چوتھی صدی ہجری میں تشیع کی تاریخ اور عربی ادب ایک ایسی شخصیت کا مرہونِ منت ہے جس نے اپنی جان اور قلم کو معارفِ علوی کی تبیین و تشریح کے لیے وقف کر دیا۔ سید رضی نے نہ صرف ایک مایہ ناز ادیب اور متبحر فقیہ کے طور پر، بلکہ "تدوین کارِ نہجالبلاغہ” کی حیثیت سے انسانی دانش اور امیرالمؤمنین (علیہالسلام) کے کلامِ وحی نما کے درمیان ایک ایسا لازوال رشتہ قائم کیا جو کبھی ٹوٹ نہیں سکتا۔ انہوں نے اپنی مختصر مگر انتہائی بارآور زندگی میں سماجی انتظام و انصرام سے لے کر علمی مراکز کے قیام تک کے سنہری کارنامے رقم کیے۔ بالآخر، وہ مولائے متقیان کی محبت سے لبریز دل کے ساتھ کربلا میں آپ (علیہالسلام) کی بارگاہ کے جوار میں ابدی نیند سو گئے، تاکہ اس کلام کے سائے میں ہمیشہ کے لیے سکون پا سکیں جس کی جمع آوری میں انہوں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ صرف کیا تھا۔
ولادت اور علمی زندگی
محمد بن حسین بن موسی، جو سید رضی اور شریف رضی کے نام سے مشہور ہیں، ساداتِ ہاشمی اور آلِ ابی طالب (علیہالسلام) سے تعلق رکھتے تھے؛ اسی لیے انہیں "شریف” کہا جاتا ہے۔ ان کا نسب والد کی جانب سے، حسین بن موسیٰ علوی کے ذریعے چھ واسطوں سے شیعوں کے ساتویں امام، امام کاظم (علیہالسلام) تک پہنچتا ہے، جبکہ ان کی والدہ شیعوں کے چوتھے امام، امام زین العابدین (علیہالسلام) کی اولاد میں سے تھیں۔[۱][۲]
سید رضی چوتھی صدی ہجری کے جید شیعہ علماء اور مایہ ناز عرب ادیبوں میں شمار ہوتے تھے۔ وہ ۳۵۹ ہجری میں بغداد میں پیدا ہوئے اور فقه، ادب، علمِ نحو اور تفسیرِ قرآن میں اپنی وسیع دانش کی بدولت اپنے عہد کی مقتدر ترین علمی و ادبی شخصیات میں سے ایک تسلیم کیے گئے۔
سید رضی اپنے بھائی سید مرتضیٰ کے ہمراہ بغداد میں تشیع کی مشہور شخصیات میں سے تھے اور دونوں نے علمی و سماجی میدانوں میں گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ سید رضی کی اصل شہرت کی وجہ شہرہ آفاق کتاب "نہج البلاغہ” کی تدوین ہے۔ انہوں نے اس گراں بہا اثر کو ۴۰۰ ہجری میں تین بنیادی ابواب یعنی "خطبات، خطوط اور کلماتِ حکمت” کے ساتھ پایہِ تکمیل تک پہنچایا اور وہ اسے اپنے لیے مایہِ صد افتخار سمجھتے تھے۔ روایات کے انتخاب میں ان کا بنیادی معیار ادبی فصاحت و بلاغت تھا۔[۳]
سید رضی کے آثار اور علمی میراث
سید رضی نے نہجالبلاغہ کے علاوہ "مجازاتالقرآن”، "مجازاتالنبویہ” اور "معانیالقرآن” جیسی کتب تصنیف کیں، جو علومِ قرآنی اور علمِ ادب پر ان کی کامل دسترس کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ سید رضی کے اشعار بھی خاصی شہرت کے حامل تھے اور ان کا شمار عرب کے عظیم ترین شعراء میں ہوتا تھا۔[۴]
دارالعلم کی بنیاد رکھنا
