حجت الاسلام و المسلمین محمد جعفر طبسی اپنے ایک مقالے بعنوان (تحریفاتِ واقعۂ بزرگِ غدیرِ خم در گزرِ تاریخ) (تاریخ کے آئینے میں واقعۂ غدیر کی تحریفات) میں لکھتے ہیں:
اس شبہے کو اس انداز سے پیش کیا جاتا ہے کہ اگر واقعۂ غدیر واقعی امیرالمؤمنین حضرت علی علیہالسلام کی امامت اور ولایت پر دلالت کرتا تھا، تو آپ نے شوریٰ (خلیفۂ سوم کے تعین کے دن) اس سے استدلال کیوں نہیں کیا؟
حقیقت اور اصل واقعیت
حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے اعتراضات اور شبہات پھیلانا یا تو تاریخ سے گہری جہالت کا نتیجہ ہے، یا پھر امیرالمؤمنین حضرت علی علیہالسلام کے بارے میں مسلمہ تاریخی حقائق سے دیدہ و دانستہ انکار کی ایک کوشش ہے۔ آپ نے کوفہ کے ایک وسیع میدان رحبہ میں حدیثِ غدیر کے ذریعے اپنے احتجاج کا خود تذکرہ فرمایا ہے، اور اہلِ سنت کے کئی مقتدر علما نے بھی اس کی کھل کر تصدیق کی ہے۔
چنانچہ خوارزمی حنفی (متوفی ۵۶۸ ہجری) نے رسول اللہ صلیاللہعلیهوآلہ کے جلیل القدر صحابی حضرت ابوالطفیل سے ایک روایت نقل کی ہے کہ وہ فرماتے ہیں: میں شوریٰ کے دن امیرالمؤمنین حضرت علی علیہالسلام کے ہمراہ گھر میں موجود تھا، میں نے خود سنا کہ آپ نے وہاں حاضرینِ مجلس سے مخاطب ہو کر فرمایا: "میں آج تمھارے سامنے ایک ایسی دلیل پیش کرنے جا رہا ہوں جسے تم میں سے کوئی عرب ہو یا عجم، جھٹلا نہیں سکتا۔
پھر آپ نے فرمایا: میں تمھیں اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا تم میں سے کوئی ایسا ہے جس نے غدیر کے دن رسول اللہ صلیاللہعلیهوآلہ کو یہ فرماتے ہوئے نہ سنا ہو کہ من كنت مولاه فعلي مولاه اللّهم وال من والاه و عاد من عاداه
جس کا میں مولا ہوں، اس کے یہ علی مولا ہیں۔ اے اللہ! جو ان سے محبت رکھے تو اس سے محبت رکھ، اور جو ان سے عداوت رکھے تو اس سے عداوت رکھ؟
اس پر وہاں موجود تمام لوگوں نے یک زبان ہو کر کہا کہ خدا کی قسم! ہم سب نے یہ سنا ہے۔
ماخذ
تحریفاتِ واقعۂ بزرگِ غدیرِ خم در گزرِ تاریخ، مصنف: حجت الاسلام و المسلمین محمد جعفر طبسی