سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

آيۂ تطہیر کے آئینہ میں امیر‌المومنین علیہ‌السلام

قرآن مجید کی اہم ترین آیات میں سے ایک آيۂ تطہیر ہے جو اہل بیت اطہار اور بالخصوص امیرالمومنین علیہ‌السلام کے بلند مرتبہ و مقام کو واضح کرتی ہے؛ یہ وہ آیہ مبارکہ ہے جو مفسرین کی تصریحات اور معتبر روایات کے مطابق، اہل بیت علیہم‌السلام کی طہارت، عصمت اور برتری پر دلالت کرتی ہے۔

آیتِ تطہیر سورۂ احزاب کی آیت ۳۳ کا ایک حصہ ہے، جو اہلِ بیت علیہم‌السلام کی شان میں نازل ہوا ہے۔

اس میں خاتم الانبیاء صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ، امیرالمومنین علیہ‌السلام، حضرت فاطمہ سلام‌اللہ‌علیہا، امام حسن و امام حسین علیہماالسلام شامل ہیں۔

یہ آیت اہلِ بیت علیہم‌السلام سے ہر قسم کے گناہ اور برائی کو دور رکھنے کے الٰہی ارادے کو بیان کرتی ہے۔

یوں یہ آیت اہل بیت علیہم‌السلام کی عصمت کے اثبات کے لیے ایک مضبوط قرآنی بنیاد فراہم کرتی ہے۔

آیت کا متن اور ترجمہ

سورہِ احزاب کی آیت ۳۳، جو "آيۂ تطہیر” کے نام سے مشہور ہے، درج ذیل ہے:

وَ قَرْنَ فِی بُیُوتِكُنَّ وَ لَا تَبَرَّجْن تَبَرُّجَ الْجَاهِلِیَّةِ الْاُولَی وَ اَقِمْنَ الصَّلَاةَ وَ آتِینَ الزَّكَاةَ وَ اَطِعْنَ اللَّهَ وَ رَسُولَهُ اِنَّمَا یُرِیدُ اللَّهُ لِیُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَیْتِ وَ یُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیرًا

"اور اپنے گھروں میں ٹک کر رہو اور قدیم جاہلیت کی طرح اپنے محاسن کی نمائش نہ کرو، اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو، اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو؛ اللہ کا ارادہ بس یہی ہے کہ تم اہلِ بیت سے ہر قسم کی آلودگی (اور گناہ) کو دور رکھے اور تمہیں ایسا پاک کرے جیسا پاک کرنے کا حق ہے۔”

آيۂ تطہیر کے نزول کا مقام

یہ آیۂ مبارکہ رسول اللہ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی زوجۂ گرامی حضرت امِ سلمہ سلام‌اللہ‌علیہا کے گھر میں نازل ہوئی۔

نزول کے وقت پیغمبر اکرم صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے علاوہ اہلِ بیت علیہم‌السلام بھی وہاں موجود تھے۔

حضرت ام سلمہ فرماتی ہیں:

"آيۂ تطہیر ان کے گھر میں نازل ہوئی اور اس وقت رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے ہمراہ امیر‌المومنین علیہ‌السلام، حضرت فاطمہ سلام‌اللہ‌علیہا، امام حسن علیہ‌السلام اور امام حسین علیہ‌السلام موجود تھے۔

اس موقع پر آنحضرت صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے ایک خیبری چادر (کساء) اپنے، امیر‌المومنین علیہ‌السلام، حضرت فاطمہ سلام‌اللہ‌علیہا اور حسنین علیہما السلام کے اوپر تان لی؛

پھر اپنے دستِ مبارک آسمان کی طرف بلند کیے اور دعا فرمائی:

‘بارِ الٰہا! یہ چاروں میرے اہلِ بیت ہیں۔ انہیں ہر قسم کی رجس (آلودگی) سے پاک و پاکیزہ رکھ۔'”

حضرت ام سلمہ سلام اللہ علیہا نے رسول اللہ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ سے دریافت کیا:

"کیا میں بھی اہلِ بیت میں شامل ہوں؟”

آنحضرت صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے جواب دیا:

"نہیں؛ لیکن تم خیر و نیکی کے راستے پر ہو۔”[۱]

امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی زبان مبارک سے آيۂ تطہیر کا شان نزول

امیرالمومنین علیہ‌السلام ایک دلنشین روایت میں آیۂ تطہیر کے نزول کا منظر بیان فرماتے ہیں۔

آپ علیہ‌السلام نے سفید چادر کے نیچے رسولِ اللہ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے آسمانی خاندان کی موجودگی کا ذکر فرمایا:

"رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ آرام فرما رہے تھے، انہوں نے مجھے، میری زوجہ فاطمہ اور میرے دونوں بیٹوں حسن اور حسین کو بھی اپنے پاس لٹا لیا اور ہمارے اوپر ایک سفید چادر ڈال دی۔

پس اللہ تعالیٰ نے ہماری شان میں یہ آیت نازل فرمائی:

إنَّما یُریدُ اللهُ لِیُذهِبَ عَنکُمُ الرِّجسَ أهلَ البَیتِ و یُطَهِّرَکُم تَطهیراً”

