منصب امامت ایسی خصوصیات کا حامل ہے، جن میں لامحدود علم، اعلیٰ اخلاق اور دین کی حفاظت اور معاشرے کے اتحاد میں بنیادی کردار شامل ہیں۔ یہ ایسا مقام ہے جو انسانی توانائی اور استعداد سے بالاتر ہے۔ «حدیث مرو» امام رضا علیہالسلام کے مضبوط دلائل پر مشتمل ایک اہم روایت ہے۔ آپ علیہالسلام نے مرو میں عبدالعزیز بن مسلم سے گفتگو کے دوران منصب امامت کی شرائط اور خصوصیات بیان فرمائیں۔ اس روایت میں قرآنی دلائل اور عقلی استدلال کے ذریعے مقام امامت کی عظمت کو ثابت کیا گیا ہے۔
مقام امامت کی تعریف
امام رضا علیہالسلام بیان فرماتے ہیں کہ لوگ امام کی حقیقت اور مقام کو مکمل طور پر پہچاننے کی صلاحیت نہیں رکھتے کہ اپنے لیے کسی امام کا انتخاب کرسکیں؛ کیونکہ امام میں ایسی خصوصیات کا ہونا ضروری ہے جن کا لوگ صحیح ادراک نہیں کرسکتے۔
عبدالعزیز بن مسلم، جو امام رضا علیہالسلام کے اصحاب میں سے تھے، روایت کرتے ہیں:
ہم نے مرو میں امام رضا علیہالسلام کے ساتھ امامت کے مسئلے میں لوگوں کے اختلاف کے بارے میں گفتگو کی۔
امام علیہالسلام نے تبسم فرمایا اور ارشاد فرمایا:
«یہ لوگ جاہل ہیں اور اپنی رائے اور دین کے معاملے میں دھوکے میں مبتلا ہوگئے ہیں۔ بے شک اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلیاللهعلیہوآلہ کی روح اس وقت تک قبض نہیں فرمائی جب تک ان کے لیے دین کو مکمل نہ کردیا، اور قرآن کو ایسی کتاب بنا کر نازل فرمایا جس میں انسان کی تمام ضروریات، احکام و حدود سے لے کر حلال و حرام تک، مکمل طور پر بیان کردی گئیں، اور فرمایا: ہم نے اس کتاب میں کسی چیز کو فروگزاشت نہیں کیا۔» (سوره انعام، آیت ۳۸)
امام رضا علیہالسلام نے حضرت ابراہیم علیہالسلام کے واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مقام امامت کو برگزیدہ اور پاکیزہ افراد کے لیے مخصوص قرار دیا، جو رسول اکرم صلیاللهعلیہوآلہ کے بعد امیرالمومنین علیہالسلام اور پھر آپ علیہالسلام کی معصوم اولاد کو منتقل ہوا۔
پھر آپ علیہالسلام نے فرمایا:
کیا یہ لوگ جانتے ہیں کہ امت کے درمیان امامت کی قدر و منزلت کیا ہے کہ انہیں اس معاملے میں اختیار اور انتخاب کا حق حاصل ہو؟ بے شک امامت اس سے کہیں بلند مقام، عظیم تر شان، بلند تر مرتبہ، مستحکم تر آستانہ اور گہری حقیقت رکھتی ہے کہ لوگ اپنی عقل کے ذریعے اس تک رسائی حاصل کرسکیں، یا اپنی رائے و نظر سے اسے سمجھ سکیں، یا اپنے انتخاب سے کسی امام کو مقرر کرسکیں۔امامت وہ مقام ہے جس تک حضرت ابراہیم علیہالسلام نبوت اور خُلّت کا مرتبہ حاصل کرنے کے بعد پہنچے۔
یہ تیسرا درجہ اور فضیلت تھی جس سے اللہ تعالیٰ نے انہیں سرفراز فرمایا، ان کا نام بلند کیا، اور فرمایا:بے شک میں نے تمہیں لوگوں کا امام بنایا ہے۔ (سوره بقرہ، آیت ۱۲۴)
خلیل علیہالسلام نے خوشی سے عرض کیا: اور میری اولاد میں سے بھی؟
اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: میرا عہد ظالموں کو نہیں پہنچتا۔
اس آیت نے قیامت تک ہر ظالم کی امامت کو باطل قرار دے دیا اور اسے پاکیزہ و برگزیدہ افراد کے لیے مخصوص کردیا۔
پھر اللہ عزوجل نے انہیں عزت بخشی اور امامت کو ان کی برگزیدہ ذریت میں قرار دیا، اور فرمایا:
اور ہم نے انہیں اسحاق اور یعقوب عطا کیے اور سب کو صالح بنایا، اور انہیں ایسے امام بنایا جو ہمارے حکم سے ہدایت کرتے تھے، اور ہم نے ان کی طرف نیک کام کرنے، نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ ادا کرنے کی وحی کی، اور وہ ہمارے عبادت گزار تھے۔ (سوره انبیاء، آیت ۷۲)
یہ امامت ہمیشہ ان کی ذریت میں باقی رہی اور نسل در نسل ایک دوسرے کو منتقل ہوتی رہی، یہاں تک کہ رسول اکرم صلیاللهعلیہوآلہ تک پہنچی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
بے شک ابراہیم سے سب سے زیادہ قریب وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کی پیروی کی، اور یہ نبی اور وہ لوگ جو ایمان لائے؛ اور اللہ مؤمنوں کا ولی ہے۔ (سوره آل عمران، آیت ۶۸)
امام کی مکمل معرفت سے انسان کی ناتوانی
امام رضا علیہالسلام نے قرآنِ کریم کی آیات سے استناد کرتے ہوئے انسانی انتخاب کی بے اعتباری واضح فرمائی۔ آپ علیہالسلام نے حق سے انحراف کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلیاللہعلیہوآلہ کے حکم سے روگردانی کا نتیجہ قرار دیا۔
آپ علیہالسلام نے فرمایا:
«انہوں نے اللہ جل جلالہ اور رسول خدا صلیاللهعلیہوآلہ کے انتخاب سے منہ موڑ لیا اور اپنے باطل انتخاب کی طرف متوجہ ہوگئے، حالانکہ قرآن کریم فرماتا ہے:
اور تمہارا پروردگار جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے منتخب کرتا ہے، ان کے لیے کوئی اختیار نہیں۔ پاک ہے اللہ اور وہ ان کے شرک سے بلند و برتر ہے۔(سوره قصص، آیت ۶۸)
اور نیز فرماتا ہے:
کسی مؤمن مرد یا مؤمن عورت کے لیے یہ حق نہیں کہ جب اللہ اور اس کا رسول کسی معاملے کا فیصلہ کردیں تو وہ اس معاملے میں اپنے لیے کوئی اختیار رکھیں۔(سوره احزاب، آیت ۳۶)
نیز فرماتا ہے:
تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ تم کیسے فیصلہ کرتے ہو؟ کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم پڑھتے ہو کہ اس میں تمہارے لیے وہی کچھ ہے جسے تم پسند کرو؟ یا قیامت تک ہمارے ذمے تمہارے لیے ایسا عہد ہے کہ جو فیصلہ تم کرو گے وہ تمہارے لیے ہوگا؟ ان سے پوچھو کہ ان میں سے کون اس دعوے کا ذمہ دار ہے؟ یا ان کے کوئی شریک ہیں؟ اگر وہ سچے ہیں تو اپنے شریکوں کو لے آئیں۔‘‘ (سوره قلم، آیات ۳۶ تا ۴۱)
جو لوگ اللہ کی آیات میں تدبر نہیں کرتے، ان کے بارے میں فرماتا ہے: کیا وہ قرآن میں غور نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں؟ (سوره محمد، آیت ۲۴)
اور جو لوگ حق کو قبول نہیں کرتے، ان کے بارے میں فرماتا ہے:
وہ کہتے ہیں: ہم نے سنا، حالانکہ وہ سنتے نہیں۔ بے شک اللہ کے نزدیک بدترین جانور وہ بہرے اور گونگے ہیں جو عقل سے کام نہیں لیتے۔ اور اگر اللہ ان میں کوئی بھلائی جانتا تو انہیں ضرور سنوا دیتا، اور اگر انہیں سنا بھی دیتا تو وہ منہ پھیر کر اعراض کرتے۔ یا وہ کہتے ہیں:ہم نے سنا اور جان بوجھ کر مخالفت کی، بلکہ یہ اللہ کا فضل ہے جسے وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔(سوره انفال، آیات ۲۰ تا ۲۳)
غلط امام کے انتخاب کے نتائج
امام رضا علیہالسلام نے قرآن کریم کی آیات سے استناد کرتے ہوئے انسانی انتخاب کی بے اعتباری واضح فرمائی۔ آپ علیہالسلام نے فرمایا کہ الٰہی معیار سے دور انتخاب نجات کا ذریعہ نہیں، بلکہ بدبختی اور غضب پروردگار کا سبب بنتا ہے۔
امام رضا علیہالسلام نے فرمایا:
«اب یہ سوال کرنا چاہیے کہ کیا بشر ایسے امام کے انتخاب کی صلاحیت رکھتا ہے؟ کیا جسے لوگوں نے منتخب کیا، وہ ایسی صفات اور خصوصیات کا حامل تھا کہ اسے دوسروں پر مقدم کیا جاتا؟ انہوں نے بیت اللہ کی بے حرمتی اور قرآن کی تعلیمات کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنا راستہ حقیقت سے جدا کرلیا۔ وہ بھول گئے کہ نجات اور شفا کا واحد راستہ کتاب خدا کی پیروی میں ہے؛ لیکن انہوں نے اپنی نفسانی خواہشات کی پیروی کو ترجیح دی۔ اس کا نتیجہ غضبِ الٰہی، خدا سے دشمنی اور ابدی بدبختی کی صورت میں ظاہر ہوا۔
اللہ تعالیٰ قرآن میں اس صورت حال کو یوں بیان فرماتا ہے:
اور اس سے بڑھ کر گمراہ کون ہے جو اللہ کی ہدایت کے بغیر اپنی خواہش کی پیروی کرے؟ بے شک اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔(سوره قصص، آیت ۵۰)
نیز فرماتا ہے:
اللہ کے نزدیک اور ان لوگوں کے نزدیک جو ایمان لائے ہیں، یہ بات بڑی سخت دشمنی کی ہے، اللہ ان متکبروں کے دلوں پر مہر لگا دیتا ہے جو باطل کو اختیار کرتے ہیں۔ (سوره غافر، آیت ۳۵)
درود ہو رسول اسلام صلیاللہعلیہوآلہ اور ان کے مقدس اہلبیت علیہمالسلام پر۔»
شایستہ امام کی خصوصیات
امام رضا علیہالسلام نے گیارہ بنیادی خصوصیات بیان کرتے ہوئے اس شخص کی اہم صفات و خصوصیات واضح فرمائیں جو پیشوائے ہدایت ہونا چاہیے۔ پھر آپ علیہالسلام نے فرمایا:
وہ کس طرح کسی امام کا انتخاب کرسکتے ہیں، جبکہ امام میں درج ذیل بلند صفات کا ہونا ضروری ہے:
۱۔ علم و دانش: علم و معرفت رکھنے والا ہو اور جہالت و نادانی سے پاک ہو۔
۲۔ ذمہ داری: سرپرست اور نگہبان ہو، جو اپنی ذمہ داری سے پہلو تہی نہ کرے اور سستی نہ دکھائے۔
۳۔ عصمت: پاکیزگی، تقدس، نور، زہد، علم اور عبادت کا سرچشمہ ہو۔
۴۔ منتخبِ خدا: رسول خدا صلیاللهعلیہوآلہ کی جانب سے دعوت الٰہی کے لیے منتخب اور ان کے حکم سے مقرر کیا گیا ہو۔
۵۔ نسلِ فاطمی: حضرت فاطمہ زہرا سلاماللهعلیها، اس پاکیزہ و برگزیدہ خاتون کی نسل سے ہو۔
۶۔ نسبِ ہاشمی: پاکیزہ اور بے عیب نسب کا حامل ہو، قریش کے بہترین خاندان، بنی ہاشم کے برترین خاندان اور رسول اکرم صلیاللهعلیہوآلہ کی عترت سے ہو اور اللہ عزوجل کو پسندیدہ ہو۔
۷۔ شرافت: سب سے زیادہ شریف اور عبد مناف کی اولاد میں سے ہو۔
۸۔ حلیم: حقائقِ علم کو آشکار کرنے والا اور کامل بردباری و حلم کا مالک ہو۔
۹۔ مدبر: روحانیت اور حقیقت امامت سے سرشار اور تدبیر و سیاست سے آگاہ ہو۔
۱۰۔ واجب الاطاعت: جس کی اطاعت واجب ہو اور جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے قیام کرے۔
۱۱۔ خیرخواہ: اللہ کے بندوں کا خیرخواہ اور اللہ عزوجل کے دین کا نگہبان ہو۔
تکمیل دین اور انتخاب مولائے متقیان
حدیث مرو میں امام رضا علیہالسلام آیتِ اکمال کی طرف اشارہ فرماتے ہیں۔ آپ علیہالسلام حجۃ الوداع کے موقع پر رسولِ اسلام صلیاللہعلیہوآلہ کی جانب سے مولائے متقیان علیہالسلام کی امامت کے عمومی اعلان کو یاد دلاتے ہیں۔ آپ علیہالسلام نے فرمایا:
«حجۃ الوداع، جو رسول خدا صلیاللهعلیہوآلہ کا آخری حج تھا، کے موقع پر یہ آیت نازل ہوئی:
آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کردیا، تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لیے اسلام کو دین کے طور پر پسند کرلیا۔(سوره مائدہ، آیت ۳)
پس امر امامت بھی دین کی تکمیل اور نعمت کے اتمام میں شامل ہے۔ رسول خدا صلیاللهعلیہوآلہ دنیا سے تشریف نہیں لے گئے، مگر یہ کہ دین کے تمام معالم لوگوں کے لیے بیان فرمادیے، ان کے لیے راستہ روشن کردیا اور انہیں راہ حق پر قائم کردیا؛ اور امیرالمومنین علیہالسلام کو ان کے لیے رہبر و پیشوا مقرر فرمایا۔ آپ صلیاللهعلیہوآلہ نے امت کی کسی بھی ضرورت کو بیان کیے بغیر نہیں چھوڑا، بلکہ اسے واضح فرمایا۔ جو شخص یہ گمان کرے کہ اللہ نے اپنے دین کو کامل نہیں کیا، اس نے کتاب خدا کو رد کیا؛ اور جو کتاب خدا کو رد کرے، وہ کافر ہے۔»
امام رضا علیہالسلام اس کے بعد امام کی صفات و خصوصیات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
«امام سورج، چاند، ستارے اور تاریکیوں میں چراغ کی مانند ہے؛ وہ پیاسوں اور بھٹکے ہوئے لوگوں کا رہنما ہے۔ وہ لوگوں کے لیے رحمت کا ذریعہ، بارش برسانے والے بادل کی مانند، اور امن و پناہ کا وسیلہ، شفیق باپ اور مہربان بھائی کی مانند ہے۔ امام اللہ تعالیٰ کی حجت اور حقیقی خلیفہ، عیوب سے پاک اور علم الٰہی کا حامل ہوتا ہے۔ وہ ایسا مقام رکھتا ہے کہ عقلیں اس کے ادراک میں حیران، خردیں اس کی معرفت میں عاجز اور سخنور اس کی توصیف میں ناتواں ہیں۔»
منصب امامت میں انسانی انتخاب کا بطلان
حقیقت مقام امامت کا ادراک محدود عقل اور انسانی فہم کی حدود سے بالاتر ہے؛ کیونکہ یہ ایک الٰہی اور منفرد مقام ہے۔ اس روایت میں امام رضا علیہالسلام وضاحت فرماتے ہیں:
«امام کے اسرار کا ادراک اور اس کے قائم مقام کو مقرر کرنا وصف بیان کرنے والوں کی قدرت اور انسانی دسترس سے بالاتر ہے۔ وہ ایک بے مثال شخصیت ہے اور مقام امامت صرف خاندانِ رسول صلیاللهعلیہوآلہ میں ہے۔ جو لوگ اپنی ناقص عقل کے ذریعے اس کے علاوہ کسی کو پیشوا منتخب کرنا چاہتے ہیں، وہ بڑی گمراہی میں مبتلا ہیں۔ ایسے لوگ اپنی رائے پر بھروسا کرتے ہوئے گمراہی، جھوٹ اور حیرت و سرگردانی کی کھائیوں میں سقوط کے سوا کچھ حاصل نہیں کرتے۔ انہوں نے جان بوجھ کر اور سمجھتے ہوئے اپنے امام کو چھوڑ دیا اور باطل کا پرچم بلند کردیا: شیطان نے ان کے اعمال کو ان کی نگاہوں میں آراستہ کردیا اور انہیں راہ سے روک دیا، حالانکہ حق ان کے سامنے موجود تھا۔» (سوره عنکبوت، آیت ۳۸)
