محمد نے امیرالمؤمنین (علیہالسلام) کو اپنا امام اور پیشوا تسلیم کیا تھا اور آپ کی ولایت و امامت کے منصب کے دفاع میں کسی بھی قسم کی کوشش سے دریغ نہیں کرتے تھے۔
نسب اور ولادت
محمد بن حنفیہ، امیرالمؤمنین (علیہالسلام) اور خولہ حنفیہ (جعفر بن قیس کی صاحبزادی) کے فرزند ہیں اور تابعین کے طبقہ اول سے تعلق رکھتے ہیں۔ بعض اوقات انہیں "محمد بن علی” کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے اور انہیں "محمد اکبر” بھی کہا گیا ہے۔
ان کا عہدِ طفولیت عمر کے دورِ خلافت میں گزرا، جبکہ ان کی جوانی اور نوجوانی عثمان کے زمانۂ خلافت کے موافق تھی۔ انہوں نے جمل، صفین اور نہروان کی جنگوں میں شرکت کی؛ جنگِ جمل کے موقع پر، جب ان کی عمر لگ بھگ ۲۱ سال تھی، وہ اپنے والد کے علمبردار(پرچم دار) تھے اور شجاعت سے لڑے۔ [۱]
جنگِ جمل میں والد کی ہمراہی
این معرکہ محمد بن حنفیہ کے لیے میدانِ کارزار اور پیکار کا تجربہ حاصل کرنے کا پہلا موقع تھا۔ امیرالمؤمنین (علیہالسلام) نے جنگِ جمل میں علمبرداری کا سنگین فریضہ ان کے سپرد کیا اور پرچم دیتے وقت فرمایا: «اگر پہاڑ اپنی جگہ سے ٹل جائیں، تب بھی تم ثابت قدم رہنا اپنے دانتوں کو بھینچ لو، اپنا سر خدا کے سپرد کر دو، اپنے قدموں کو میخ کی طرح زمین میں گاڑ دو، میدان کے دور دراز حصوں پر نظر رکھو اور ہولناک مناظر سے چشم پوشی کرو؛ کیونکہ فتح و نصرت، خدائے سبحان کا وعدہ ہے۔»[۲]
میدانِ نبرد میں والد کا دستِ راست
امیرالمؤمنین (علیہالسلام) کبھی مہر و محبت سے لبریز نصیحتوں اور کبھی سنجیدہ تنبیہ و رہنمائی کے ذریعے اپنے فرزند کو صحیح راستہ دکھاتے تھے اور مشکلات کے سامنے انہیں استقامت اور ثابتقدمی سکھاتے تھے۔ عبد الحمید بن ہبۃ اللہ، جو ابن ابی الحدید کے نام سے معروف شاعر، ادیب اور شارحِ نہج البلاغہ ہے، اس واقعے کے بارے میں شرح نہج البلاغہ میں نقل کرتا ہے: «امیرالمؤمنین (علیہالسلام) نے جنگِ جمل میں پرچم اپنے فرزند محمد حنفیہ کو دیا اور فرمایا: "اسے تھامو۔”
محمد حنفیہ نے کچھ دیر تامل کیا اور کہا: "اے امیرالمؤمنین (علیہالسلام)، کیا آپ آسمان کو نہیں دیکھ رہے کہ گویا (دشمن کے تیر) بارش کے قطروں کی طرح برس رہے ہیں؟”
امیرالمؤمنین (علیہالسلام) نے اس وقت ان کے سینے پر ہاتھ مارا اور فرمایا: "تم نے اپنی ماں کی رگ کا اثر لیا ہے۔”
پھر آپ (علیہالسلام) نے پرچم اپنے مبارک ہاتھ میں لیا، اسے بلند کیا اور رجز پڑھتے ہوئے فرمایا: "اس سے اپنے باپ کی طرح نیزے سے وار کرو تاکہ تمہاری ستائش کی جائے؛ کیونکہ اگر جنگ کی آگ سیدھی تلواروں اور مضبوط نیزوں سے نہ بھڑکائی جائے، تو جنگ میں کوئی خیر نہیں ہے۔”
اس کے بعد آپ (علیہالسلام) خود آگے بڑھے، لشکر بھی آپ کے پیچھے چلا اور بصرہ کے لشکر کو شکستِ دی۔»
جب محمد بن حنفیہ سے پوچھا گیا: «آپ کے والد آپ کو جنگ میں خطرات کے سپرد کرتے ہیں، لیکن حسن اور حسین (علیہما السلام) کے ساتھ ایسا نہیں کرتے، اس کی کیا وجہ ہے؟»
انہوں نے جواب دیا: «وہ دونوں ان کی آنکھیں ہیں اور میں ان کا دایاں ہاتھ ہوں؛ وہ اپنے ہاتھ سے اپنی آنکھوں کی حفاظت کرتے ہیں۔»
امیرالمؤمنین (علیہالسلام) محمد کو میدانِ جنگ میں بھیجتے تھے اور امام حسن و امام حسین (علیہما السلام) کو جانے سے روکتے تھے۔ مولائے متقیان نے جنگِ صفین میں بھی حسنین (علیہما السلام) کے بارے میں فرمایا تھا: «میری طرف سے ان دونوں جوانوں کا خیال رکھو؛ مجھے ڈر ہے کہ ان دونوں کی شہادت سے رسولِ خدا (صلیاللہعلیہآلہوسلم) کی نسل منقطع نہ ہو ائے۔»[۳]
جنگِ جمل میں والد کے عملی اسباق
محمد نے جنگِ جمل میں اپنے والد سے «أشدّاء علی الکفار رحماء بینهم» (فتح/۲۹) کا عملی سبق سیکھا۔ اس راہ میں کبھی ان کے والد انہیں دشمن کے دل میں بھیجتے، کبھی ان پر عتاب فرماتے اور کبھی ان کی دلجوئی کرتے تھے، اور ان تمام امور کا مقصد اپنے فرزند کی تعلیم و تربیت کے سوا کچھ نہ تھا۔
منذر ثوری، جو تاریخ کے راویوں میں سے ہیں، نقل کرتے ہیں: «میں نے محمد بن حنفیہ سے سنا، وہ جنگِ جمل کے واقعات اس طرح بیان کر رہے تھے: جب دونوں لشکر ایک دوسرے کے سامنے صف آرا ہوئے، تو امیرالمؤمنین (علیہالسلام) نے پرچم مجھے عنایت فرمایا۔ لیکن جب انہوں نے دیکھا کہ لشکروں کے قریب آنے پر میں کچھ پیچھے ہٹا اور مجھ پر خوف طاری ہوا، تو انہوں نے مجھ سے پرچم لے لیا اور خود اسے تھام کر میدان کے وسط میں کود پڑے اور نبرد آزما ہوئے۔» محمد مزید کہتے ہیں: «میں نے اس دن اہل بصرہ کے ایک شخص پر حملہ کیا؛ جب میں اس پر پوری طرح مسلط ہو گیا اور وہ زمین پر گر پڑا، تو وہ چلا اٹھا: "میں ابو طالب کے دین پر ہوں!”»[۴]
جنگِ صفین میں والد کی ہمراہی
جنگِ صفین میں بھی مولائے متقیان سخت گیر عسکری حکمتِ عملی اور مہر و عاطفت سے بھرپور سلوک کے ساتھ اپنے فرزند کو میدان میں بھیجتے تھے۔ جنگِ صفین میں محمد بن حنفیہ کا ایک اہم ترین کردار امیرالمؤمنین (علیہالسلام) کے لشکر کے پرچم کو اٹھانا تھا۔ پرچم لشکر کی وحدت اور طاقت کی علامت تھا اور محمد بن حنفیہ کا اسے اٹھانا ان پر آپ (علیہالسلام) کے گہرے اعتماد کا مہر تھا۔
عبداللہ بن عباس بن عبدالمطلب، جو ابن عباس کے نام سے مشہور ہیں اور رسولِ خدا (صلیاللہعلیہآلہوسلم) اور امیرالمؤمنین (علیہالسلام) کے چچا زاد بھائی ہیں (جن سے کثیر روایات منقول ہیں)، کہتے ہیں: «جنگِ صفین کے ایک دن امیرالمؤمنین (علیہالسلام) نے محمد بن حنفیہ کو پکارا اور فرمایا: دشمن کے لشکر کے دائیں بازو (میمنہ) پر حملہ کرو! محمد نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ حملہ کیا اور معاویہ کے لشکر کے دائیں بازو کو درہم برہم کر دیا اور زخمی حالت میں واپس لوٹے۔»
محمد نے بارگاہِ علوی میں عرض کیا: «مجھے پیاس لگی ہے!» آپ (علیہالسلام) نے انہیں پانی کا ایک گھونٹ دیا اور کچھ پانی ان کی زرہ اور بدن کے درمیان چھڑک دیا؛ میں دیکھ رہا تھا کہ جما ہوا خون ان کی زرہ کے حلقوں سے باہر نکل رہا تھا۔
امیرالمؤمنین (علیہالسلام) نے کچھ دیر محمد بن حنفیہ کو مہلت دینے کے بعد فرمایا: «اب دشمن کے لشکر کے بائیں بازو (میسرہ) پر حملہ کرو!» انہوں نے اپنے یاروں کے ساتھ حملہ کیا، اس حصے کو بھی شکست دی اور زخمی حالت میں "پانی! پانی!” پکارتے ہوئے والد کے پاس واپس آئے۔ آپ نے دوبارہ ان کے ساتھ وہی پہلے والا عمل دہرایا۔ پھر فرمایا: «اٹھو اور دشمن کے لشکر کے قلب (مرکز) پر حملہ کرو!» محمد نے معاویہ کے لشکر کے قلب پر وار کیا اور انہیں پسپا کر دیا، لیکن جب واپس آئے تو ان کا جسم شدید زخموں سے چور تھا اور وہ گریان تھے۔
امیرالمؤمنین (علیہالسلام) اٹھے، محمد کی دونوں آنکھوں کے درمیان (پیشانی پر) بوسہ دیا اور فرمایا: «میرا باپ تم پر قربان جائے! خدا کی قسم تم نے مجھے خوش کر دیا۔ تم کیوں رو رہے ہو؟ کیا یہ خوشی کے آنسو ہیں یا بے تابی اور درد کی وجہ سے رو رہے ہو؟»
محمد نے عرض کیا: «میں کیوں نہ روؤں؟ جبکہ آپ نے مجھے تین بار موت کے منہ میں بھیجا اور خدا نے مجھے سلامت واپس لایا۔ ہر بار جب میں آپ کے پاس واپس آیا، آپ نے مجھے مہلت نہیں دی، لیکن میرے دو بھائیوں حسن اور حسین (علیہما السلام) کو آپ کوئی حکم نہیں دیتے؟»
آپ (علیہالسلام) نے محمد بن حنفیہ کے سر کا بوسہ لیا اور فرمایا: «اے میرے پیارے فرزند! تم میرے بیٹے ہو، لیکن وہ دونوں رسولِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بیٹے ہیں؛ کیا مجھے ان کی حفاظت نہیں کرنی چاہیے؟»
محمد نے جواب دیا: «کیوں نہیں ابا جان؛ خدا مجھے آپ پر اور ان دونوں پر قربان کرے!»[۵]
محمد بن حنفیہ کے نام مولائے متقیان کی وصیت
امیرالمؤمنین (علیہالسلام) نے اس وصیت میں سب سے پہلے محمد بن حنفیہ سے پوچھا: «کیا تمہیں وہ وصیتیں یاد ہیں جو انہوں نے تمہارے دونوں بھائیوں (امام حسن اور امام حسین علیہما السلام) کو فرمائی تھیں؟»
محمد بن حنفیہ نے اثبات میں جواب دیا۔ پھر امام نے انہیں تاکید کی کہ وہ بھی ان وصیتوں پر عمل کریں اور اپنے بھائیوں کا احترام و تکریم کریں، کیونکہ ان کا ان پر بہت بڑا حق ہے۔ امام نے زور دیا کہ محمد بن حنفیہ کو اپنے بھائیوں کے احکامات کی پیروی کرنی چاہیے اور ان کے مشورے کے بغیر کوئی کام انجام نہیں دینا چاہیے۔[۶]
محمد بن حنفیہ کی وفات
محمد بن حنفیہ نے یکم محرم الحرام ۸۱ ہجری قمری کو، ۶۵ سال کی عمر میں، عبد الملک بن مروان کے دورِ خلافت میں داعیِ اجل کو لبیک کہا۔ ان کی تدفین مدینہ منورہ میں واقع قبرستانِ بقیع میں ہوئی۔
مآخذ
[۱] طبری، محمد بن جریر، تاریخ الامم و الملوک، ج۴، ص۵۱۴
[۲] نهج البلاغه، خطبۀ ۱۱
[۳] بحار الانوار، جلد ۴۲، صفحۀ ۹۸
[۴] الطبقات الكبرى، جلد ۵، صفحۀ ۶۸
[۵] بحار الانوار، جلد ۴۵، صفحۀ ۳۴۸
[۶] الكامل فی التاريخ، جلد ۳، صفحۀ ۳۹۱