اس وقت جبرئیل امین علیہ‌السلام نے بارگاہِ رسالت میں عرض کیا:

"اے محمد! میں بھی آپ ہی میں سے ہوں۔ پس ہم اہلِ بیت کے چٹھے (چھٹے رکن) جبرئیل تھے۔”[۲]

آيۂ تطہیر کے مصادیق: اصحابِ کساء سے ائمہ معصومین تک

رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے آيۂ تطہیر کے حقیقی مصادیق پر تاکید کرتے ہوئے فرمایا:

"یہ آیت (تطہیر) صرف میرے، میرے بھائی علی بن ابی طالب، میری بیٹی فاطمہ، میرے دو بیٹوں حسن اور حسین، اور حسین کی نسل سے آنے والے نو ائمہ علیہم‌السلام کی شان میں نازل ہوئی ہے۔”[۳]

مولائے کائنات کے کلام میں اہل بیت کی برتری

امیر‌المومنین علیہ‌السلام نے بھی قرآنِ مجید کا استناد پیش کرتے ہوئے، اہل بیت علیہم‌السلام کی ظاہری و باطنی طہارت اور ہدایت کے راستے پر ان کی ابدی حقانیت پر زور دیا ہے۔

آپ علیہ‌السلام نے فرمایا:

"اللہ عزوجل نے ہم اہلِ بیت کو دوسروں پر برتری دی ہے، اور ایسا کیوں نہ ہو جبکہ اللہ عزوجل اپنی کتاب میں فرماتا ہے:

إنَّما یُریدُ اللهُ لیُذهِبَ عَنکُمُ الرِّجسَ أهل البَیتِ و یُطَهِّرَکُم تَطهیراً؛

چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ہم سے ظاہری اور باطنی (تمام) گناہ دور کر دیے ہیں اور ہم ہمیشہ حق کے راستے پر گامزن ہیں۔”[۴]

امیر‌المومنین علیہ‌السلام؛ معیارِ حق اور ترجمانِ ہدایت

اس روایت میں، پیغمبرِ اکرم صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے قرآن اور اہلِ بیت کے ساتھ امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے بے مثل اور بلند مقام کو حق کے معیار اور ہدایت کے رہنما کے طور پر متعارف کروایا ہے۔

امام جعفر صادق علیہ‌السلام سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے فرمایا:

"علی مومنوں کے سردار ہیں”، "علی دین کے ستون ہیں”، "وہ وہ ہیں جو میرے بعد حق کی خاطر (لوگوں سے) جنگ کریں گے”،

اور یہ بھی فرمایا:

"حق علی کے ساتھ ہے، وہ جس طرف بھی مڑ جائیں۔”

نیز آنحضرت صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے فرمایا:

"میں تمہارے درمیان دو گراں قدر چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں، اگر تم ان سے متمسک رہے تو کبھی گمراہ نہ ہو گے: اللہ عزوجل کی کتاب اور میرے اہلِ بیت۔

اے لوگو! غور سے سنو، میں نے یہ پیغام تم تک پہنچا دیا اور ابلاغ کر دیا۔

تم حوضِ کوثر پر میرے پاس وارد ہو گے اور میں وہاں تم سے ثقلین کے ساتھ تمہارے سلوک کے بارے میں سوال کروں گا۔ ثقلین یہی اللہ عزوجل کی کتاب اور میرے اہلِ بیت ہیں۔

ان سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرنا ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے، اور انہیں سکھانے کی جسارت نہ کرنا کیونکہ وہ تم سے کہیں زیادہ دانا ہیں۔”

اس طرح، رسول اللہ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے ارشادات اور اللہ کی کتاب (جس کی لوگ تلاوت کرتے ہیں) کے ذریعے لوگوں پر حجت تمام ہو گئی اور عذر و بہانے کی کوئی گنجائش باقی نہ رہی۔

پیغمبر خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ مسلسل اپنے اہلِ بیت کی برتری یاد دلاتے تھے اور اس مفہوم کو قرآن کی آیات سے روشن کرتے تھے، جن میں آيۂ تطہیر بھی شامل ہے:

"إِنَّمَا یُرِیدُ اللَّهُ لِیُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَیْتِ وَیُطَهِّرَكُمْ تَطْهِیرًا؛

اللہ تو بس یہی چاہتا ہے کہ تم اہلِ بیت سے ہر قسم کی ناپاکی کو دور رکھے اور تمہیں ایسا پاک و پاکیزہ بنائے جو پاک ہونے کا حق [تمام گناہوں اور معاصی سے پاک] ہے۔”[۵]

مآخذ
[۱]  امالی طوسی، ص۲۶۴؛ معانی الاخبار، جلد ۲، صفحۀ ۴۰۳؛ جامع البیان، جلد ۵، صفحۀ ۲۲؛  تفسیر البرهان، جلد ۴، صفحۀ ۴۶۸
[۲] بحار الانوار، جلد ۳۱، صفحۀ ۴۴۵
[۳]  احتجاج، جلد ۱، صفحۀ ۱۴۸
[۴] بحار الانوار، جلد ۲۵، صفحۀ ۲۱۳
[۵]  اصول کافی، جلد ۱، صفحۀ ۲۹۳

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے