امیرالمؤمنین علیہالسلام کی ذاتِ گرامی علم و حکمت کا وہ بحرِ بیکراں ہے جس کی ہر موج ہدایت کے گوہرِ نایاب سے لبریز ہے۔ جب سرِ اقدس پر ضربت لگی اور ظاہری حیاتِ طیبہ کے آخری لمحات قریب آئے، تو آپ علیہالسلام نے ایک ایسا جامع منشور عطا فرمایا جو رہتی دنیا تک انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ یہ وصیت محض چند جملوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ اسلامی فکر، تقوا اور سماجی ڈھانچے کی مضبوط اور واضح بنیاد ہے۔[1]
آپ علیہالسلام نے اپنی گفتگو کا آغاز توحیدِ پروردگار اور رسالتِ مآب صلیاللہعلیہوآلہ کی گواہی سے فرمایا، جو کہ کائنات کی سب سے بڑی سچائی ہے۔ امیرالمؤمنین علیہالسلام نے ارشاد فرمایا کہ میری نماز، میری بندگی، میری حیات اور میری موت صرف اس اللہ کے لیے ہے جس کا کوئی شریک نہیں۔ یہ نوارنی کلمات ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ زندگی کا اصلی مقصد کمال و سعادت تک پہنچنا ہے جو کہ مقصد تخیلقِ انسان ہے اور سب کمالات فقط اللہ سبحانه و تعالیٰ کے پاس ہیں۔
اپنے فرزندِ گرامی امام حسن علیہالسلام، تمام اہل بیت اور تاقیامت آنے والے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے آپ علیہالسلام نے ’’تقوا‘‘ کی وصیت فرمائی۔ یہ وہ قلعہ ہے جو انسان کو نفسانی خواہشات کے سیلاب سے محفوظ رکھتا ہے۔ آپ علیہالسلام نے تاکید فرمائی کہ قرآنِ مجید کے احکامات پر عمل پیرا ہونے میں کسی کو خود سے سبقت نہ لینے دینا۔ نماز کو دین کا ستون قرار دیا اور زکات کے ذریعے غضبِ الٰہی کی آگ کو ٹھنڈا کرنے کا نسخہ عطا فرمایا۔
معاشرتی سطح پر امیرالمؤمنین علیہالسلام نے یتیموں کی کفالت، پڑوسیوں کے حقوق اور صلہ رحمی پر اس قدر زور دیا کہ گویا یہ ایمان کا جزوِ لاینفک ہوں۔ آپ علیہالسلام نے خبردار کیا کہ ’’امر بالمعروف‘‘اور ’’نہی عن المنکر‘‘ کو کبھی ترک نہ کرنا، ورنہ بدکردار افراد تم پر مسلط ہو جائیں گے اور تمہاری دعائیں رد کر دی جائیں گی۔
کافی کی روایت کے مطابق، اس وصیتِ عظیم کے اختتام پر امیرالمؤمنین علیہالسلام کی زبانِ مبارک پر ’’لا إلہ إلا اللہ‘‘ کا ورد جاری رہا، یہاں تک کہ آپ علیہالسلام کی روحِ مطہر ملکوتِ اعلیٰ کی جانب پرواز کر گئی۔ یہ وصیت آج بھی عقل و دانش والوں کے لیے ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے۔
[1]۔ نہج البلاغہ، مکتوب نمبر 47
