سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

arafa

مولائے متقیان (ع) کے نقطۂ نظر سے روزِ عرفہ کا بلند مقام

روزِ عرفہ، مناسکِ حج کے آغاز کا دن ہے؛ اس دن حجاجِ کرام صحرائے عرفات میں جمع ہوتے ہیں اور دعا و استغفار کے ساتھ ساتھ فریضۂ حج کی ادائی کی توفیق پر پروردگار کا شکر بجا لاتے ہیں۔

۹ ذی الحجہ یعنی روزِ عرفہ، سال کے بابرکت ترین دنوں میں سے ایک ہے جسے گناہوں کی بخشش اور دعاؤں کی قبولیت کے لیے ایک خاص اور ممتاز دن قرار دیا گیا ہے۔ صحرائے عرفات وہ مقدس سرزمین ہے جہاں حضرت آدم (علیہ‌السلام) سے لے کر پیغمبرِ اکرم (صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌وسلم) تک تمام انبیاءِ الٰہی اور اوصیائے کرام؛ حضرت علی بن ابی طالب (علیہ‌السلام) سے لے کر امامِ مہدی موعود (عجل اللہ فرجہم الشریف) تک سب نے وقوف فرمایا اور اپنی موجودگی سے اس فرشِ خاکی کو شرف بخشا۔

اس سرزمین کی وجہِ تسمیہ (نام رکھنے کا راز)

«عَرَفَہ» اس مقام کا نام ہے جہاں حضرت آدم اور حضرت حوا علیہم السلام نے زمین پر ہبوط (اتارے جانے) کے بعد ایک دوسرے کو دوبارہ پایا اور پہچانا؛ اسی مناسبت سے اس جگہ کو عرفہ کہا جاتا ہے۔[۱]
لفظِ عرفہ، سرزمینِ عرفات (مکہ کا وہ مخصوص مقام جہاں اس تاریخ کو وقوف کرنا واجب ہے) سے لیا گیا ہے۔ بعض علماء کا کہنا ہے کہ عرفات کو عرفات اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ یہ پہاڑوں کے درمیان ایک متعین، جانی پہچانی اور واضح زمین ہے۔[۲]
امیرالمؤمنین حضرت علی بن ابی طالب (علیہ‌السلام) سے سوال کیا گیا کہ «عرفات» کا نام عرفات کیوں رکھا گیا؟
آپ (علیہ‌السلام) نے ارشاد فرمایا: "اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ‌السلام) نے مناسکِ حج کو ان توصیفات و علامات کے ذریعے پہچانا جو انہیں عرفات کے بارے میں دکھائی اور بتائی گئی تھیں۔”[۳]
صحرائے عرفات میں وحیِ الٰہی کے امین، جنابِ جبرئیل (علیہ‌السلام) نے حضرت ابراہیم (علیہ‌السلام) کو حج کے مناسک سکھائے اور اس وقت خلیلِ خدا فرما رہے تھے: «عَرِفتُ، عَرِفتُ» (میں نے پہچان لیا، میں نے جان لیا)۔

عرفات کے میدان میں مولائے متقیان (ع) کی جانشینی کا اعلان

علقمہ حضرمی حضرت امام محمد باقر (علیہ‌السلام) سے روایت نقل کرتے ہیں کہ:
"جب پیغمبرِ اکرم (صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌وسلم) میں وقوف فرمائے ہوئے تھے، تو جنابِ جبرئیلِ امین خدائے متعال کی طرف سے نازل ہوئے اور عرض کیا: اے محمد! اللہ عزوجل آپ کو سلام پیش کرتا ہے اور آپ کو آگاہ فرماتا ہے کہ آپ کی رحلت کا وقت قریب آ چکا ہے اور آپ کی عمرِ مبارک تمام ہونے کو ہے۔ اب میں آپ کو اس حتمی تقدیر کی طرف لے جا رہا ہوں جس سے کوئی مفر نہیں۔ پس اپنے عہد کو محکم کر لیجیے اور اپنی وصیت تیار فرما لیں۔ علومِ الٰہی اور گزشتہ انبیاء کا جو بھی ورثہ، بشمول اسلحہ، تابوت (صندوقِ عہد) اور دیگر علاماتِ نبوت آپ کے پاس ہیں، وہ سب اپنے بعد اپنے وصی اور جانشین کے سپرد فرما دیں۔
وہ جو لوگوں پر میری حجتِ بالغہ ہے، کوئی اور نہیں بلکہ علی بن ابی طالب (علیہ‌السلام) ہے۔ انہیں لوگوں کے سامنے اس منصب پر فائز کیجیے اور ان کی ولایت کا عہد و بیعت نئے سرے سے استوار کریں۔ لوگوں کو یاد دلائیں کہ میں نے ان سے کیا عہد لیا تھا؛ کہ ان پر لازم ہے کہ وہ میرے ولی کی ولایت کو قبول کریں، ان سے محبت رکھیں اور جان لیں کہ ہر مؤمن مرد اور مؤمنہ عورت کے حقیقی مولیٰ اور سرپرست علی بن ابی طالب (علیہ‌السلام) ہیں۔ کیونکہ میں نے کسی بھی نبی کی روح کو قبض نہیں کیا جب تک کہ اس سے پہلے اپنے دین کو کامل نہ کر دیا ہو اور اپنے اولیاء کی ولایت اور اپنے دشمنوں سے برائت کے ذریعے اپنی نعمت کو اتمام تک نہ پہنچا دیا ہو۔”[۴]

