیر شروع ہونے سے پہلے ہی ہوچکی تھی۔

اعتراض کا محققانہ جواب

اس نقطۂ نظر کے جواب میں نامور محقق علامہ شیخ جعفر محبوبہ یوں فرماتے ہیں:

اہل نجف کے مابین جو بات زبان زدِ عام اور مشہور ہے، وہ یہ ہے کہ اس عمارت کی تعمیر شاہ عباس اول کے دور میں ہوئی، اور اس امر میں کوئی شک و شبہہ نہیں ہے۔ نجف کے باشندوں نے اس روایت کو نسل در نسل قبول کیا ہے اور وہ اسے تواتر سے نقل کرتے آئے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے وہ اپنے دیگر مقاماتِ مقدسہ اور تاریخی آثار کے بارے میں کرتے ہیں۔ مزید برآں، معتبر تاریخی منابع بھی اس عوامی شہرت کی تائید کرتے ہیں؛ جیسا کہ فارسی کتب منتظم ناصری اور ملحق روضۃ الصفا میں صراحت سے ذکر موجود ہے کہ گنبد، صحن مقدس اور روضۂ مبارک کی تعمیر شاہ عباس اول کے عظیم کارناموں میں سے ہے۔ چنانچہ، اس عظیم معمارانہ کام کی نسبت شیخ بہائی کی طرف کرنا کاملاً درست ہے جو شاہ عباس کے ہم عصر تھے۔ بالخصوص اس لیے بھی کہ ہمیں تاریخ میں ایسی کوئی رپورٹ نہیں ملتی جو یہ ظاہر کرے کہ شاہ عباس دوم نے یہ گنبد بنوایا ہو یا وہ کبھی نجف کی زیارت کے لیے بھی آیا ہو۔سید حسن صدر نے اپنے دعوے کی تائید میں محمد بن زویر السلیمانی اور سید علی شولستانی کے اقوال سے استناد کیا ہے۔ لیکن میں نے سید علی شولستانی کے کلام سے جو کچھ پایا ہے جیسا کہ مزار البحار اور شیخ یوسف بحرانی کی کشکول میں نقل ہوا ہے اس سے نہ تو شاہ صفی کے حکم سے تعمیر کا آغاز اور شاہ عباس دوم کے فرمان سے اس کا اختتام ثابت ہوتا ہے، اور نہ ہی عمارت کی ساخت میں شاہ عباس اول کے کلیدی کردار کی نفی ہوتی ہے۔

حتمی نتیجہ

ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ سید حسن صدر اور ان کے ہم خیال افراد کا مؤقف تاریخی تسامح کے سوا کچھ نہیں۔ یہ مؤقف مستند تاریخی متون اور شواہد سے صریحاً مطابقت نہیں رکھتا۔ معتبر تاریخی منابع میں واضح طور پر درج ہے کہ اس عمارت کی تعمیر سنہ ۱۰۲۳ ہجری قمری میں شاہ عباس اول کے عہد سلطنت میں شروع ہوئی۔ اس تاریخ کو مرقدِ مقدس کے قدیم لکڑی کے دروازے پر بھی کندہ کیا گیا تھا۔ اس کا واضح مفہوم یہ ہے کہ اس وقت شیخ بہائی بقیدِ حیات تھے۔ مرقد مقدس پر نئی عمارت کی بنیاد بھی ان کی زندگی ہی میں رکھی جاچکی تھی۔

الغرض، متعدد تاریخی شواہد اور ناقابلِ تردید دلائل اس امر کی تصدیق کرتے ہیں۔ شیخ بہائی نے اس مقدس عمارت کی ہندسیات اور نقشہ سازی میں نہایت اہم کردار ادا کیا۔ ان کی یہ غیر معمولی اور استثنائی معمارانہ عبقریت (نبوغ) توفیقِ الٰہی اور عنایت علوی کا مظہر تھی۔ خداوند متعال انہیں نیکوکاروں کے بہترین اجر سے نوازے۔ اور امیرالمومنین علیہ‌السلام کی شفاعتِ کبریٰ نصیب فرمائے۔

ماخذ
کتاب تاریخ المرقد العلوی المطهر سے ماخوذ

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے