سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

حضرت ابوطالب علیہ‌السلام

ناصر رسول خدا صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ؛ حضرت ابوطالب علیہ‌السلام کے فضائل و مناقب

29 شوال حضرت ابوطالب علیہ‌السلام کی ولادت باسعادت کا دن ہے۔ حضرت ابوطالب علیہ‌السلام کی ذات گرامی کے بارے میں انسان کیا تحریر کرے

29 شوال حضرت ابوطالب علیہ‌السلام کی ولادت باسعادت کا دن ہے۔ حضرت ابوطالب علیہ‌السلام کی ذات گرامی کے بارے میں انسان کیا تحریر کرے۔

تاریخ اسلام کے افق پر بعض ایسی شخصیتیں ضوفشاں ہیں جن کی نصرت و حمایت کے بغیر دعوت حق کے سفر کا آغاز ہی نہ ہوتا۔ ان میں سر فہرست حضرت ابوطالب علیہ‌السلام کی ذات گرامی ہے، جن کی ولادت باسعادت نہ صرف خاندان بنی ہاشم بلکہ کائنات کے لیے ایک عظیم نوید ہے۔ ائمہ اہل بیت علیہم‌السلام کی نورانی روایات کی روشنی میں آپ کا مقام و مرتبہ محض ایک سرپرست کا نہیں، بلکہ ایک صاحب بصیرت حجت الٰہی کا ہے۔

روایات اہل بیت علیہم‌السلام  کی روشنی میں اگر آپ کی منزلت کا مشاہدہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ علم غیب کے حامل تھے، جب حضرت فاطمہ بنت اسد سلام‌اللہ‌علیہا نے رسول خدا صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ کی ولادت کی خبر دی، تو آپ نے تیس سال بعد امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کی صورت میں ویسی ہی خوشخبری کی پیش گوئی فرمائی۔[1] آپ کا ایمان وہ بحر بیکراں ہے جس کا وزن تمام مخلوقات کے ایمان پر بھاری ہے ۔[2] امام رضا علیہ‌السلام کے فرمان کے مطابق، آپ کے ایمان کا اقرار جہنم سے نجات کی ضمانت ہے۔[3]

بارگاہ رسالت میں آپ کا مرتبہ اس قدر بلند تھا کہ رسول خدا صلی‌الله‌علیہ‌وآلہ نے آپ کو اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک قرار دیا۔[4] یہاں تک کہ آپ کی وفات کے بعد جبرئیل علیہ‌السلام نے ہجرت کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ اب آپ کا مکہ میں کوئی مددگار باقی نہیں رہا۔[5]

آپ علیہ‌السلام کی عظمت کا یہ عالم ہے کہ امیرالمؤمنین علیہ‌السلام فرماتے ہیں کہ اگر میرے والد زمین کے تمام گناہگاروں کی شفاعت کریں تو اللہ اسے قبول فرمائے گا، اور قیامت میں ان کا نور پانچ انوار مقدسہ کے علاوہ تمام مخلوقات کے نور کو ماند کر دے گا[6]۔

 آپ کی شجاعت آپ کی نسل میں منتقل ہوئی اور آپ کا وجود مسعود دین اسلام کا وہ مضبوط ستون ثابت ہوا جس نے نبوت کی عمارت کو ہر طوفان سے محفوظ رکھا۔ بے شک، آپ عبدالمطلب کے وصی اور زمین پر اللہ کی حجت تھے[7]۔

[1] ۔ الکافی، ج 1، ص 452
[2] ۔ مستدرک الوسائل، ج 8، ص 69
[3] ۔ بحار الأنوار، ج 35، ص 110
[4] ۔ تسلیة المجالس، ج 1، ص 151
[5] ۔ الکافی، ج 1، ص 449
[6] ۔ امالی طوسی، ج 1، ص 305
[7] ۔ بحار الأنوار، ج 15، ص 117

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے