ماضی میں عرب اپنے شیخِ قبیلہ کی جانشینی کے لیے جانشین کے سر پر اپنا عمامہ باندھتے تھے۔ یہ عمامہ جانشینی کی علامت تھا۔ جب حجۃ الوداع کے موقعے پر پیغمبرِ اسلام صلیاللہعلیهوآلہ مکہ سے نکلے تو غدیر خم نامی مقام پر امیرالمومنین علی علیہالسلام کا تعارف کرانے کے لیے رکے۔ یہ وہ جگہ تھی جو خدا کے حکم سے امامت کو حوالے کرنے اور نافذ کرنے کے لیے بہترین تھی۔ اس کے بعد، آپ سحاب نامی عمامہ، پیغمبر صلیاللہعلیهوآلہ کے عمامے کے بارے میں روایات پڑھیں گے، جو دراصل غدیر خم کے عظیم واقعے میں ان کے جانشین، نفس الرسول، حضرت امیرالمومنین علی علیہالسلام کے سر پر رکھا گیا تھا۔
خطبۂ غدیر کے اختتام کے بعد، پیغمبر اکرم صلیاللہعلیهوآلہ نے اپنا عمامہ، جس کا نام سحاب تھا، بطور تاجِ افتخار امیرالمومنین علیہالسلام کے سر پر رکھا اور عمامہ کا سرا ان کے کندھے پر لٹکا دیا، اور فرمایا: عمامہ عرب کا تاج ہے۔[۱]
علامہ امینی نے شیعہ اور سنی دونوں سے اس بارے میں کئی روایات نقل کی ہیں کہ پیغمبر اکرم صلیاللہعلیهوآلہ نے اپنا عمامہ حضرت امیرالمؤمنین علیہالسلام کے سر پر رکھا اور اس کے دونوں سروں کو ان کے سامنے اور پیچھے لٹکا دیاپھر فرمایا: میری طرف رخ کریں، انھوں نے رخ کیا، پھر پیغمبر صلیاللہعلیهوآلہ نے فرمایا: میری طرف پشت کریں، انھوں نے پشت کی، پھر پیغمبر صلیاللہعلیهوآلہ نے فرمایا: فرشتے میرے پاس اسی طرح آئے تھے۔[۲]
خود حضرت امیرالمؤمنین علیہالسلام نے اس بارے میں فرمایا: پیغمبر صلیاللہعلیهوآلہ نے مجھے غدیر خم کے دن عمامہ باندھا اور اس کا ایک سرا میرے کندھے پر لٹکا دیا اور فرمایا: خدا نے بدر اور حنین کے دن میری مدد ان فرشتوں سے کی جو اسی طرح کے عمامےپہنے ہوئے تھے۔[۳]
کہا جاتا ہے کہ یہ سحاب، امامت اور پیشوائی کی علامت ہے اور رسول خدا صلیاللہعلیهوآلہ کی شہادت تک یہ عمامہ حضرت امیرالمؤمنین علیہالسلام کے سر پر رہا۔
مآخذ
[۱] الغدیر، ج ۱، ص ۵۳۹
[۲] الغدیر، ج ۱، ص ۲۹۱
[۳] عوالم العلوم، ج ۲، ص ۱۹۹