سید رضی "نقابتِ طالبیان” (سادات کے امور کی سرپرستی)، "امارتِ حاج” (حجاج کے قافلے کی سالاری) اور "ریاستِ دیوانِ مظالم” (عدالتِ عالیہ کی سربراہی) جیسے انتہائی سنگین اور اہم مناصب پر فائز تھے، جن میں سے ہر ایک عہدہ اکیلے ان کا تمام وقت لینے کے لیے کافی تھا، لیکن اس کے باوجود وہ علمی سرگرمیوں، شعر گوئی اور گراں قدر کتب کی تصنیف سے کبھی غافل نہ ہوئے۔
وہ انفرادی کاموں سے بالاتر ہو کر ایک اعلیٰ دینی درسگاہ کے قیام اور شاگردوں کی تربیت کی فکر میں رہتے تھے۔ مالی استطاعت نہ ہونے کے باوجود، جب انہوں نے دیکھا کہ طالبانِ علم اور شاگردوں کا ایک گروہ مستقل طور پر ان کے ساتھ وابستہ ہے، تو انہوں نے ایک مکان کا بندوبست کیا اور اسے اپنے شاگردوں کے لیے ایک مدرسے کی شکل دے دی اور اس کا نام "دار العلم” رکھا۔ انہوں نے طلاب کے لیے ضرورت کی تمام تر سہولیات وہاں فراہم کر دیں۔
سید رضی نے دار العلم کے لیے ایک لائبریری اور ایک بیتالمال قائم کیا جس میں تمام ضروری لوازمات موجود تھے۔ انہوں نے طلاب کی معیشت کی تمام ضروری اشیاء دار العلم کے ذخیرے میں جمع کر دیں اور طلاب کی تعداد کے مطابق انہیں چابیاں تقسیم کر دیں تاکہ جب بھی کسی کو کسی چیز کی ضرورت ہو، وہ کسی گودام انچارج کا انتظار کیے بغیر خود جا کر تالا کھولیں اوراپنی ضرورت کی چیز اٹھالیں۔ وہ طلاب کو خود اعتمادی اور خود مختاری دینا چاہتے تھے، اس لیے ضرورت کا سامان اٹھانے کا اختیار خود انہی کو سونپ دیا تھا۔ دارالعلم کی لائبریری میں تمام درکار کتب موجود تھیں تاکہ طلاب کو مطالعے اور مآخذ کی تلاش کے لیے کہیں اور نہ جانا پڑے۔
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ سید رضی کے اس "دارالعلم” کا قیام، بغداد کے مشہور مدرسہ "نظامیہ بغداد” سے دسیوں سال پہلے عمل میں آیا تھا۔ مدرسہ نظامیہ کو خواجہ نظامالملک طوسی نے بھاری سرکاری بجٹ سے تعمیر کروایا تھا۔ اگرچہ اکثرمؤرخین نظامالملک کو اسلام میں دینی علوم کے لیے باقاعدہ مدارس قائم کرنے والا پہلا شخص قرار دیتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ نظامالملک نے یہ کام سید رضی کی رحلت کے تقریباً سو سال بعد کیا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ سید رضی کے دارالعلم کو بعد میں ان کے بھائی سید مرتضیٰ نے جاری رکھا اور وسعت دی؛ یہ وہی ادارہ ہے جس نے "شیخالطائفہ، حسن بن محمد طوسی” جیسے عظیم دانشمندوں کی پرورش کی۔[۵]
نہج البلاغہ کی تدوین کا محرک
سید رضی نے اس کتاب کی تالیف کے محرک کے بارے میں نہجالبلاغہ کے خوبصورت اور تاریخی مقدمے میں لکھا ہے:
"میں نے اپنی جوانی کے آغاز اور زندگی کی شادابی کے دنوں میں ائمہ (علیہمالسلام) کے خصائص اور خصوصیات پر ایک کتاب لکھنا شروع کی، جو ان کے دلچسپ احوال اور برجستہ اقوال پر مشتمل تھی۔ اس کام کا مقصد میں نے اسی کتاب کے آغاز میں بیان کر دیا تھا اور اسے ہی اپنی گفتگو کا دیباچہ بنایا تھا۔ امیرالمؤمنین (علیہالسلام) کے خصائص جمع کرنے کے بعد، زمانے کے حوادث اور مشکلات نے مجھے اس کتاب کے بقیہ حصے کو مکمل کرنے سے روک دیا۔
میں نے اس کتاب کو مختلف ابواب میں تقسیم کیا تھا۔ اس کے آخر میں ایک باب رکھا گیا تھا جو امیرالمؤمنین (علیہالسلام) کے مواعظ، حکمتوں، امثال اور آداب پر مشتمل مختصر اقوال پر مبنی تھا نہ کہ طویل خطبات اور تفصیلی خطوط پر۔
میرے کچھ دوستوں نے ان اقوال کو مختلف پہلوؤں سے انتہائی دلچسپ اور حیرت انگیز پایا، اور انہوں نے مجھ سے فرمائش کی کہ میں ایک ایسی کتاب تالیف کروں جس میں امیرالمؤمنین (علیہالسلام) کے منتخب ارشادات جمع کیے جائیں؛ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ یہ کتاب بلاغت کے عجائب، فصاحت کے گراں قدر نمونوں، عربی زبان کے انمول جواہر اور دین و دنیا کے درخشندہ نکات پر مشتمل ہوگی، جو کسی اور کتاب میں اس طرح یکجا نہیں کیے گئے اور نہ ہی کسی تحریر میں اس کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔
چنانچہ میں نے اپنے دوستوں کی اس خواہش کو قبول کیا اوراس کام (نہجالبلاغہ کی جمع آوری) کا آغاز کردیا، جبکہ مجھے یقین تھا کہ اس کا معنوی فائدہ بہت زیادہ ہوگا، یہ بہت جلد ہر سو چھا جائے گی اور اس کا اجر آخرت کا ذخیرہ بنے گا۔”
نہجالبلاغہ کی جمع آوری کا ہدف
سید رضی نہجالبلاغہ کے مقدمے میں مزید لکھتے ہیں:
"میرا مقصد یہ تھا کہ دیگر بے شمار فضائل کے علاوہ، امیرالمؤمنین (علیہالسلام) کی عظمت اور شخصیت کو اس پہلو سے بھی اجاگر کروں کہ: ماضی کے تمام ان لوگوں میں سے جن کا کلام باقی بچا ہے، امیرالمؤمنین (علیہالسلام) وہ واحد فرد ہیں جو فصاحت و بلاغت کے آخری درجے پر فائز ہیں، اور آپ (علیہالسلام) کا کلام ایک ایسا بے کراں سمندر ہے جس کی گرد کو بھی کوئی فصیح و بلیغ شخص نہیں چھو سکتا۔
آپ (علیہالسلام) کا کلام تین بنیادی محوروں پر گردش کرتا ہے:
اول: خطبات اور اوامر(احکامات)۔
دوم: خطوط اور رسائل۔
سوم: کلماتِ حکمت اور مواعظ۔
میں نے فیصلہ کیا کہ پہلے خطبات، پھر خطوط اور آخر میں کلماتِ حکمت کو جمع کروں۔ پھر میں نے ان میں سے ہر ایک کے لیے ایک الگ باب مخصوص کیا اور کچھ صفحات خالی چھوڑ دیے تاکہ اگر مستقبل میں کوئی ایسا کلام ملے جو ابھی میرے ہاتھ نہیں لگا، تو اسے وہاں درج کر سکوں۔ اور جب بھی مجھے آپ (علیہالسلام) کا کوئی ایسا کلام ملا جو کسی بحث و مناظرے، یا کسی سوال کے جواب، یا کسی اور مقصد کے تحت تھا، لیکن وہ ان تینوں حصوں میں سے کسی میں فٹ نہیں بیٹھتا تھا، تو میں نے اسے مناسب ترین اور قریب ترین باب میں شامل کر دیا۔”
مولائے متقیان کا حیرت انگیز کلام
سید رضی نہجالبلاغہ کے مقدمے میں لکھتے ہیں:
"امیرالمؤمنین (علیہالسلام) کے کلام کی شگفتگیوں میں سے ایک منفرد پہلو یہ ہے جس میں آپ (علیہالسلام) تنہا ہیں اور آپ کا کوئی ثانی نہیں کہ: جب بھی کوئی شخص آپ (علیہالسلام) کے زہد اور مواعظ پر مبنی کلام میں تدبر کرتا ہے اور اس حقیقت کو ذہن سے نکال دیتا ہے کہ یہ کلام ایک ایسی عظیمالشان اور نافذالعمل شخصیت کا ہے جس کے سامنے سب سر تسلیم خم کرتے ہیں، تو اسے ذرہ برابر بھی شک نہیں رہتا کہ اس کلام کا کہنے والا کوئی ایسا زاہد ہے جس نے زہد و تقویٰ کے سوا کہیں قدم نہیں رکھا اور عبادت کے سوا اس کا کوئی مشغلہ نہیں رہا۔ وہ یقین کر لیتا ہے کہ یہ کلام کسی ایسے گوشہ نشین کا ہے جو دنیا سے دور کسی غار میں تنہا بیٹھا ہے جہاں وہ اپنی آواز کے سوا کسی کی آواز نہیں سنتا اور اپنے سوا کسی کو نہیں دیکھتا، اور مہر بہ لب عبادت میں مصروف ہے۔
ایسا شخص کبھی یہ یقین ہی نہیں کر سکتا کہ یہ کلام کسی ایسے مجاہد کا ہے جو جنگ کے وقت دشمن کے لشکر کے سمندر کو چیرتا ہوا آگے نکل جاتا تھا اور نامور پہلوانوں اور قوی ہیکل جنگجوؤں کو خاک چٹا دیتا تھا۔ اس سب کے باوجود، آپ (علیہالسلام) زاہدوں کے امام، صالحین کے پیشوا اور پاکیزگی کا ایسا نمونہ ہیں جس کی کوئی نظیر نہیں۔
یہ آپ (علیہالسلام) کے وہ عجیب اور حیرت انگیز فضائل اور لطیف خصوصیات ہیں جنہوں نے اضداد (الٹ چیزوں) کو ایک جگہ جمع کر دیا ہے۔
کتاب مکمل ہونے کے بعد میں نے مناسب سمجھا کہ اس کا نام ‘نہجالبلاغہ’ (بلاغت کا راستہ) رکھوں؛ کیونکہ یہ کتاب دیکھنے والے پر بلاغت کے دروازے کھول دیتی ہے اور اس کے مطلوبہ مقاصد کو اس کے قریب تر کر دیتی ہے۔”
وفاتِ سید رضی
سید رضی نے ۶ محرمالحرام سن ۴۰۶ ہجری کو بغداد میں وفات پائی۔ ان کی وفات اس دور کے علمی اور شیعی معاشرے کے لیے ایک بہت بڑا سانحہ تھی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ آلِ بویہ کے وزیر فخرالملک (بهاءالدولہ دیلمی کے وزیر) نے بغداد کے اکابرین اور اشراف کے ہمراہ ان کے جنازے میں شرکت کی۔ ان کے بھائی سید مرتضیٰ شدید رنج و غم کی وجہ سے تشییع جنازہ میں شرکت کی تاب نہ لا سکے اور انہوں نے امام کاظم (علیہالسلام) کے حرم میں پناہ لی۔ سید رضی کے پیکرِ خاکی کو ابتدا میں ان کے گھر میں دفن کیا گیا، لیکن بعد میں اسے کربلا منتقل کر کے ان کے والد کے مزار کے قریب اور امام حسین (علیہالسلام) کے جوار میں خاکِ سپرد کیا گیا۔[۶]
سید رضی کے انتقال پر بغداد کے لوگوں نے انتہائی وسیع پیمانے پر ان کے جنازے میں شرکت کی، اور یہ مراسم اس دور کے پرہجوم ترین اور اہم ترین واقعات کے طور پر تاریخ میں درج ہیں۔[۷]
مآخذ
[۱] آقابزرگ، طبقات اعلام الشیعه، ج۲، ص۱۶۴
[۲] جعفری، سیدرضی، ۱۳۷۵، ص۲۲
[۳] النجوم الزاهرة، جلد ۴، صفحۀ ۲۴۰
[۴] تاریخ الاسلام، جلد ۲۸، صفحۀ ۱۴۹؛ النجوم الزاهره، جلد ۴، صفحۀ ۲۴۰
[۵] پژوهشهای نهج البلاغه، شمارۀ ۶؛ عمدة الطالب فی انساب آل ابیطالب، صفحۀ ۱۷۹
[۶] وقایع الایام، جلد ۱، صفحۀ ۲۲۵؛ النجوم الزاهرة، جلد ۴، صفحۀ ۲۳۹
[۷] الكامل فی التاريخ، جلد ۹، صفحۀ ۲۶۱