وہ آیات جو غدیر میں خطبے کے دوران ترکیب اور تضمین کے طور پر حضرت صلیاللہعلیهوآلہ کی گفتگو میں دکھائی دیتی ہیں ان کی تعداد دس ہے، جن میں سے ایک سورہ فتح کی آیت ۱۰ ہے:
إِنَّ الَّذِينَ يُبايِعُونَكَ إِنَّما يُبايِعُونَ اللَّه، يَدُ اللَّه فَوْقَ أَيْدِيهِمْ. فَمَنْ نَكَثَ فَإِنَّما يَنْكُثُ عَلى نَفْسِهِ، وَ مَنْ أَوْفى بِما عاهَدَ عَلَيْهُ اللَّه فَسَيُؤْتِيهِ أَجْراً عَظِيماً۽
بیشک جو لوگ آپ کی بیعت کرتے ہیں وہ درحقیقت اللہ کی بیعت کرتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے۔ پس جو کوئی بیعت کو توڑتا ہے تو یہ اس کے اپنے نقصان میں ہے، اور جو کوئی اس عہد کو پورا کرے جو اس نے اللہ سے کیا ہے تو اللہ اسے بہت بڑا اجر عطا فرمائے گا۔
یہ آیت تین پہلوؤں سے قابلِ جائزہ ہے:
خطبہ غدیر کا متن
پیغمبر اکرم صلیاللہعلیہو آلہ نے خطبۂ غدیر میں فرمایا:
الا وَ انّي عِنْدَ انْقِضاءِ خُطْبَتي ادْعُوكُمْ إلى مُصافَقَتي عَلى بَيْعَتِهِ وَ اْلاِقْرارِ بِهِ، ثُمَّ مُصافَقَتِهِ بَعْدي. الا وَ انّي قَدْ بايَعْتُ اللَّه وَ عَلِيٌّ قَدْ بايَعَني، وَ انَا آخِذُكُمْ بِالْبَيْعَةِ لَهُ عَنِ اللَّه عَزَّ وَجَلَّ: «إِنَّ الَّذِينَ يُبايِعُونَكَ إِنَّما يُبايِعُونَ اللَّه، يَدُ اللَّه فَوْقَ أَيْدِيهِمْ. فَمَنْ نَكَثَ فَإِنَّما يَنْكُثُ عَلى نَفْسِهِ، وَ مَنْ أَوْفى بِما عاهَدَ عَلَيْهُ اللَّه فَسَيُؤْتِيهِ أَجْراً عَظِيماً
آگاہ رہو کہ میں اپنے خطبے کے اختتام پر تمھیں علی علیہالسلام کی بیعت کے لیے اپنے ہاتھ میں ہاتھ دینے اور ان کا اقرار کرنے، اور میرے بعد ان کے ہاتھ میں ہاتھ دینے کی دعوت دیتا ہوں۔
جان لو کہ میں نے اللہ سے بیعت کی ہے اور علی نے مجھ سے بیعت کی ہے، اور میں اللہ عزوجل کی طرف سے ان کے لیے تم سے بیعت لیتا ہوں۔
بیشک جو لوگ آپ کی بیعت کرتے ہیں وہ درحقیقت اللہ کی بیعت کرتے ہیں۔ ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے۔ پس جو کوئی بیعت کو توڑتا ہے تو یہ اس کے اپنے نقصان میں ہے، اور جو کوئی اس عہد کو پورا کرے جو اس نے اللہ سے کیا ہے تو اللہ اسے بہت بڑا اجر عطا فرمائے گا۔
…مَعاشِرَ النّاسِ، ما تَقُولُونَ؟ فَإِنَّ الله يَعْلَمُ كُلَّ صَوْتٍ وَ خافِيَةَ كُلِّ نَفْسٍ … ، وَ مَنْ بايَعَ فَإِنَّما يُبايِعُ الله، «يَدُ الله فَوْقَ أَيْدِيهِمْ». مَعاشِرَ النّاسِ، فَبايِعُوا الله وَ بايِعُوني وَ بايِعُوا عَلِيّاً اميرَالْمُؤْمِنينَ وَ الْحَسَنَ وَ الْحُسَيْنَ وَ الائِمَّةَ مِنْهُمْ فِي الدُّنْيا وَ الْآخِرَةِ كَلِمَةً باقِيَةً؛ يُهْلِكُ اللَّه مَنْ غَدَرَ وَ يَرْحَمُ مَنْ وَفى «فَمَنْ نَكَثَ فَإِنَّما يَنْكُثُ عَلى نَفْسِهِ وَ مَنْ أَوْفى بِما عاهَدَ عَلَيْهُ اللَّه فَسَيُؤْتِيهِ أَجْراً عَظِيماً
اے لوگو! تم کیا کہتے ہو؟ کیوں کہ اللہ ہر آواز اور ہر نفس کی چھپی ہوئی بات کو جانتا ہے، اور جو بیعت کرتا ہے وہ درحقیقت اللہ کی بیعت کرتا ہے۔ ان کے ہاتھوں پر اللہ کا ہاتھ ہے۔
اے لوگو! پس اللہ کی بیعت کرو اور میری بیعت کرو اور علی امیر المؤمنین اور حسن و حسین اور ان کی نسل میں سے ائمہ علیہمالسلام کی دنیا و آخرت میں اس امامت کے عنوان سے جو ان کی نسل میں باقی ہے، بیعت کرو۔
اللہ اسے ہلاک کرے گا جو بیعت کو توڑ دے گا اور اس پر رحم کرے گا جو وفا کرے گا۔
پس جو کوئی بیعت کو توڑتا ہے تو یہ عمل اس کے اپنے نقصان میں ہے، اور جو کوئی اس عہد کو پورا کرے جو اس نے اللہ سے کیا ہے تو اللہ اسے بہت بڑا اجر عطا فرمائے گا۔
قرآن کی وہ آیت جس کا حوالہ دے کر غدیر میں اللہ کی بیعت کی گئی:
یہ آیت سورہ فتح میں ہے اور فتحِ مبین سے مراد صلحِ حدیبیہ ہے جہاں لوگوں نے پیغمبر صلیاللہعلیهوآلہ سے بیعت کی اور وفاداری کا عہد کیا۔
سورہ فتح میں بیعت کا مسئلہ دو بار بیان ہوا ہے:
پہلی آیت ۱۸: لَقَدْ رَضِىَ اللَّه عَنِ الْمُؤْمِنِينَ إِذْ يُبايِعُونَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ ۔۔۔
دوسری آیت ۱۰: إِنَّ الَّذِينَ يُبايِعُونَكَ إِنَّما يُبايِعُونَ الله۔۔۔
یہ بیعت اس وقت ہوئی جب پیغمبر صلیاللہعلیهوآلہ عمرےکے لیے مدینہ سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔
مکہ کے لوگوں نے یہ گمان کیا کہ حضرت جنگ کے لیے آرہے ہیں، اس لیے چند گروہوں کو مقابلہ کے لیے بھیجا۔ ۱۴۰۰ کے قریب افراد حضرت کے ساتھ تھے اور انھوں نے بیعت کی اور پائداری کا وعدہ دیا۔
پیغمبر کے ساتھ اس قسم کی بیعت کو اللہ کے ساتھ بیعت کرنا کہا گیا اور خدا نے اس کی تعریف کی۔ اب غدیر میں اسی آیت کے استشہاد کے ساتھ دوبارہ خدا کے ساتھ بیعت کا اعلان کیا گیا۔