سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

مولائے کائنات حضرت آدم ابوالبشر کی حکمت و معرفت کے وارث

حضرت آدم علیہ‌السلام اللہ کے پہلے پیغمبر اور نوع انسانی کے باپ ہیں، جنہیں قرآن کریم کے مطابق، خدا نے مٹی سے پیدا کیا، انہیں اسماء (تمام چیزوں کے نام اور حقائق) کی تعلیم دی اور پھر فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم کو سجدہ کریں۔

امیرالمومنین علیہ‌السلام پہلے امام اور انبیائے الٰہی کے علوم کے وارث ہیں۔ آپ حضرت آدم علیہ‌السلام سمیت انبیائے الٰہی کی راہ کو آگے بڑھانے والے ہیں۔

امیرالمومنین علیہ‌السلام کا سابقہ انبیائے الٰہی کے ساتھ معنوی تعلق نمایاں ہے۔ یہ تعلق سلسلۂ ہدایتِ الٰہی میں آپ کے خصوصی اور ممتاز مقام کو ظاہر کرتا ہے۔

حسد کی سزا اور توبہ کی چابی

پیغمبر اکرم صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے بارہا حضرت آدم علیہ‌السلام کے مقام و مرتبے کی طرف اشارہ فرمایا۔ آپ نے انہیں زمین پر خدا کے پہلے خلیفہ اور پہلے انسان کے طور پر بیان فرمایا۔

رسول اکرم صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے خطبۂ غدیر میں امیرالمومنین علیہ‌السلام سے حسد کے انجام سے خبردار فرمایا۔ آپ نے حضرت آدم علیہ‌السلام کے ہبوط کی وجہ بیان کرتے ہوئے امت کی ہدایت و نگہبانی میں امیرالمومنین علیہ‌السلام کے حساس کردار کو بھی واضح فرمایا:

«اے لوگو! شیطان نے آدم کو حسد کے ذریعے جنت سے نکلوا دیا۔ خبردار! علی (علیہ‌السلام) سے حسد نہ کرنا کہ تمہارے اعمال برباد ہو جائیں گے اور تمہارے قدم لڑکھڑا جائیں گے۔ آدم کو محض ایک خطا کی وجہ سے زمین پر بھیج دیا گیا حالانکہ وہ اللہ کے برگزیدہ بندے تھے، پس تمہارا کیا حال ہوگا جبکہ تم (عام انسان) ہو اور تمہارے درمیان خدا کے دشمن بھی موجود ہیں۔»[۱]

اسی طرح، پیغمبر اکرم صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے حضرت آدم علیہ‌السلام کی داستان اور توبہ کا ذکر فرمایا۔ آپ نے توبہ کی قبولیت اور رضائے الٰہی کے حصول کے لیے اہل بیت علیہم‌السلام، بالخصوص امیرالمومنین علیہ‌السلام سے توسل کی اہمیت بیان فرمائی:

اللہ کے رسولِ اکرم صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ سے ان کلمات کے بارے میں پوچھا گیا جو آدم نے اپنے پروردگار سے سیکھے تھے اور جن کے بعد خدا نے ان کی توبہ قبول فرمائی؛ تو پیغمبرِ اکرم نے ارشاد فرمایا:

«آدم (علیہ‌السلام) نے خدا کو محمد، علی، فاطمہ، حسن اور حسین (علیہم‌السلام) کی آبرو کا واسطہ (قسم) دیا کہ وہ ان کی توبہ قبول فرمائے۔»[۲]

پہلے پیغمبرِ الٰہی کے بارے میں حضرت امیر علیہ‌السلام کی روایت

امیرالمومنین علیہ‌السلام سے منقول خطبات، مکتوبات اور حکمتوں میں دس انبیائے الٰہی کے نام مبارک ذکر ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک حضرت آدم علیہ‌السلام ہیں۔

امیرالمومنین علیہ‌السلام اپنے ارشادات میں حضرت آدم علیہ‌السلام کے ممتاز مقام کی طرف اشارہ فرماتے ہیں۔

آپ انہیں زمین پر اللہ کے پہلے خلیفہ اور پہلے انسان کے طور پر کلیدی کردار کا حامل قرار دیتے ہیں۔

زمین کے پھیلائے جانے اور اللہ کے نافذالعمل ارادے کو واضح کرتے ہوئے، آپ حضرت آدم علیہ‌السلام کے مقام کو بیان فرماتے ہیں۔

آپ انہیں زمین کی آبادکاری اور نظم و نسق کے لیے منتخب کی گئی برتر مخلوق قرار دیتے ہیں۔

امیر‌المومنین علیہ‌السلام نے ارشاد فرمایا:

«جب اللہ نے اپنی زمین کو پھیلایا اور اپنے امر کو نافذ و جاری کیا، تو آدم علیہ‌السلام کو اپنی بہترین مخلوق کے طور پر منتخب فرمایا اور انہیں اپنی پہلی تخلیق قرار دیا۔»[۳]

مولائے کائنات علیہ‌السلام ایک اور روایت میں سورۂ بقرہ کی آیت ۳۰ کی روشنی میں حضرت آدم علیہ‌السلام کے مشن کی وضاحت فرماتے ہیں۔

آپ اشارہ فرماتے ہیں کہ پوری زمین انسان کے لیے مسخر ہے اور نسلِ انسانی کے تکامل کا ذریعہ ہے۔

امیر‌المومنین علیہ‌السلام نے سورۂ بقرہ کی آیت ۳۰ «إنّي جاعِلٌ في الأرضِ خَلیفَةً؛ (بے شک میں زمین میں ایک جانشین بنانے والا ہوں)» کے بارے میں فرمایا:

«یہ پوری کی پوری زمین آدم علیہ‌السلام کے لیے تھی۔»[۴]

اسی طرح، ان الٰہی کلمات کا ذکر بھی اہل بیت علیہم‌السلام کے بلند مرتبے کو نمایاں کرتا ہے۔ انہی کلمات کے وسیلے سے حضرت آدم علیہ‌السلام نے بارگاہِ خداوندی میں توبہ کی۔

اس سے مراد یہ ہے کہ اہل بیت علیہم‌السلام ہی وہ مقدس کلمات ہیں جو اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ‌السلام کو سکھائے۔ انہی کے وسیلے سے حضرت آدم علیہ‌السلام نے رجوع اور توبہ کی راہ پائی۔

امیر‌المومنین علیہ‌السلام نے ارشاد فرمایا:

«ہم ہی وہ کلمات ہیں جنہیں آدم علیہ‌السلام نے اپنے پروردگار سے حاصل کیا اور ان کے ذریعے خدا کی بارگاہ میں توبہ کی۔»[۵]

حضرت آدم علیہ‌السلام کی توبہ کا دن

امام جعفر صادق علیہ‌السلام حضرت آدم علیہ‌السلام کی توبہ کی قبولیت کی طرف اشارہ فرماتے ہیں۔ آپ بیان فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ غدیر کے دن پیش آیا تھا۔

امام صادق علیہ‌السلام نے ارشاد فرمایا:

«غدیر وہ دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے آدم علیہ‌السلام کی توبہ قبول فرمائی، اسی وجہ سے آدم نے اس نعمت کے شکرانے کے طور پر اس دن کا روزہ رکھا۔»[۶]

امام علی رضا علیہ‌السلام نے روزِ غدیر مؤمنین کے قبولِ ولایت اور فرشتوں کے سجدۂ آدم کے درمیان خوبصورت تشبیہ بیان فرمائی ہے۔

آپ نے دونوں واقعات کو حکمِ الٰہی کی تعمیل اور فرمانبرداری کی روشن مثال قرار دیا۔

حضرت امام رضا علیہ‌السلام نے ارشاد فرمایا:

«غدیرِ خم کے دن امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی ولایت کو قبول کرنے میں مؤمنین کی مثال، حضرت آدم علیہ‌السلام کے سامنے فرشتوں کے سجدہ کرنے جیسی ہے؛ اور جن لوگوں نے روزِ غدیر امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی ولایت سے منہ موڑا، ان کی مثال شیطان جیسی ہے۔»[۷]

نجف، آدم علیہ‌السلام سے نوح علیہ‌السلام تک انبیاء کا مزار

مفضل، امام جعفر صادق علیہ‌السلام سے امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے مزارِ اقدس کی زیارت کے لیے اپنے شوق و اشتیاق کے بارے میں پوچھتے ہیں، تو امام، حضرت نوح کے ذریعہ حضرت آدم (علیہ‌السلام) کے تابوت کو غری (نجف) منتقل کیے جانے کا واقعہ بیان کرنے کے ساتھ ساتھ، ایک مقدس مقام کی حیثیت سے نجف کی خصوصیات اور منفرد مقام پر روشنی ڈالتے ہیں۔

مفضل نے روایت کی ہے کہ:

«میں امام صادق علیہ‌السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:

میرا دل چاہتا ہے کہ میں نجف جاؤں۔

امام نے فرمایا:

تم وہاں جانے کے اتنے مشتاق کیوں ہو؟

میں نے عرض کیا:

امیر‌المومنین علیہ‌السلام سے اپنی محبت کی وجہ سے، میں ان کی زیارت کرنا چاہتا ہوں۔
امام علیہ‌السلام نے پوچھا:

کیا تم جانتے ہو کہ ان کی زیارت کا کیا مقام ہے؟
میں نے عرض کیا:

نہیں، اے اللہ کے رسول کے فرزند! براہِ کرم میری رہنمائی فرمائیں۔

امام علیہ‌السلام نے ارشاد فرمایا:

جب تم امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی زیارت کے لیے جاؤ، تو یہ جان لو کہ تم حضرت آدم علیہ‌السلام کی استخوان (مقدس ہڈیوں)، حضرت نوح کے جسدِ مبارک اور امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے پیکرِ اطہر کی زیارت کر رہے ہو۔
میں نے پوچھا:

حضرت آدم علیہ‌السلام کی استخوان (جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ کعبہ میں تھیں) کوفہ (نجف) میں کیسے منتقل ہوئیں؟

امام علیہ‌السلام نے جواب دیا:

جب حضرت نوح علیہ‌السلام کشتی میں تھے، تو خدا نے ان پر وحی نازل فرمائی کہ کعبہ کے سات چکر طواف کریں۔ نوح نے خدا کے حکم کی تعمیل کی اور پانی کے نیچے سے وہ تابوت نکالا جس میں آدم علیہ‌السلام کی استخوان تھیں اور اسے کشتی میں رکھ دیا۔ پھر جب وہ مسجدِ کوفہ کے مقام پر پہنچے، تو خدا نے زمین کو حکم دیا کہ وہ پانی نگل لے۔ پس نوح علیہ‌السلام نے اس تابوت کو غری (نجف) کے علاقے میں دفن کر دیا۔ غری اس پہاڑ کا حصہ ہے جہاں خدا نے موسیٰ سے کلام کیا تھا، عیسیٰ کو وہاں تقدس بخشا گیا، ابراھیم کو مقامِ خلیل اللہی ملا اور پیغمبرِ اسلام کو وہاں حبیب اللہ کے لقب سے سرفراز کیا گیا۔ یہ انبیاء کا مسکن ہے، اور ان کے پہلو میں علی بن ابی طالب علیہ‌السلام سے زیادہ شریف کوئی شخصیت سکنہ گزیں نہیں ہوئی۔
پس جب تم نجف کی زیارت کو جاتے ہو، تو گویا تم نے آدم، نوح، پیغمبرِ اکرم علیہم‌السلام اور اوصیاء کے سردار امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی زیارت کی ہے۔

یاد رکھو کہ امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے زائر کے لیے دعا کے وقت آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔ پس اس عظیم موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دو اور دعا و خیرخواہی کو فراموش نہ کرو۔»[۸]

 

مآخذ
[۱] عوالم العلوم، جلد ۱۵، صفحۀ ۱۷۸
[۲] وسائل الشیعه، جلد ۷، صفحۀ ۹۸
[۳] بحار الانوار، جلد ۵۴، صفحۀ ۱۰۶
[۴]  وسائل الشیعه، جلد ۹، صفحۀ ۵۳۰
[۵] بحار الانوار، جلد ۲۷، صفحۀ ۳۳
[۶] اقبال الاعمال، جلد ۱، صفحۀ ۴۶۶
[۷] عوالم العلوم، جلد ۱۵، صفحۀ ۲۲۲
[۸] کامل الزیارات، جلد ۱، صفحۀ ۳۸

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے