تیرہ رجب، عامُ الفیل کے تیسویں سال ایک عظیم اور بے مثال واقعہ پیش آیا۔ یہ ایسا منفرد واقعہ تھا جو تاریخِ انسانیت میں پہلے کبھی رونما نہیں ہوا تھا۔ بعد میں بھی یہ شرف کسی اور شخصیت کو حاصل نہیں ہوا۔ اس روز ایک نورانی بچے کی ولادت خانۂ کعبہ کے اندر ہوئی۔ اس بچے کا نام علی علیہالسلام رکھا گیا۔ اللہ کے گھر میں امام علی کی ولادت ایک عظیم فضیلت ہے۔
اس فضیلت کا اعتراف شیعہ محدثین کے ساتھ اہلِ سنت علما نے بھی کیا ہے۔ بے شمار اہلِ سنت علما نے اسے امیرالمومنین علی علیہالسلام کا منفرد شرف قرار دیا ہے۔
والدین کا رسول اکرم صلیاللہعلیہوآلہ کی زندگی میں کردار
آپ کے عظیم والد حضرت ابو طالب علیہالسلام اور والدہ محترمہ فاطمہ بنت اسد سلاماللہعلیہا تھیں، جو نہایت بافضیلت اور باکردار خاتون تھیں۔
جناب عبدالمطلب علیہالسلام کے انتقال کے بعد رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کی پرورش ابو طالب علیہالسلام کے گھر ہوئی۔
جہاں فاطمہ بنت اسد سلاماللہعلیہا نے ماں کی طرح حضور صلیاللہعلیہوآلہ کی دیکھ بھال کی۔ اپنے بچوں پر آپ کو ترجیح دی، اور ہمیشہ آپ میں نبوت کی نشانیاں مشاہدہ کرتی رہیں۔
پیغمبر اکرم صلیاللہعلیہوآلہ بھی انہیں ماں کہہ کر پکارتے تھے۔
حضرت خدیجہ سلاماللہعلیہا کے وصال کے بعد رسول اکرم صلیاللہعلیہوآلہ نے اپنی بیٹی فاطمہ زہرا سلاماللہعلیہا کو بھی فاطمہ بنت اسد سلاماللہعلیہا کے سپرد فرمایا، جنہوں نے نہایت محبت سے ان کی پرورش کی۔
فاطمہ بنت اسد سلاماللہعلیہا چوتھے ہجری سال مدینہ میں وفات پا گئیں اور جنت البقیع میں دفن ہوئیں۔
رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ نے خود ان کے جنازے پر نماز ادا فرمائی، قبر میں لیٹے، تلقین فرمائی اور خصوصی دعا کی۔
نورِ ولایت کا سلسلہ
امیرالمومنین علیہالسلام کی ولادت اس بات کی دلیل ہے کہ آپ کا نورِ ولایت انبیاء و اوصیاء کے پاکیزہ سلسلۂ نسب سے منتقل ہوتا ہوا حضرت عبدالمطلب علیہالسلام تک پہنچا، پھر دو حصوں میں تقسیم ہوا:
- ایک حصہ حضرت عبداللہ علیہالسلام کے ذریعے رسول اکرم صلیاللہعلیہوآلہ تک پہنچا
- اور دوسرا حصہ حضرت ابو طالب علیہالسلام کے ذریعے امیرالمومنین علیہالسلام میں جلوہ گر ہوا۔
ابوطالب علیہالسلام کی اولاد
حضرت ابو طالب علیہالسلام کے فرزند یہ تھے: طالب، عقیل، جعفر، فاختہ (ام ہانی)، جمانہ اور امیرالمؤمنین علیہالسلام۔
جب امیرالمومنین علی علیہالسلام کی ولادت ہوئی تو فاطمہ بنت اسد علیہالسلام کے چہرے پر خاص نورانیت ظاہر ہو گئی۔
ولادت کی عظمت
امام علی کی ولادت سب سے مقدس مقام میں ہوئی:
- خانہ کعبہ میں، جمعہ کے دن، حرمت والے مہینے میں: یہ شرف کسی اور انسان کو حاصل نہیں ہوا۔
- تین دن تک آپ نے آنکھیں نہ کھولیں، یہاں تک کہ رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کی آغوش میں آئے تو دیدار فرمایا۔
ولادت کی پیش گوئی
ایک عبادت گزار راہب نے حضرت ابو طالب علیہالسلام کو بشارت دی تھی:
کہ اللہ آپ کو ایک ایسا بیٹا عطا کرے گا جو ولیِ خدا ہوگا اور اس کا نام علی ہوگا۔
جنتی پھل اور حملِ نور
حضرت ابو طالب علیہالسلام اور فاطمہ بنت اسد سلاماللہعلیہا نے جنتی پھل تناول کیے، جن کے بعد امیرالمومنین علیہالسلام کا نورانی وجود وجود میں آیا، اور حمل کے دوران فاطمہ بنت اسد کی خوبصورتی اور نورانیت میں اضافہ ہوتا گیا۔
ولادت سے پہلے کے عجیب واقعات
مکہ میں زلزلہ آیا، بت گرنے لگے، اور حضرت ابو طالب علیہالسلام نے لوگوں کو اعلان کیا کہ ایک عظیم ولی کی ولادت قریب ہے، جس کی ولایت کو قبول کرنے سے ہی یہ مصیبت دور ہوگی۔ دعا کے بعد زلزلہ رک گیا۔
کعبہ کی جانب دعوت
تیرہ رجب کی شب فاطمہ بنت اسد سلاماللہعلیہا کو درد زہ شروع ہوا اور غیبی آواز آئی:
اے فاطمہ! ہمارے گھر میں داخل ہو جاؤ۔
وہ خانۂ کعبہ کے سامنے دعا کرنے لگیں، اور اچانک کعبہ کی دیوار شق ہو گئی، وہ اندر داخل ہو گئیں اور دروازہ بند ہو گیا۔
کعبہ کے اندر ولادت
انہوں نے دیکھا کہ حضرت حوا، سارہ، آسیہ اور مریم سلاماللہعلیہن تشریف لائیں اور ولادت میں مدد کی۔
تین دن خانۂ خدا میں
تین دن بعد غیبی ندا آئی:
اے فاطمہ! اس بچے کا نام علی رکھو، میں نے اسے اپنے نام سے موسوم کیا ہے۔ وہ بتوں کو توڑے گا، حق کو بلند کرے گا۔ خوش نصیب ہیں جو اس سے محبت کریں گے۔
رسول خدا کی آغوش میں
چوتھے دن دیوار دوبارہ شق ہوئی اور فاطمہ بنت اسد اپنے فرزند کو لے کر باہر آئیں۔
رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ نے علی علیہالسلام کو گود میں لیا، بوسہ دیا، اور آسمانی کتابوں کے مضامین آپ نے تلاوت فرمائے۔
بچپن کی یادیں
امیرالمومنین علیہالسلام خود فرماتے ہیں:
رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ مجھے گود میں لیتے، سینے سے لگاتے، غذا چبا کر کھلاتے۔ میں ان کی پیروی ایسے کرتا تھا جیسے بچہ ماں کی کرتا ہے۔ وہ ہر سال غارِ حرا جاتے اور اس وقت صرف میں ان کے ساتھ ہوتا تھا۔