رِجز ایک خاص قسم کی شعر خوانی ہے جسے بہادر اور سورما نبرد آزمائی (جنگ) کے آغاز میں پڑھا کرتے تھے۔ روزِ عاشورا بھی حضرت سیدالشہداء (علیہالسلام) کے جانثاروں اور خود آپ (علیہالسلام) کی ذاتِ گرامی نے ایسے رجز پڑھے جن کا ذکر مقتل کی کتابوں میں ملتا ہے۔
یہ رجز، یار و انصار کے حوصلوں کو جلا بخشنے کے ساتھ ساتھ، حق کی مظلومیت اور امام (علیہالسلام) کے الٰہی منصب کو آشکار کرتے ہیں اور الٰہی اصولوں نیز امیرالمؤمنین (علیہالسلام) کی اقدار سے وفاداری کے عہد کو ایک حماسی انداز میں پیش کرتے ہیں۔
رجز خوانی کا مقصد
- پہلا اور اہم ترین مقصد: میدانِ کارزار میں رجز کا سب سے پہلا اور بنیادی مقصد سامنے موجود حریف اور دشمن کے پورے لشکر کو اپنا تعارف کروانا ہوتا ہے۔
- دوسرا مقصد: رجز کا دوسرا مقصد اپنے حسب و نسب کو بیان کرنا ہے، جس کے ذریعے ایک مجاہد اپنی ذات پر فخر کرتا ہے اور دشمن کے سامنے اپنی برتری ثابت کرتا ہے۔
عاشورا کی دوپہر کے بعد، امام حسین (علیہالسلام) نے اپنے اہلِ بیت سے الوداعی ملاقات کی اور میدانِ جنگ کا رخ کیا۔ آپ (علیہالسلام) ایک طویل، پرصلابت اور باوقار رجز پڑھتے جاتے اور شمشیر زنی کرتے جاتے تھے۔
جبهۂ کفر کی حقیقت کا بیان
سید الشہداء (علیہالسلام) نے اپنی رجز خوانی میں اہلِ بیت کی شجاعت اور امیرالمؤمنین (علیہالسلام) و ان کی اولاد سے روا رکھی جانے والی بے جا دشمنی کا ذکر کر کے یہ ثابت کیا کہ عاشورا کا یہ سفر مولائے متقیان کی حق طلبی اور عدل و انصاف کی تحریک کا ہی تسلسل ہے۔
روزِ عاشورا امام حسین (علیہالسلام) نے میدانِ جنگ میں اترنے سے پہلے فرمایا:
"اس گروہ نے کفر کا راستہ اختیار کیا اور ربالعالمین کے اجر و ثواب سے منہ موڑ لیا۔ اس سے پہلے میرے والد علی (علیہالسلام) اور میرے بھائی حسن (علیہالسلام) جو کہ عظمت و کرامت کے بے نظیر نمونے تھے، ان کی بغض و عداوت کا نشانہ بنے۔ اب انہوں نے اسی کینے اور دشمنی کے تحت مجھ پر حملے کا قصد کیا ہے۔
افسوس ہے ان پست لوگوں پر جنہوں نے خاتمالانبیاء کے اہلِ بیت کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنا لشکر اکٹھا کیا ہے۔ انہوں نے دو بدعنوان اور بدسرشت افراد (یزید اور ابنِ زیاد) کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے میرا خون بہانے کا باہمی عہد کیا ہے۔ اس راہ میں، ایک ناپاک عورت کے بیٹے، عبید اللہ کو راضی کرنے کے لیے انہیں اللہ کے غضب کا کوئی خوف اور پروا نہیں۔ عمر بن سعد نے بھی ظلم و ستم کی انتہا کرتے ہوئے مجھے اپنے لشکر کا نشانہ بنایا ہے؛ وہ لشکر جو ہر طرف سے سیلاب کی مانند امڈ آیا ہے۔”
نسبِ عالی پر تفاخر
امام حسین (علیہالسلام) نے اپنے رجز کے ایک حصے میں امیرالمؤمنین (علیہالسلام) کے والا تبار کردار کی طرف اشارہ فرمایا اور آپ (ع) کو انبیاء کا وارث، میدانِ جنگ کا ہیرو اور کٹھن ترین لمحوں میں خاتم الانبیاء کا سچا ساتھی قرار دیا۔ اس کے ساتھ ہی، رسول اللہ (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) اور حضرت فاطمہ زہرا (سلاماللہعلیہا) کے ساتھ اپنے خاندانی رشتے کو یاد دلا کر اپنے نسب کے مایہِ ناز ہونے پر زور دیا۔
امام حسین (علیہالسلام) نے فرمایا:
"میرا کوئی گناہ نہیں ہے، سوائے اس کے کہ میں دو درخشندہ ستاروں کے نور پر فخر کرتا ہوں: ایک امیرالمؤمنین علی (علیہالسلام)، جو رسولِ اکرم (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) کے بعد سب سے بہترین انسان ہیں، اور دوسرے خود خاتمالانبیاء، جو قریش کے اعلیٰ نسب سے ہیں۔ اللہ کے تمام بندوں میں سے برگزیدہ ہستیاں میرے والدین ہیں، اور میں ان دونوں عظیم شخصیتوں کا فرزند ہوں؛ گویا چاندی جو سونے کا نچوڑ ہو۔ میں چاندی ہوں اور دو انمول موتیوں کا بیٹا ہوں، میری ماں فاطمہ زہرا (سلاماللہعلیہا) ہیں اور میرے والد انبیاء کے وارث اور جن و انس کے سردار ہیں۔
یہ وہی ذات ہے جس نے بدر، احد اور حنین کے معرکوں میں اپنی شجاعت کے جوہر دکھائے اور بڑے بڑے سورماؤں کو زیر کیا۔ جنگِ احد میں اپنی جوانمردی سے دلوں کو ڈھارس بندھائی، دشمن کے لشکر کو تتر بتر کیا اور غزوہِ احزاب، فتحِ مکہ اور دیگر میدانوں میں مومنین کے پشت پناہ بنے۔ وہ خیبر کے فاتح ہیں جنہوں نے اپنی ذوالفقار سے دشمن کے قلب پر وار کیا اور ان کی صفوں کو اکھاڑ پھینکا۔ اسی عظیم مرد نے خدا کی راہ میں دشمن کے ان لشکروں کو نیست و نابود کیا جو حنین میں انتقام کی آگ لیے اکٹھے ہوئے تھے۔
مگر اس ناشکر گزار امت نے ان دو گراں قدرسرمایوں (ثقلین) کے ساتھ کیا سلوک کیا؟ پیغمبر(صلیاللہعلیہوآلہوسلم) کی پاک عترت اور امیرالمؤمنین علی (علیہالسلام) کے خاندان کے ساتھ، جو میدانِ جنگ کے شہسوار ہیں۔
بھلا کس کے پاس جعفر جیسا چچا ہے؟ وہ جعفر جنہیں خدا نے دو پر عطا کیے ہیں۔ کس کے پاس خاتمالانبیاء جیسا نانا اور امیرالمؤمنین علی (علیہالسلام) جیسا عظیم باپ ہے؟ میں انسانیت کے ان دو عظیم نمونوں کا بیٹا ہوں۔
میرے والد سورج کی مانند ہیں، میری والدہ چاند کی طرح ہیں، اور میں وہ ستارہ ہوں جو چاند اور سورج کے نور سے پیدا ہوا ہے۔ میرے نانا رسول خدا ہیں جو انسانیت کے لیے ہدایت کا چراغ ہیں۔ میرے شفیق والد وہ ہیں جنہوں نے دونوں بیعتوں (بیعتِ عقبہ اور بیعتِ رضوان) پر پوری استقامت کے ساتھ پہرا دیا۔”
مولائے متقیان کی ذات پر مباہات
امام حسین (علیہالسلام) نے اپنے رجز کے دوسرے حصے میں امیرالمؤمنین (علیہالسلام) کی شان میں انہیں میدانِ کارزار کا ببر شیر اور اہلِ بیت کا گراں قدر ورثہ قرار دیا۔ آپ (علیہالسلام) نے لوگوں کی ہدایت میں اہلِ بیت کے کردار اور بارگاہِ الٰہی میں شیعیان کے بلند مرتبے پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
امام حسین (علیہالسلام) نے میدانِ کارزار میں للکار کر فرمایا:
"امیرالمؤمنین علی (علیہالسلام) بہادر، دلاور، شجاع، سخی، عالی ظرف اور قوی ہیکل تھے۔ وہ دین کی مضبوط رسی ہیں؛ وہی امیرالمؤمنین (علیہالسلام) جو حوضِ کوثر کے مالک ہیں اور جنہوں نے دو قبلوں کی طرف نماز ادا کی۔
انہوں نے سات سال کی عمر سے ہی رسول اللہ (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) کے ساتھ خدا کی عبادت کی، جبکہ اس وقت زمین پر ان دو کے سوا کوئی نماز پڑھنے والا نہ تھا۔ انہوں نے آنکھ کھولتے ہی بتوں سے منہ موڑ لیا اور قریش کی طرح کبھی ایک بار بھی بتوں کے سامنے سجدہ نہیں کیا۔ جس دور میں تمام قریش بت پرستی میں غرق تھے، انہوں نے اپنے بچپن اور جوانی کے عروج میں صرف اور صرف خدائے واحد کی پرستش کی۔
میرے والد شجاعت کے میدان کے شیر تھے؛ وہ ہاتھ میں نیزہ تھامتے اور جس طرف رخ کرتے، کاری ضرب لگاتے۔ ان کے قدم شیر کی طرح پرصلابت تھے، لیکن کینہ پرور دشمنوں نے ان تمام بزرگوں کو ایک ایک کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ میں اسی امیرالمؤمنین علی (علیہالسلام) کا بیٹا ہوں جو خاندانِ ہاشم کے سب سے نیک انسان ہیں؛ اگر میں اپنے افتخارات بیان کرنا چاہوں تو میرے لیے یہی کافی ہے کہ میرے نانا اللہ کے رسول اور کائنات کی افضل ترین مخلوق ہیں۔ ہم زمین کو منور کرنے والے اور اس کی ہدایت کے چراغ ہیں۔
میری والدہ فاطمہ (سلاماللہعلیہا) حضرت محمدِ (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) کی پاک نسل سے ہیں اور میرے چچا جعفر ذوالجناحین (دو پروں والے) ہیں۔ قرآن کی سچی آیات ہماری شان میں نازل ہوئیں اور الٰہی ہدایت ہمارے ہی گھرانے سے جاری و ساری ہے۔
وحیِ الٰہی نے ہمیشہ ہمارا ذکرِ خیر کیا ہے۔ ہم زمین کے تمام انسانوں کے لیے خدا کی امانت ہیں اور ہم نے ہر حال میں اس حقیقت کا ثبوت دیا ہے۔ حوضِ کوثر کی ذمہ داری ہماری ہے اور ہم اپنے چاہنے والوں کو رسول اللہ (صلیاللہعلیہوآلہوسلم) کے جام سے سیراب کریں گے؛ اور یہ وہ حقیقت ہے جس کا انکار ممکن نہیں۔
ہمارے شیعہ لوگوں میں سب سے زیادہ شریف اور معزز ہیں، اور ہمارے دشمن قیامت کے دن سراسر خسارے اور نقصان کے سوا کچھ نہیں پائیں گے۔”
مآخذ
المناقب، جلد ۴، صفحۀ ۷۹