ائمہ علیہمالسلام کا علم اور الٰہی برتری
امام رضا علیہالسلام اس کلام میں قرآن کریم کی آیات سے استناد کرتے ہوئے مقام امامت اور علم الٰہی کے درمیان ناقابل انفکاک تعلق پر زور دیتے ہیں اور ائمہ علیہمالسلام کی علمی برتری کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے عطا کردہ براہ راست اور بے مثال فضل قرار دیتے ہیں۔ آپ علیہالسلام نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ انبیاء اور ائمہ علیہمالسلام کو توفیق عطا فرماتا ہے اور اپنے علم و حکمت کے خزانوں سے انہیں ایسا علم عطا کرتا ہے جو دوسروں کو نہیں دیا گیا۔ اسی لیے ان کا علم ان کے زمانے کے تمام لوگوں کے علم سے برتر ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
کیا وہ جو ہدایت دیتا ہے، اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اس کی پیروی کی جائے، یا وہ جو خود ہدایت کا محتاج ہے؟ تمہیں کیا ہوگیا ہے؟ تم کیسے فیصلہ کرتے ہو؟ (سوره یونس، آیت ۳۵)
اور فرماتا ہے: جسے حکمت دی گئی، اسے بہت بڑی بھلائی دی گئی، اور عقل والے ہی نصیحت حاصل کرتے ہیں۔(سوره بقرہ، آیت ۲۶۹)
طالوت کے بارے میں بھی فرماتا ہے:
اللہ نے اسے تم پر برگزیدہ کیا اور اسے علم اور جسمانی قوت میں فراوانی عطا کی، اور اللہ اپنی بادشاہی جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے، اور اللہ وسعت والا، خوب جاننے والا ہے۔(سوره بقرہ، آیت ۲۴۷)
اور اپنے نبی کے بارے میں فرماتا ہے:
اللہ نے تم پر کتاب اور حکمت نازل کی اور تمہیں وہ کچھ سکھایا جو تم نہیں جانتے تھے، اور تم پر اللہ کا فضل بہت بڑا ہے۔ (سوره نساء، آیت ۱۱۳)
اللہ تعالیٰ خاندان رسول، جو آلِ ابراہیم علیہمالسلام میں سے ہیں، کے بارے میں بھی فرماتا ہے:
کیا وہ لوگوں سے اس بنا پر حسد کرتے ہیں کہ اللہ نے انہیں اپنے فضل سے عطا کیا ہے؟ بے شک ہم نے آلِ ابراہیم کو کتاب اور حکمت عطا کی، اور انہیں بڑی سلطنت عطا کی۔(سورۂ نساء، آیت ۵۴)
الہام اور تائید الٰہی
اس نورانی کلام میں امام رضا علیہالسلام وجود امام میں فضل الٰہی کے جلوہ گر ہونے کی حقیقت بیان فرماتے ہیں اور واضح کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حکمت عطا کرکے اور اپنے برگزیدہ بندوں کو خطا سے محفوظ رکھ کر انہیں اپنے بندوں پر روشن حجت قرار دیتا ہے۔ حضرت علیہالسلام نے مزید فرمایا:
«جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے امور کی اصلاح کے لیے کسی بندے کو منتخب فرماتا ہے تو اسے شرحِ صدر عطا کرتا ہے اور اس کے دل میں حکمت و دانائی کے چشمے جاری کردیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے علم کو الہام کے ذریعے اسے سکھاتا ہے، اس طرح کہ وہ کسی سوال کا جواب دینے سے عاجز نہیں ہوتا اور حق و حقیقت کی معرفت میں سرگرداں نہیں رہتا۔ ایسا شخص اللہ تعالیٰ کی جانب سے معصوم ہوتا ہے اور الٰہی مدد و تائید سے بہرہ مند ہوتا ہے؛ لہٰذا وہ خطا، لغزش اور غلط فیصلے سے محفوظ رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ان خصوصیات سے ممتاز کیا ہے تاکہ وہ تمام بندوں پر واضح حجت ہو جو اسے درک کرتے ہیں۔ یہ اللہ کا فضل ہے، وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔»
خاندان نبوت میں میراث امامت
اس حدیث میں امام کے لیے متعدد بنیادی خصوصیات بیان کی گئی ہیں۔ ان میں علمی و اخلاقی برتری، شرح صدر، احکام الٰہی کے نفاذ میں شجاعت اور منفرد و بے مثال ہونا شامل ہے۔
امام رضا علیہالسلام نے فرمایا:
«یہ منصبِ امامت صرف ان کے لیے مخصوص تھا اور اللہ کے حکم سے انہوں نے اسے امیرالمومنین علیہالسلام کے سپرد کیا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے واجب قرار دیا تھا۔ پھر یہ ان کی برگزیدہ ذریت میں منتقل ہوا؛ ان لوگوں میں جنہیں اللہ نے علم اور ایمان عطا کیا، جیسا کہ اللہ عزوجل کا فرمان ہے:
اور جن لوگوں کو علم اور ایمان دیا گیا، وہ کہیں گے: تم اللہ کی کتاب کے مطابق قیامت کے دن تک ٹھہرے رہے ہو، پس یہ قیامت کا دن ہے، لیکن تم جانتے نہ تھے۔(سوره روم، آیت ۵۶)
وہ قیامت تک امیرالمومنین علیہالسلام کی اولاد ہیں؛ کیونکہ محمد صلیاللهعلیہوآلہ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ یہ نادان لوگ اپنے لیے امام کیسے تراش سکتے ہیں، جبکہ امامت انبیاء کا مقام اور اوصیاء کی میراث ہے؟ امامت اللہ اور اس کے رسول کی جانب سے خلافت، امیرالمومنین علیہالسلام کا مقام اور حسن و حسین علیہماالسلام کی میراث ہے۔ بے شک امامت دین کی زمام، مسلمانوں کے نظام اور مؤمنین کی عزت ہے۔ امامت پاکیزہ اسلام کی بنیاد اور اس کی بابرکت شاخ ہے۔ امامت ہی کے ذریعے نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج اور جہاد درست طور پر ادا ہوتے ہیں، غنائم اور صدقات کی فراوانی ہوتی ہے، حدود و احکام نافذ کیے جاتے ہیں اور ملک کی سرحدیں اور علاقے محفوظ رہتے ہیں۔ امام اللہ کے حلال و حرام کو بیان کرتا ہے، اس کی حدود قائم کرتا ہے، اس کے دین کا دفاع کرتا ہے اور حکمت، نیک نصیحت اور واضح دلیل کے ذریعے اللہ کی راہ کی طرف دعوت دیتا ہے۔»
حدیث مرو ثابت کرتی ہے کہ امامت ایک الٰہی ذمہ داری ہے، محض ایک سیاسی یا انتخابی منصب نہیں۔ امام رضا علیہالسلام نے اس روایت کے ذریعے نبوت اور امامت کے گہرے تعلق کو واضح فرمایا۔ آپ علیہالسلام نے دین کی مکمل حفاظت اور انسانی تحریفات سے محفوظ رکھنے میں امام معصوم کے وجود کی اہمیت واضح فرمائی۔ اس وجود کو دین کی حفاظت اور حق کی پاسداری کے لیے ناگزیر قرار دیا۔
یہ حدیث الٰہی راستے اور انسانی انتخاب کے درمیان واضح فرق بیان کرتی ہے۔ اس کے مطابق قیادت کا بنیادی معیار پاکیزگی اور علم الٰہی ہے، جو خاندانِ رسول صلیاللہعلیہوآلہ میں موجود ہے۔
مآخذ
اصول کافی، جلد ۱، صفحۀ ۱۹۸