سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

فضائلِ امیرالمؤمنین علی علیہ‌السلام؛ روایتِ امام رضا علیہ‌السلام کی روشنی میں

امام رضا علیہ‌السلام اپنے والد سے، وہ اپنے آباء سے، اور وہ امام حسین علیہ‌السلام سے روایت کرتے ہیں کہ رسولِ خدا صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ نے امیرالمؤمنین علی علیہ‌السلام سے خطاب فرمایا۔اس خطاب میں امیرالمؤمنین علی علیہ‌السلام کے مقام، صفات، ذمہ داریوں اور بعد کے حالات کو یکے بعد دیگرے بیان کیا گیا ہے (عیون أخبار الرضا علیہ‌السلام، ج 2، ص 6)۔

رسولِ خدا صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ نے فرمایا: «یَا عَلِیُّ أَنْتَ حُجَّةُ اللَّهِ»، یعنی اے علی! تم خدا کی حجت ہو، «وَ أَنْتَ بَابُ اللَّهِ»، اور تم خدا کا دروازہ ہو، «وَ أَنْتَ الطَّرِیقُ إِلَی اللَّهِ»، اور تم خدا کی طرف جانے کا راستہ ہو، «وَ أَنْتَ النَّبَأُ الْعَظِیمُ»، اور تم وہ عظیم خبر ہو، «وَ أَنْتَ الصِّرَاطُ الْمُسْتَقِیمُ»، اور تم ہی سیدھا راستہ ہو، «وَ أَنْتَ الْمَثَلُ الْأَعْلَی»، اور تم بلند ترین نشانی ہو۔

پھر فرمایا: «یَا عَلِیُّ أَنْتَ إِمَامُ الْمُسْلِمِینَ»، یعنی تم مسلمانوں کے امام ہو، «وَ أَمِیرُ الْمُؤْمِنِینَ»، اور تم مؤمنوں کے امیر ہو، «وَ خَیْرُ الْوَصِیِّینَ»، اور تم اوصیا میں سب سے بہترین ہو، «وَ سَیِّدُ الصِّدِّیقِینَ»، اور تم سچے لوگوں کے سردار ہو۔

یہ فضائل زبان وحی سے پیغمبر صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ ارشاد فرما رہے ہیں، مزید فرمایا: «یَا عَلِیُّ أَنْتَ الْفَارُوقُ الْأَعْظَمُ»، یعنی تم حق و باطل کے درمیان فاروق اعظم ہو، «وَ أَنْتَ الصِّدِّیقُ الْأَکْبَرُ»، اور تم صدیق اکبر ہو، «یَا عَلِیُّ أَنْتَ خَلِیفَتِی عَلَی أُمَّتِی»، اور تم میری امت پر میرے جانشین ہو، «وَ أَنْتَ قَاضِی دَیْنِی وَ مُنْجِزُ عِدَاتِی»، اور تم میرے قرض ادا کرنے والے اور میرے وعدے پورے کرنے والے ہو۔

پھر فرمایا: «یَا عَلِیُّ أَنْتَ الْمَظْلُومُ بَعْدِی»، یعنی تم میرے بعد مظلوم واقع ہوگے، «وَ أَنْتَ الْمُفَارِقُ وَ الْمَحْجُورُ بَعْدِی»، اور میرے بعد تم سے دوری اختیار کی جائے گی اور تمھیں کنارے کر دیا جائے گا۔

آخر میں فرمایا: «أَنَّ حِزْبَکَ حِزْبِی وَ حِزْبِی حِزْبُ اللَّهِ»، تمھارا گروہ میرا گروہ ہے اور میرا گروہ خدا کا گروہ ہے، «وَ حِزْبَ أَعْدَائِکِ حِزْبُ الشَّیْطَانِ»، اور تمھارے دشمنوں کا گروہ شیطان کا گروہ ہے۔

سبحان اللہ، اس خطاب میں امیرالمؤمنین علی علیہ‌السلام کو رسولِ خدا صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ نے دین میں مرکزی مقام، امامت، رہبری اور حق و باطل کی پہچان کے طور پر بیان فرمایا ہے۔ اسی کے ساتھ آپ کے بعد پیش آنے والے حالات اور امت کے دو گروہوں، حق اور باطل کی بھی نشاندہی کر دی گئی ہے۔

سب سے نبی کا رتبۂ اعلیٰ ہے دیکھ لو
شیرِ خدا کی شان دو بالا ہے دیکھ لو
میر انیس

 

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے