واقعۂ غدیرِ خم، تاریخِ اسلام کا ایک ایسا بے مثل اور بے نظیر نقطۂ عطف ہے جہاں پیامبرِ اکرم (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) نے حضرت امیرالمؤمنین علی (علیہالسلام)کو اپنے ولی، مولیٰ اور جانشین کے طور پر متعارف کروا کر دینِ خدا کے کامل ہونے اور نعمتِ الٰہی کے اتمام کا باقاعدہ اعلان فرمایا۔ لیکن اس عظیم دن کی فضیلت محض اسی ایک واقعے تک محدود نہیں ہے؛ بلکہ معتبر روایات کے مطابق، غدیر کا دن پوری تاریخِ بشریت میں اوصیاء اور الٰہی رہنماؤں کے تعین کی اسی ابدی سنتِ الٰہیہ کا تسلسل ہے۔
انبیائے الٰہی کی سنت کے ساتھ غدیر کا پیوند
غدیر صرف ایک تاریخی واقعے کی یاد دہانی کا نام نہیں ہے؛ بلکہ اہلِ بیتِ اطہار (علیہمالسلام) کی روایات میں اسے ایک ایسے مبارک دن کے طور پر یاد کیا گیا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہالسلام) کی توبہ قبول فرمائی، حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو نمرود کی آگ سے نجات دی اور گزشتہ انبیائے الٰہی نے اپنے اپنے جانشینوں کا اعلان فرمایا۔ غدیر دراصل اس سنتِ الٰہیہ کا جلوہ ہے جو انبیائے کرام کی تاریخ میں ہمیشہ دہرائی جاتی رہی ہے: یعنی ہدایت کی امانت کو وصی کے سپرد کرنے اور رسالت کے راستے کو جاری رکھنے کی سنت۔ اہلِ بیت (علیہمالسلام) کی نگاہ میں، یہ دن کائنات کے تمام الٰہی عزم و عہد اور پیمانوں کو آپس میں جوڑنے والا محکم حلقہ ہے۔ ذیل میں آپ حضرت امام جعفر صادق (علیہالسلام) کی وہ مقتدر حدیثِ مبارکہ ملاحظہ فرما رہے ہیں جو غدیر اور انبیائے الٰہی کی سنت کے درمیان اس گہرے اور ملکوتی پیوند سے پردہ اٹھاتی ہے۔
جنابِ مفضل نے امام جعفر صادق (علیہالسلام) کی بارگاہ میں عرض کیا: "اے میرے مولیٰ و آقا! کیا آپ مجھے اس دن (یعنی غدیر کے دن) روزہ رکھنے کا حکم دیتے ہیں؟”
حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) نے ارشاد فرمایا: "جی ہاں، خدا کی قسم! جی ہاں، خدا کی قسم! یہ وہی دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہالسلام) کی توبہ قبول فرمائی تھی، اور انہوں نے بارگاہِ الٰہی میں شکرانے کے طور پر اس دن روزہ رکھا تھا۔
اور یہ وہی دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم (علیہالسلام) کو آگ سے نجات عطا فرمائی تھی، اور انہوں نے بھی خدا کے شکرانے کے لیے اس دن روزہ رکھا تھا۔
اور یہ وہی دن ہے جس میں حضرت موسیٰ (علیہالسلام) نے حضرت ہارون (علیہالسلام) کو اپنے جانشین اور رہنما کے طور پر قوم کے سامنے پیش کیا تھا، اور انہوں نے بھی پروردگار کے شکرانے کے طور پر اس دن روزہ رکھا تھا۔
اور یہ وہی دن ہے جس میں حضرت عیسیٰ (علیہالسلام) نے اپنے وصی جنابِ شمعون صفا (پطرس) کی امامت کو آشکار و نمایاں فرمایا تھا، اور انہوں نے بھی اللہ کے شکرانے کے لیے اس دن روزہ رکھا تھا۔اور یہ وہی (عظیم الشان) دن ہے جس میں رسولِ خدا (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) نے امیرالمؤمنین علی (علیہالسلام) کو لوگوں کے درمیان ہدایت کا علم (نشان) اور رہبر منصوب فرمایا اور ان کے فضائل و مناقب کو کائنات پر ظاہر کیا؛ پس آنحضرت (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) نے بھی بارگاہِ الٰہی میں شکر بجا لانے کے لیے اس مبارک دن کا روزہ رکھا۔”[۱]
ولایت؛ انبیائے کرام کی مشترکہ میراث
بعض ایام محض وقت کا ایک عام حصہ نہیں ہوتے، بلکہ وہ تاریخ کے دھارے میں بہتی ہوئی ایک دائمی اور زندہ حقیقت کے حامل ہوتے ہیں۔ یہ وہ دن ہیں جن میں "ہدایت کی الٰہی امانت” ایک پیغمبر کے دستِ مبارک سے ان کے سچے وصی کے سپرد کی گئی اور دین کا الٰہی سفر جاری و ساری رہا۔
اسی تسلسلِ ہدایت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت امیرالمؤمنین (علیہالسلام) نے ارشاد فرمایا:
"یہ دن (غدیر) حضرت شیث (علیہالسلام) کا دن ہے؛ یہ دن حضرت ادریس (علیہالسلام) کا دن ہے؛ یہ دن جنابِ یوشع بن نون (علیہالسلام) کا دن ہے؛ اور یہ دن جنابِ شمعون صفا (علیہالسلام) کا دن ہے۔”[۲]
[۱] عوالم العلوم، ج۲، ص۲۱۲
[۲] مصباح المتهجد، ج۱، ص۷۵۵؛ مناقب آل ابیطالب، ج۲، ص۲۴۳؛ بحارالانوار، ج۳۷، ص۱۶۴