امام محمد باقر علیہالسلام ولایت کو نہ صرف دین کے ارکان میں سے ایک رکن قرار دیتے ہیں، بلکہ اسے دیگر تمام اسلامی شعائر کو سمجھنے، ان پر عمل کرنے کی کلید اور پروردگار کی حقیقی معرفت کے لیے ایک لازمی شرط کے طور پر متعارف کرواتے ہیں۔
یہ روایات، جہاں ایک طرف امیرالمومنین علیہالسلام کو محورِ ولایت کے طور پر پیش کرتی ہیں، وہیں دوسری طرف یہ واضح کرتی ہیں کہ ائمہ معصومین علیہمالسلام کی پیروی ہی وہ واحد راستہ ہے جسے خداوندِ متعال نے بشریت کی ہدایت کے لیے منتخب فرمایا ہے۔
تاریخ اور مقام شہادت
مشہور تاریخی روایات کے مطابق، امام محمد باقر علیہالسلام ۷ ذی الحجہ ۱۱۴ ہجری کو جام شہادت نوش فرما گئے۔
روایات میں مروان اور اموی خلیفہ ہشام بن عبد الملک کی ایما پر، مدینہ کے حاکم ابراہیم بن ولید بن عبد الملک کے ذریعے آپ کو زہر دیے جانے کا تذکرہ ملتا ہے۔آپ علیہالسلام کا مرقد مطہر جنت البقیع میں۔
آپ کے والد گرامی امام سجاد علیہالسلام کے پہلو میں ہے۔ امام محمد باقر علیہالسلام کا دور امامت ۹۵ ہجری (امام زین العابدین علیہالسلام کے سالِ رحلت) سے شروع ہوا اور ۱۱۴ ہجری تک، یعنی تقریباً ۱۹ سال اور چند ماہ جاری رہا۔[۱]
امیرالمومنین علیہالسلام اور عمار یاسر کے کلام میں ولایت کا مرتبہ
امام محمد باقر علیہالسلام روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ امیرالمومنین علیہالسلام منبر پر تشریف فرما تھے کہ ایک شخص نے حاضر ہو کر عرض کیا:
کہ وہ عمار بن یاسر کی ایک روایت نقل کرنا چاہتا ہے جو انھوں نے رسولِ خدا صلیاللہعلیهوآلہ سے سنی تھی۔
آپ علیہالسلام نے فرمایا:
اللہ سے ڈرو اور عمار کی طرف کوئی ایسی بات منسوب نہ کرو جو انھوں نے خود نہ کہی ہو!
امیرالمومنین علیہالسلام نے اس جملے کی تین بار تکرار فرمائی اور پھر اس شخص سے فرمایا:
اب تم بات کر سکتے ہو۔
اس شخص نے کہا:
"میں نے عمار کو کہتے سنا کہ رسول خدا صلیاللہعلیهوآلہ نے فرمایا:
میں قرآن کی تنزیل پر جنگ کر رہا ہوں، جبکہ امیرالمومنین علیہالسلام قرآن کی تاویل پر جنگ کریں گے۔
امیرالمومنین علیہالسلام نے فرمایا:
ربِ کعبہ کی قسم! عمار نے سچ کہا۔ یہ ان ہزار کلمات میں سے ایک ہے جو میں نے رسول خدا صلیاللہعلیهوآلہ سے سیکھے ہیں، جہاں ہر کلمہ میرے لیے علم و معرفت کے ہزاروں نئے ابواب وا کرتا ہے۔[۲]
ولایت سے دشمنی کا انجام
امام محمد باقر علیہالسلام ایک حدیث میں دین اسلام کے اندر ولایت کے رفیع الشان مقام کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
امیرالمومنین علیہالسلام کا دشمن اس دنیا سے رخصت نہیں ہوتا جب تک کہ وہ جہنم کے کھولتے ہوئے پانی کا ایک گھونٹ نہ چکھ لے۔
آپ علیہالسلام نے یہ بھی فرمایا:
جو شخص ولایت امیرالمومنین علیہالسلام کا مخالف ہو، اس کانماز پڑھنا یا زنا کرنا برابر ہے۔[۳]
قرآن میں صادقین سے کون مراد ہیں؟
قرآنِ مجید کی آیات کے ذیل میں ائمہ معصومین علیہمالسلام کی گہری اور راہنما تفاسیر، فہمِ حقیقت کے نئے دریچے کھولتی ہیں۔
امام محمد باقر علیہالسلام نے اس روایت میں قرآن کے لفظ "صادقین” (سچوں) کے حقیقی مصداق کو واضح فرمایا ہے۔
آپ علیہالسلام سورۂ توبہ کی آیت ۱۱۹:
يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنوا اتَّقُوا اللهَ وَ کونوا مَعَ الصّادِقینَ؛ (اے ایمان لانے والو! اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہو جاؤ )
کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
یہاں "صادقین” سے مراد امیرالمومنین علی بن ابیطالب علیہالسلام کی ذاتِ گرامی ہے؛ پس انھی کے ساتھ رہو۔[۴]
امامِ مبین کون ہے؟
ایک اور روایت میں امام باقر علیہالسلام قرآن کی اصطلاح امامِ مبین کا مفہوم واضح فرماتے ہیں۔
آپ علیہالسلام کا ارشاد ہے:
جب پیغمبرِ اکرم پر یہ آیت نازل ہوئی:
"و کُلَّ شَيءٍ أحصَیناهُ في إمامٍ مُبینٍ؛ اور ہر چیز کو امام مبین میں سمو دیا ہے۔ (یس/۱۲)
تو ابوبکر اور عمر اٹھے اور انھوں نے پوچھا:
اے اللہ کے رسول! کیا امامِ مبین سے مراد تورات ہے؟
آنحضرت نے فرمایا:
نہیں۔
انھوں نے پھر پوچھا:
کیا اس سے مراد انجیل ہے؟
آپ نے پھر فرمایا:
نہیں۔
انھوں نے دوبارہ پوچھا کہ کیا اس سے مراد قرآن ہے؟
آپ نے جواب دیا:
نہیں۔
اسی اثنا میں امیر المومنین حضرت علی علیہالسلام مجلس میں داخل ہوئے۔ انھیں دیکھ کر رسول خدا صلیاللہعلیهوآلہ نے فرمایا:
امامِ مبین یہی ہیں؛ یہ وہ امام ہیں جن کی ذات میں خداوند تبارک و تعالیٰ نے تمام اشیا کا علم جمع فرما دیا ہے۔[۵]
معرفت الٰہی؛ ولایت اہلبیت علیہمالسلام کے آئینے میں
امام باقر علیہالسلام نے بندے اور معبود کے درمیان موجود حجابات کے اٹھنے اور توجہِ الٰہی کے حصول کا واحد راستہ محبتِ اہلبیت علیہمالسلام کو قرار دیا ہے۔
اس سلسلے میں ابو حمزہ ثمالی روایت کرتے ہیں کہ میں نے امام باقر علیہالسلام سے دریافت کیا:
خدا کی معرفت سے کیا مراد ہے؟
آپ علیہالسلام نے جواب میں ارشاد فرمایا:
خدا کی معرفت یہ ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول محمد صلیاللہعلیهوآلہ کے اس حکم کی تصدیق کرو جو انھوں نے امیرالمومنین علی علیہالسلام اور ان کے بعد آنے والے ائمہ علیہمالسلام کی ولایت کے بارے میں دیا ہے، ان کی پیروی کرو اور ان کے دشمنوں سے بیزاری کا اظہار کرو۔[۶]
امیرالمومنین علیہالسلام کی محبت، ثبات قدمی کی ضامن
امام محمد باقر علیہالسلام دلِ مومن پر محبتِ علی کے اثرات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
خداوند متعال کسی کے دل میں امیرالمومنین علی علیہالسلام کی محبت قرار نہیں دیتا مگر یہ کہ (اس محبت کی برکت سے) اگر اس کا ایک قدم (لغزش یا گناہ کی وجہ سے) ڈگمگا جائے، تو اس کا دوسرا قدم (یقین اور استقامت کے ساتھ) مضبوط رہتا ہے۔[۷]
آل محمد صلوات اللہ علیہم و آلہم کی دوستی کا ثمرہ
امام باقر علیہالسلام پروردگار کی خاص توجہ کے حصول اور حجابات کے خاتمے کے بارے میں فرماتے ہیں:
جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے اور خدا کے درمیان کوئی حجاب باقی نہ رہے، وہ خدا کی رحمت پر نظر کرے اور خدا اس پر عنایت فرمائے، تو اسے چاہیے کہ وہ آل محمد صلواتاللہعلیہموآلہم سے محبت کرے، ان کے دشمنوں سے تبرا کرے اور ائمۂ آل محمد صلواتاللہعلیہموآلہم کا پیروکار بنے؛ جب انسان ایسا کرتا ہے تو وہ خدا کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور خدا بھی اپنی رحمت کے ساتھ اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔[۸]
بعثتِ انبیا؛ محورِ ولایت اور دشمنوں سے بیزاری
امام باقر علیہالسلام نے اہل بیت علیہمالسلام کی ولایت، ان کے دشمنوں سے بیزاری اور امتوں کی گمراہی کا سبب بیان کرتے ہوئے فرمایا:
اللہ تعالیٰ نے کسی بھی نبی کو مبعوث نہیں فرمایا مگر یہ کہ اس کی دعوت میں ہماری ولایت کا اقرار اور ہمارے دشمنوں سے بیزاری شامل تھی۔ یہی مفہوم سورۂ نحل کی آیت ۳۶ میں بھی بیان ہوا ہے:
وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنْ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ ۖ فَمِنْهُمْ مَنْ هَدَى اللَّهُ وَمِنْهُمْ مَنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلَالَةُ…
اور جو لوگ گمراہ ہوئے، وہ آلِ محمد صلواتاللہعلیہم و آلہم کی تکذیب کے باعث ہی گمراہی کے گڑھے میں گرے۔[۹]
اسلام کا پانچواں رکن اور اعمال کی قبولیت کی چابی
زرارہ، امام محمد باقر علیہالسلام سے اسلام کے ۵ بنیادی ارکان اور ان میں سب سے اہم رکن کے بارے میں روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:
اسلام کی بنیاد پانچ ستونوں پر ہے: نماز، زکوٰۃ، روزہ، حج اور ولایت۔
زرارہ نے پوچھا:
ان میں سب سے افضل اور برتر کون سا ہے؟
آپ نے فرمایا:
ولایت سب سے افضل ہے؛ کیونکہ ولایت ان تمام ارکان کی کلید ہے اور ولی و امام ہی ان تک لے جانے کا راہنما ہے۔
پھر آپ نے مزید فرمایا:
آگاہ رہو! اگر کوئی شخص رات بھر عبادت کرے، دن کو روزہ رکھے، اپنا تمام مال راہِ خدا میں صدقہ کر دے اور اپنی پوری زندگی حج بیت اللہ میں گزار دے، لیکن وہ خدا کے ولی کی ولایت سے ناواقف ہو تاکہ اس کی پیروی کرے اور اپنے تمام اعمال اس کی راہنمائی میں انجام دے، تو بارگاہِ الٰہی سے اسے کوئی اجر و ثواب نہیں ملے گا اور وہ اہلِ ایمان میں شمار نہیں کیا جائے گا۔[۱۰]
مآخذ
[۱] منتهی الآمال، شیخ عباس قمی
[۲] بحار الانوار، جلد ۳۲، صفحہ ۲۹۹
[۳] ثواب الاعمال و عقاب الاعمال، جلد ۲، صفحہ ۲۱۰؛ بحار الانوار، جلد ۲۷، صفحہ ۲۳۵
[۴] المناقب، جلد ۳، صفحہ ۹۲
[۵] تفسير كنز الدقائق، جلد ۱۱، صفحہ ۶۱
[۶] تفسیر العیاشی، جلد ۲، صفحہ ۱۱۶؛ بحار الانوار، جلد ۲۷، صفحہ ۵۷
[۷] بحار الانوار، جلد ۶۵، صفحہ ۱۹۹
[۸] بحار الانوار، جلد ۲۷، صفحہ ۵۱
[۹] تفسیر البرهان، جلد ۳، صفحہ ۴۱۹
[۱۰] اثبات الهداة، جلد ۱، صفحہ ۱۱۷