حرم مقدس کی اہم معماری اور ہندسی خصوصیات
گنبدِ مقدس اور میناروں کا بے نظیر تناسب
حرم مقدس کے موجودہ معمارانہ خصائص میں سب سے نمایاں وصف اس کا پیازی شکل کا گنبد ہے۔ جس کی بلندی صحن مقدس شریف کے فرش سے لے کر عمارت کے آخری سرے (رأس) تک ۳۰ میٹر ہے۔ یہ نورانی گنبد نہ صرف پورے معماری مجموعے کا بصری مرکز ہے۔ بلکہ پوری عمارت کے ہندسی و معماری توازن کا نقطۂ ثقل بھی شمار ہوتا ہے۔ جو چیز اس عمارت مقدس کو ائمہ معصومین علیہمالسلام کے دیگر مراقدِ مطہرہ سے متمایز کرتی ہے، وہ گنبد اور میناروں کے مابین بلندی کا تفاوت ہے۔ اس طور پر کہ دونوں میناروں میں سے ہر ایک مینار، گنبد سے ۱.۵ میٹر چھوٹا ہے۔
عمارت کے آخری سرے تک ہر مینار کی بلندی ۲۸.۵۰ میٹر شمار کی گئی ہے۔ یہ خاص تناسب، تمام مقامات مقدسہ میں بے نظیر اور صرف حرم مقدس سے ہی مخصوص ہے۔
حرم کے بیرونی رخ کے تناسبات میں پوشیدہ ہندسی اسرار
گنبد اور میناروں کی بلندی کے یہ تناسب دقیق ہندسی حسابات کی بنیاد پر متعین کیے گئے ہیں۔ ان میں حرم کے بیرونی رخ پر باہم متداخل مخمس اشکال کے جال میں موجود مرجعی نقاط سے بھی استفادہ کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر، اگر ایک مخمسِ منتظم ترسیم کیا جائے اور اس کے دو اضلاع کا نقطۂ تقاطع ایوانِ طلا (سنہری ایوان) کے وسط پر منطبق ہو، تو یہ ہندسی ساخت دونوں میناروں کو اپنے احاطے میں لے لیتی ہے اور اس کا بالائی ضلع بعینہٖ گنبد کے شعاعی تاج پر منطبق ہو جاتا ہے۔
اس ترتیب کے مطابق گنبد یا میناروں کی بلندی میں معمولی سی تبدیلی بھی اس مخفی مخمسی تناسب کو متاثر کرسکتی ہے۔ یہی امر اس مقدس عمارت کے فنِ تعمیر میں علم ہندسہ کے بے مثال عجائبات کا شاندار مظہر ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ روضۂ حیدری کے فنِ تعمیر میں پوشیدہ اسرار اور عمیق معانی ہر کسی کی دسترس میں نہیں۔ ان کا ادراک علم و فضل کے کم نظیر نابغۂ روزگار ہی کرسکتے ہیں، اور بلاشبہ ان میں شیخ بہائی رضوان اللہ علیہ کی ذات گرامی نمایاں ہے۔
دیگر عتبات کے برعکس ایک متمایز داخلی رخ
اس معمارانہ اسلوب کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ حرم مقدس کا مرکزی داخلی راستہ مشرقی جانب واقع ایوانِ طلا میں قائم ہے۔ یہ راستہ حضرت امیرالمومنین علیہالسلام کے پائینتی، یعنی پاؤں کی جانب سے حرم میں داخل ہونے کی راہ فراہم کرتا ہے۔ جبکہ ائمہ معصومین علیہمالسلام کے دیگر اکثر بقاعِ متبرکہ میں مرکزی دروازہ جنوبی جانب، یعنی قبلہ رُخ، قائم کیا گیا ہے۔ اس سمت سے داخل ہونے والا زائر حضرت کے سرِ مبارک کی جانب قرار پاتا ہے۔
حرم مقدس کے نقشے میں قدموں کی سمت سے داخلی راستے کا انتخاب مکمل طور پر شعوری اور بامقصد تھا۔ یہ طرزِ تعمیر مولائے کائنات حضرت علی بن ابیطالب علیہالسلام کی بارگاہ میں انتہائی خضوع، ادب اور فروتنی کی واضح علامت سمجھا جاتا ہے۔ اسی لیے روضۂ حیدری کے اصل معمارانہ نقشے میں مغربی سمت، یعنی سرِ مبارک کی جانب، مرکزی دروازہ نہیں رکھا گیا۔ بظاہر یہ طرزِ تعمیر اسی روحانی فلسفے اور معنوی تصور کی عکاسی کرتا ہے۔
شعاعِ آفتاب کے زاویے کا انتخاب
اس کے علاوہ، گنبدِ نورانی پر سورج کی شعاعوں کے زاویۂ تابش کو منظم کرنا بھی اسی صورت میں ممکن تھا۔ اس کے لیے ضروری تھا کہ حرم کا بڑا ایوان مشرقی سمت میں واقع ہو۔ یہ انتخاب، اپنے فنی اور ہندسی فوائد کے علاوہ ایک علامتی اور رمزی پیغام کا حامل بھی ہے۔ کسی بھی نکتہ سنج محقق سے یہ حقیقت پوشیدہ نہیں کہ مادی اور اعتقادی پہلوؤں کے درمیان یہ ہم آہنگی نہایت گہرا مفہوم رکھتی ہے۔
طلوعِ آفتاب اور اس حقیقت کے درمیان یہ ربط کہ امیرالمومنین علیہالسلام ’’نورِ خدا‘‘ ہیں، ایک رمزی اور منفرد معنی کا حامل ہے۔ یہ علامتی ربط ایک گہرے روحانی اور معنوی اشارے کی حیثیت رکھتا ہے۔ یقیناً شیخ بہائی نے مکتبِ تشیع کے اعتقادی معارف اور محبتِ اہلِ بیت علیہمالسلام کے بحرِ بیکراں سے الہام حاصل کیا۔ انہوں نے اس الہام کو اس مقدس عمارت کے کالبدِ تعمیر میں نہایت خوبصورتی سے متجلی کیا۔
فن تعمیر میں فضائی ساخت اور ماحولیاتی تدابیر
حرم مقدس، صحنِ شریفِ حیدری کے وسط میں واقع ہے۔ عیہ صحن چوکور (مربع) شکل کا ہے اور تین حصوں یا چھوٹے صحنوں (مشرقی، شمالی اور جنوبی) میں منقسم ہے۔ یہ وسیع و عریض صحن ایک بلند دیوار کے احاطے میں ہے جس کے اندر دو طبقات (منزلوں) پر مشتمل حجروں کا ایک منظم مجموعہ قائم ہے۔ ہر حجرے کے اوپر ایک ایوان یا نشیمن تعمیر کیا گیا ہے، جن کی مجموعی تعداد ۹۹ ہے۔ یہ تعداد بظاہر ایک رمزی و علامتی دلالت کے تحت اسمائے حسنیٰ کی طرف لطیف اشارہ کرتی ہے، جس سے اس فضا کی معنوی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔
اوپری منزل تک رسائی کے راستے
زمینی منزل اور بالائی منزل کے مابین رابطہ پانچ لہر دار یا چکر دار زینوں کے ذریعے قائم ہوتا ہے؛ اس ترتیب کے تحت شمالی سمت میں دو زینے اور جنوبی سمت میں بھی دو زینے تعمیر کیے گئے ہیں۔ جبکہ صحن کے مشرقی ضلع میں ایک زینہ بنایا گیا ہے۔ یہ نپی تلی اور حساب شدہ ترتیب اپنے عملی فوائد کے ساتھ دیگر اہم مقاصد بھی پورے کرتی ہے۔ اس سے صحن میں زائرین کی آمد و رفت اور انسانی بہاؤ کی متوازن تقسیم میں مدد ملتی ہے۔
ماحولیاتی تدابیر اور موسمیاتی بنیادی ڈھانچہ
روضۂ مقدس کے اس بے مثال فنِ تعمیر میں مختلف ’’ماحولیاتی پہلوؤں‘‘ کا واضح اطلاق نظر آتا ہے۔ ان میں فرش کی آخری تہہ بچھانے سے قبل زمین کی بنیادوں کی مرمت اور تیاری بھی شامل ہے۔ یہ ہوشمندانہ تدابیر تعمیراتی مصالح کے انتخاب اور عمارت کی ساخت کے طریقہ کار، دونوں میں جلوہ گر ہیں۔ ان اقدامات کا بنیادی مقصد اس عمارت کو نجف کے سخت موسمی حالات سے ہم آہنگ بنانا تھا۔ بالخصوص، شدید گرمی اور مسلسل آنے والے گرد و غبار کے طوفانوں سے تحفظ کو مدنظر رکھا گیا۔
یہ معمارانہ اسلوب، جسے عصرِ حاضر میں ’’پائیدار فنِ تعمیر‘‘ کہا جاتا ہے، کئی اہم اصولوں پر مبنی ہے۔ ان میں توانائی کی بچت، اندرونی ماحول کے معیار میں بہتری اور قدرتی ماحول کا تحفظ شامل ہیں۔ اس کے ساتھ زائرین کے لیے طویل المدتی اور پائیدار آسائش کی فراہمی بھی اس کے بنیادی مقاصد میں شامل ہے۔
مقامی مصالح کا استعمال اور موسم کا حکیمانہ جواب
اس عمارت کی تعمیر میں خطے میں دستیاب قدرتی تعمیراتی مصالح سے استفادہ کیا گیا ہے۔ ان میں پکی ہوئی اینٹیں، یعنی سوراخ دار طابوق، گچ اور لکڑی شامل ہیں۔ عریض و ضخیم دیواریں اور بادگیر سے مزین گنبد نما حجرے باہم مل کر مؤثر حرارتی عایق کا کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ عناصر قدرتی ہواداری کے ایک مؤثر نظام کو بھی تشکیل دیتے ہیں۔ یہ ایک ایسا کارآمد نمونہ ہے جس کی مثالیں قدیم شہروں کے روایتی طرزِ تعمیر میں کثرت سے ملتی ہیں۔
حرم کی عمارت میں روشنی اور ہواداری کے پوشیدہ نظام
خود حرم مقدس کی عمارت کے اندر بھی نہایت دقیق اور حکمت پر مبنی ڈیزائننگ کی گئی ہے۔ اس میں اندرونی اور بیرونی گنبدوں کے درمیان وسیع فضا، کھڑکیوں کی درست تنصیب اور حرم کی چھت کے نیچے راہداریوں کا ایک منظم نیٹ ورک شامل ہے۔
یہ راہداریاں چھت کی سطح پر موجود مخصوص ہواداری کے سوراخوں کے ذریعے دیکھی جا سکتی ہیں۔ یہ تدابیر مل کر توانائی کی بچت کا ایک مؤثر نظام تشکیل دیتی ہیں۔ یہ نظام حرارتی تحفظ فراہم کرنے کے ساتھ مطلوبہ ہواداری کا انتظام بھی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ، قدرتی روشنی کو متوازن انداز میں اندرونی فضا تک پہنچانے میں بھی مدد دیتا ہے۔
مآخذ
کتاب تاریخ المرقد العلوی المطهر سے ماخوذ