یہ وہ دن تھا جب رسولِ اکرم صلیاللہعلیہوآلہ کو آیت «وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ» کے نزول کے بعد حکم دیا گیا کہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو علانیہ طور پر توحید کی دعوت دیں۔
اس مجلس میں بنی عبدالمطلب کے تقریباً ۴۰ افراد موجود تھے۔
رسولِ اکرم صلیاللہعلیہوآلہ نے رسالت کا پیغام پہنچانے کے بعد ایک نہایت اہم سوال پیش فرمایا: «تم میں سے کون ہے جو میرا بھائی، وصی، وارث، وزیر اور میرے بعد تمھارے درمیان میرا جانشین بنے گا؟»
آپ نے یہ دعوت ایک ایک کرکے حاضرین کے سامنے رکھی، مگر مجلس پر گہرا سکوت طاری تھا اور کسی نے جواب نہ دیا، سوائے ایک شخصیت کے۔
حضرت امیرالمؤمنین علیہالسلام، جو اس مجلس میں سب سے کم عمر تھے، کھڑے ہوئے اور پورے عزم کے ساتھ عرض کیا: «أنا یا رسول الله» اے اللہ کے رسول! میں۔
اسی لمحے رسولِ اکرم صلیاللہعلیہوآلہ نے حاضرین کی طرف متوجہ ہو کر جانشینی کے اس ابدی رشتے کا اعلان فرمایا: «اے فرزندانِ عبدالمطلب! یہ علی میرے بھائی، وصی، وارث، وزیر اور تمھارے درمیان میرے جانشین ہیں۔»
علل الشرایع، شیخ صدوق، ج۱، ص۱۷۰