عرفات میں وقوف کے اسرار اور فلسفہ

سرزمینِ عرفات اپنے اندر بے شمار اسرار چھپائے ہوئے ہے؛ یہ وہ مقدس مقام ہے جس کا گہرا تعلق انسان کے آنسوؤں، آہوں اور توبہ و مناجات سے ہے۔ امیر‌المؤمنین علی (علیہ‌السلام) نے عرفات میں وقوف کے باطنی راز کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
"عرفات، حدودِ حرم سے باہر واقع ہے اور اللہ کے مہمان کو شہرِ حرم کے دروازے سے باہر اس قدر تضرع، زاری اور گریہ و بکا کرنا چاہیے تاکہ وہ حرمِ الٰہی کے اندر داخل ہونے کا اہل اور لائق بن سکے۔”[۵]
روزِ عرفہ کے وقتِ عصر اور دسویں ذی الحجہ کے وقتِ ظہر، جب حجاجِ کرام میدانِ منیٰ میں موجود ہوتے ہیں، تو خدائے سبحان فرشتوں کے سامنے ان پر فخر (مباہات) فرماتا ہے اور ارشاد کرتا ہے:
"یہ میرے وہ بندے ہیں جو دور و دراز کے راستوں سے بے پناہ مشقتیں اٹھا کر یہاں پہنچے ہیں، انہوں نے بہت سی لِذتوں کو خود پر حرام کیا اور عرفات و منیٰ کے بیابانوں کی ریت پر سوئے۔ اس طرح وہ گرد آلود چہروں کے ساتھ میری بارگاہ میں اپنی عاجزی، ناتوانی اور ذلت کا اظہار کر رہے ہیں (پس گواہ رہو کہ میں نے انہیں بخش دیا)۔”

مغفرت اور بخشش کا عظیم دن

روزِ عرفہ کی عظمت، بزرگی اور اس دن توبہ کی قبولیت کی شان میں امیر‌المؤمنین علی (علیہ‌السلام) کی نقل کردہ یہ ایک ہی روایت کافی ہے کہ آپ (علیہ‌السلام) نے فرمایا:
"پیغمبرِ اکرم (صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌وسلم) سے عرض کیا گیا: اے اللہ کے رسول! عرفات میں موجود لوگوں میں سب سے بڑا گناہ گار کون ہے؟
پیغمبرِ اکرم (صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌وسلم) نے ارشاد فرمایا: (سب سے بڑا گناہ گار) وہ شخص ہے جو عرفات سے (وقوف مکمل کر کے) واپس لوٹے اور یہ گمان کرے کہ اسے بخشا نہیں گیا ہے۔[۶]

مآخذ
[۱] راغب اصفهانی، مفردات، ۱۴۰۴ق، صفحۀ۳۳۱
[۲] مصطفوی، التحقیق لکلمات القرآن الکریم، ج۸، صفحۀ۱۲۰
[۳] تفسیر نورالثقلین، جلد ۱، صفحۀ ۱۹۶
[۴] بحار الانوار، جلد ۳۷، صفحۀ ۲۰۲
[۵] اصول کافی، ج۴، صفحۀ ۲۲۴
[۶] الجعفریات، صفحۀ ۶۴

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے