سلمان نے پوچھا تھا پیغمبر سے: سب سے بڑی عید کونسی ہے؟ پیغمبر صلیاللہعلیہوآلہ نے فرمایا: أَفْضَلُ أَعْيَادِ أُمَّتِي يَوْمُ غَدِيرِ خُمٍّ، وَ هُوَ الْيَوْمُ الَّذِي أَمَرَنِي اللَّهُ تَعَالَى ذِكْرُهُ فِيهِ بِنَصْبِ أَخِي عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عَلَماً لِأُمَّتِي تمہاری سب سے بڑی عید ولایتِ علی علیہالسلام ہے۔ اگر "علی ولی اللہ” ضروری نہیں، تو یہ دن سب سے بڑی عید کیسے بن گیا؟
(إقبال الأعمال، سید بن طاووس، ج۱، ص۴۶۶)
تمہارے پانچویں امام علیہالسلام نے فرمایا: مَنْ أَطْعَمَ مُؤْمِناً كَانَ كَمَنْ أَطْعَمَ جَمِيعَ الْأَنْبِيَاءِ وَ الصِّدِّيقِينَ غدیر والے دن، یعنی اٹھارہ ذی الحج کو جو ایک مؤمن کو کھانا کھلائےچاہے وہ آدھی کھجور ہی کیوں نہ ہو تو امام علیہالسلام فرماتے ہیں کہ اللہ فرشتوں سے کہتا ہے: اِس نے علی علیہالسلام کی ولایت کی خوشی میں مؤمن کو کھانا کھلایا ہے، اِس کے نامۂِ اعمال میں اِس کھانے کے بدلے لکھو کہ اِس نے سوا لاکھ نبیوں کی دعوت کی ہے۔
(إقبال الأعمال، سید بن طاووس، ج۱، ص۴۶۴)