سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

GC-47

بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَیْكَ

اے میرے رسول صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ! وہ کچھ پہنچا دیجیے جو آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ پر آپ کے رب کی طرف سے نازل کیا جا چکا ہے۔ اور اگر آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے وہ نہ پہنچایا، تو گویا کارِ رسالت ہی انجام نہ دیا۔ (مائدہ/۶۷) اِس حکمِ الٰہی کے بعد اب یہ دیکھیے کہ وہ کون سا کام ہے جو رسول صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے نہیں پہنچایا اور باقی رہ گیا ہے؟ نماز، روزہ، حج، جہاد، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر، عبادت و طہارت، عفت، آیاتِ قرآن، الغرض پورا دین، پوری شریعت و طریقت اِسی نبی صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے ذریعے ہم تک پہنچی۔ مگر جب بھی اللہ نے اپنے حبیب صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ سے کلام فرمایا تو نہایت نرم لہجہ اختیار کیا؛ کبھی ‘طہٰ’ کہا، کبھی ‘یٰسین’، کبھی ‘مُزَمِّل’ تو کبھی ‘مُدَّثِّر’ کہہ کر پکارا۔ لیکن جب ولایتِ علی علیہ‌السلام کا مرحلہ آیا، تو خالقِ کائنات نے صاحبِ خُلقِ عظیم پر اِس تیور کی آیت نازل کی کہ "بس اگر یہ نہ پہنچایا تو کچھ نہ پہنچایا”۔ اِس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ساری شریعت ایک طرف ہے اور ولایتِ علی علیہ‌السلام ایک طرف۔
الأمالی، شیخ صدوق، ج۱، ص۴۹۴

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے