سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

امیرالمؤمنین (علیہ‌السلام) کی جانب سے پہلی نمازِ جمعہ

۲۵ ذی‌الحجہ وہ تاریخی اور مبارک دن ہے جب حضرت امیرالمؤمنین علی (علیہ‌السلام)، نے لوگوں کی جانب سے بیعتِ عامہ کے بعد، پہلی مرتبہ نمازِ جمعہ کا خطبہ ارشاد فرمایا۔ یہ ایک ایسا معرکہ آرا خطبہ تھا جس میں آپ (علیہ‌السلام) نے عدل و انصاف کی پاسداری، اسلامی اخلاقیات اور راہِ حق کی غیر متزلزل پیروی پر شدید تاکید فرمائی۔

حضرت امیرالمؤمنین علی (علیہ‌السلام) نے ابتدا میں اس دنیاوی مسند اور بھاری ذمہ داری کو قبول کرنے کی طرف کوئی رغبت یا تمائل ظاہر نہ فرمایا۔ تاہم، عوام کے والہانہ اور شدید اصرار کی وجہ سے، اور مسلمانوں کو دوبارہ "نظامِ سقیفہ” کی انحراف آمیز ڈگر پر چلنے سے روکنے کے لیے، آپ (علیہ‌السلام) نے بالآخر امت کی بیعت کو قبول فرما لیا۔

بیعت کا واقعہ اور امام (علیہ‌السلام) کی شرط

عثمان کے قتل کے بعد، اسلامی معاشرہ ایک شدید بحرانی صورتحال سے دوچار ہو گیا اور اسے ایک ایسے مصلح اور رہنما کی اشد ضرورت تھی جو دگرگوں حالات کو سنبھال سکے۔ لوگ، بالخصوص اہل مدینہ، امیرالمؤمنین (علیہ‌السلام) کی طرف متوجہ ہوئے اور آپ (علیہ‌السلام) سے خلافت (کی بھاری ذمہ داری) قبول کرنے کی التجا کی۔
عثمان کے قتل کے بعد، مہاجرین اور انصار پر مشتمل اصحابِ رسول (صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌وسلم) کا ایک گروہ، جس میں طلحہ اور زبیر بھی شامل تھے، امیرالمؤمنین (علیہ‌السلام) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ امت کو ایک قائد و رہبر کی ضرورت ہے۔

امام (علیہ‌السلام) نے ارشاد فرمایا: "میرے رہنما بننے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، تم (اپنے لیے) جس کا بھی انتخاب کرو گے، مجھے قبول ہو گا۔”

لیکن انہوں نے اصرار کیا اور کہا کہ اسلام میں طویل سابقہ (سبقت) اور رسولِ خدا (صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌وسلم) سے قریبی قرابت داری کے باعث کائنات میں آپ (علیہ‌السلام) سے زیادہ کوئی اور اس منصب کا شایانِ شان اور اہل نہیں ہے۔

امیرالمؤمنین (علیہ‌السلام) نے جواب دیا:”مجھ پر دباؤ نہ ڈالو، کیونکہ میرا وزیر (مشیر) ہونا امیر بننے سے بہتر ہے۔”

اس کے باوجود، انہوں نے قسم کھائی کہ وہ آپؑ کے سوا کسی اور کے ہاتھ پر بیعت نہیں کریں گے۔ بالآخر امامؑ نے (امت کے اصرار پر) اسے قبول فرما لیا، لیکن یہ شرط عائد کی کہ یہ بیعت خفیہ طور پر نہیں بلکہ مسجد میں علانیہ اور سب کے سامنے ہونی چاہیے۔

پہلا بیعت کرنے والا ہاتھ

امیرالمؤمنین (علیہ‌السلام) اس وقت اپنے کاشانۂ اقدس میں تشریف فرما تھے، تاہم ایک روایت میں یہ بھی منقول ہے کہ شاید آپؑ ‘بنو عمرو بن مبذول’ کے باغ میں تشریف فرما تھے۔ پھر امامؑ مسجد کی طرف روانہ ہوئے۔ آپ (علیہ‌السلام) قمیص اور پاجامہ زیب تن کیے ہوئے تھے، سرِ مبارک پر خز (قیمتی ریشمی کپڑے) کا عمامہ تھا، نعلین مبارک ہاتھ میں پکڑے ہوئے تھے اور عصا پر تکیہ کیے ہوئے تھے۔ لوگ آپ (علیہ‌السلام) کی بارگاہ میں امڈ آئے اور بیعت کرنے لگے۔

سب سے پہلے بیعت کے لیے آگے بڑھنے والے طلحہ بن عبید اللہ تھے۔ اس لمحے حبیب بن ذؤیب نے کہا: "إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ” اور طلحہ کے معذور(مفلوج) ہاتھ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا: "بیعت کے لیے جو پہلا ہاتھ آگے بڑھا ہے، وہ شل ہے؛ یہ معاملہ پایۂ تکمیل کو نہیں پہنچے گا!”

ان کے بعد زبیر نے بیعت کی۔

امام (علیہ‌السلام) نے ان دونوں سے مخاطب ہو کر فرمایا: "اگر تم چاہتے ہو تو میری بیعت کرو، ورنہ اگر تم کہو تو میں (بطور خلیفہ) تمہاری بیعت کر لیتا ہوں؟”

انہوں نے عرض کی: "نہیں، ہم آپ ہی کی بیعت کرتے ہیں۔”

لیکن بعد میں انہوں نے یہ عذر تراشا اور اعتراف کیا کہ انہوں نے یہ قدم محض اپنی جان کے خوف سے اٹھایا تھا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ امامؑ ان کی بیعت ہرگز نہیں کریں گے۔ چنانچہ محض چار ماہ بعد وہ دونوں مکہ فرار ہو گئے!
طلحہ اور زبیر کی بیعت کے بعد، عام لوگوں نے امیرالمؤمنین (علیہ‌السلام) کے ہاتھ پر بیعت شروع کی۔ اس دوران سعد بن ابی وقاص کو امام (علیہ‌السلام) کی بارگاہ میں لایا گیا اور ان سے بیعت کا مطالبہ کیا گیا۔ سعد نے کہا: "جب تک باقی سب لوگ بیعت نہیں کر لیتے، میں بیعت نہیں کروں گا، لیکن خدا کی قسم! میری طرف سے آپ کی حکومت کو کوئی خطرہ یا نقصان نہیں پہنچے گا۔”

امام (علیہ‌السلام) نے فرمایا: "اسے چھوڑ دو۔”

سپس، عبداللہ بن عمر کو لایا گیا اور ان سے بھی بیعت کا کہا گیا۔ انہوں نے کہا: "جب تک سب لوگ بیعت نہیں کر لیتے، میں بیعت نہیں کروں گا۔”

امام (علیہ‌السلام) نے دریافت فرمایا: "کیا تم اپنی اس بات پر کسی کو ضامن پیش کرتے ہو؟” انہوں نے جواب دیا کہ ان کا کوئی ضامن نہیں ہے۔

اس پر مالکِ اشتر نے غصے میں امام (علیہ‌السلام) سے عرض کی: "مجھے اجازت دیں کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔”

لیکن امام (علیہ‌السلام) نے جواب دیا: "اسے چھوڑ دو، میں خود اس کا ضامن ہوں۔ میں تند خو اور کج خلق افراد کے معاملے میں چھوٹے اور بڑے کا کوئی فرق روا نہیں رکھتا (حق سب کے لیے برابر ہے)۔”

پھر انصار آئے اور انہوں نے امام (علیہ‌السلام) کی بیعت کی۔ اس مراسم کے بعد لوگ منتشر ہو گئے اور یہ طے پایا کہ اگلے دن (جمعہ کو) دوبارہ مسجد میں بیعتِ عامہ کے لیے اجتماع ہو گا۔

عثمان کی خون آلود قمیص اور بیعت سے گریز

جب عوام مولائے کائنات (علیہ‌السلام) کے ہاتھ پر بیعت کر رہے تھے، تو انصار کے چند افراد نے، جو عثمان کے ہمدرد تھے، بیعت کرنے سے انکار کر دیا۔ ان میں نمایاں نام یہ تھے:
حسان بن ثابت، کعب بن مالک، سلمہ بن مخلد، اور ابو سعید خدری، محمد بن مسلمہ، نعمان بن بشیر، زید بن ثابت، اور رافع بن خدیج، فضالہ بن عبید، اور کعب بن عجرہ۔
اسی دوران، نعمان بن بشیر عثمان کی خون آلود قمیص اور ان کی زوجہ ‘نائلہ’ کی کٹی ہوئی انگلیاں اٹھا کر شام کی طرف روانہ ہو گئے۔ معاویہ نے دمشق میں عثمان کی قمیص اور ان کی زوجہ کی کٹی ہوئی انگلیوں کو آویزاں کر دیا۔ اس اقدام نے اہلِ شام کے غیظ و غضب کو مزید بھڑکا دیا اور انہیں (حکومتِ مدینہ کے خلاف) جنگ کے لیے زیادہ سنگین اور پرعزم کر دیا۔

پہلا تزویراتی و راہنما خطبہ

امیرالمؤمنین (علیہ‌السلام) نے خلافت کی بھاری ذمہ داری قبول کرنے کے بعد، اپنے پہلے نمازِ جمعہ میں ایک معرکہ آرا خطبہ ارشاد فرمایا۔ اس خطبے میں آپ (علیہ‌السلام) نے اسلامی حکومت کے بنیادی اصولوں اور اہداف کی تشریح کی اور اسلامی معاشرے کی قیادت کے لیے اپنے عدل محور منشور کا خاکہ لوگوں کے سامنے پیش کیا۔

جمعہ کے دن، جو بیعتِ عامہ کا وقت مقرر تھا، لوگ مسجد میں کثیر تعداد میں جمع ہو گئے۔ امیرالمؤمنین (علیہ‌السلام) منبر پر تشریف فرما ہوئے اور ارشاد فرمایا:
"اے مختلف گروہوں اور قبیلوں سے تعلق رکھنے والے لوگو! خلافت تمہارا حق ہے اور اس پر فائز ہونے کا حقدار صرف وہی شخص ہے جسے تم منتخب کرو۔ کل تک ہمارے درمیان خلافت کے معاملے میں اختلاف تھا اور میں اسے قبول کرنے کا بالکل خواہش مند نہ تھا، لیکن تم نے شدید اصرار کیا۔ جان لو کہ تمہارے سپرد کردہ امور کے انتظام کے علاوہ میرے پاس کوئی ذاتی اختیار نہیں ہے، اور نہ ہی مجھے یہ حق حاصل ہے کہ میں تمہارے مقابلے میں اپنے لیے (بیت المال سے) کچھ زیادہ لوں۔”

لوگوں نے دوبارہ اصرار کیا کہ آپ خلافت کو علانیہ قبول فرمائیں۔ اس پر امام (علیہ‌السلام) نے فرمایا:
"بارِ الٰہا! تو گواہ رہنا۔ یہ بیعت جمعہ کے دن، سال ۳۵ ہجری کے ماہِ ذوالحجہ کے اختتام سے پانچ روز قبل (۲۵ ذوالحجہ کو) انجام پائی۔”

آپ (علیہ‌السلام) نے حمد و ثنائے الٰہی کے بعد مزید ارشاد فرمایا:

"خداوندِ عالم نے ایک ایسی کتابِ ہدایت نازل فرمائی ہے جس میں خیر و شر اور نیکی و بدی کے راستوں کو پوری طرح واضح کر دیا گیا ہے۔ پس تمہیں چاہیے کہ نیکی کا راستہ اپناؤ اور برائیوں سے دوری اختیار کرو۔ اپنے دینی فرائض کو کماحقہٗ ادا کرو تاکہ جنت کی طرف تمہاری رہنمائی ہو سکے۔ اللہ تعالیٰ نے حرام کردہ چیزوں کو واضح طور پر بیان فرما دیا ہے اور جن چیزوں کو حلال کیا ہے، وہ ہر عیب و نقص سے پاک ہیں۔
نیز خداوندِ عالم نے مسلمانوں کی حرمت و احترام کو ہر چیز سے برتر قرار دیا ہے اور ان کے حقوق کو اخلاص اور توحید کی بنیاد پر مستحکم کیا ہے۔ حقیقی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں، سوائے وہاں جہاں حق کا تقاضا ہو۔ لوگوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ کسی بھی مسلمان کو بغیر کسی واجب وجہ کے آزار پہنچانا جائز نہیں ہے۔
موت کو یاد رکھو؛ یہ وہ راستہ ہے جس سے ہر شخص کو ناگزیر گزرنا ہے۔ تم سے پہلے کئی گروہ جا چکے ہیں اور قیامت تمہارے تعاقب میں ہے۔ زندگی میں سبکبار (ہلکے پھلکے) رہو تاکہ تم ان لوگوں سے جا ملو جو تم سے پہلے جا چکے ہیں؛ کیونکہ وہ پچھلوں کے منتظر ہیں۔ تقوائے الٰہی اختیار کرو اور اللہ کے بندوں کے حقوق اور اس کی زمینوں کی حفاظت کرو؛ کیونکہ تم سے شہروں، گھروں اور حتیٰ کہ چوپایوں کے بارے میں بھی بازپرس کی جائے گی۔ اللہ کے احکامات کی اطاعت کرو، جب کسی بھلائی کو دیکھو تو اسے اختیار کرو اور جب برائی کو دیکھو تو اس سے کنارہ کشی کرو۔”[۱]

مشکلات سے نکلنے کا صراطِ مستقیم

امیر المؤمنین علی (علیہ‌السلام) نے نمازِ جمعہ کے اس پہلے خطبے میں اعمال کے نتائج و عواقب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے معاشرے کے لوگوں کو چند زمروں میں تقسیم فرمایا اور درپیش بحرانوں سے نکلنے کی راہ متعین کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
"کوئی شخص کسی دوسرے کے ساتھ بھلائی نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ پہلے اپنے نفس کے ساتھ بھلائی نہ کرے۔ اور وہ شخص جس کے سامنے جنت اور دوزخ موجود ہیں، اسے ہوشیار رہنا چاہیے اور عملِ خیر میں مصروف ہونا چاہیے۔
لوگ پانچ اقسام کے ہیں: ایک وہ گروہ جو کوشاں اور سرگرمِ عمل ہے؛ دوسرا وہ جو شوق اور امید کے ساتھ قربِ الٰہی کے لیے تگ و دو کرتا ہے؛ اور تیسرا وہ گروہ جو اپنے فرائض کی ادائیگی میں کوتاہی کرتا ہے اور اس کا راستہ جہنم کی طرف جاتا ہے۔
ان تین گروہوں کے علاوہ، چوتھا گروہ ان فرشتوں کا ہے جو اللہ کی اطاعت میں اپنے پروں کے ساتھ پرواز کرتے ہیں، اور پانچواں گروہ ان انبیاء کا ہے جن کی اللہ تعالیٰ ہمیشہ نصرت فرماتا ہے۔ ان کے علاوہ کوئی اور گروہ وجود نہیں رکھتا۔
جو شخص باطل کا دعویٰ کرے گا وہ ہلاک ہو جائے گا، اور جو دوسروں کے حقوق پر تجاوز کرے گا وہ نابود ہو جائے گا۔ دائیں یا بائیں جانب کے انحرافات کی طرف مائل ہونا گمراہی ہے، اور سیدھا راستہ وہی ہے جس کی سچائی پر کتابِ خدا، سنتِ رسول (صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ‌وسلم) اور آثارِ نبوت گواہی دیتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے امت کی مشکلات اور بیماریوں کے علاج کے لیے دو وسائل مقرر کیے ہیں: ایک تازیانہ (کوڑا) اور دوسرا تلوار؛ اور امام ان کے استعمال میں کسی قسم کی نرمی یا مداہنت سے کام نہیں لے گا۔ لہذا، بہتر یہی ہے کہ لوگ اپنے گھروں میں رہیں، اپنے نادرست اعمال کی اصلاح کریں اور اللہ سے مغفرت طلب کریں۔ اگر کوئی شخص یکطرفہ عمل کرے گا اور حق کو آشکار نہیں کرے گا، تو وہ انجام کار ہلاک ہو جائے گا۔”

ماضی کی کج رویوں اور غلط راستوں کی اصلاح

مولائے متقیان (علیہ‌السلام) نے اپنے پہلے خطبے میں اس غلط روش پر کڑی تنقید فرمائی جو اگلوں نے اختیار کی تھی اور جس نے امتِ مسلمہ کو حقیقی سعادت کی راہ سے دور کر دیا تھا۔ آپ (علیہ‌السلام) نے ارشاد فرمایا:
"ماضی میں کچھ ایسے امور انجام پائے ہیں جن کے ایک حصے کے ذمہ دار تم بھی ہو۔ جان لو! اگر میں وہ سب کچھ بیان کرنا چاہوں جو اس وقت بیان کیا جانا چاہیے، تو میں کہہ دوں گا؛ (مگر) ہم اللہ کی بارگاہ میں التجا کرتے ہیں کہ وہ ماضی کی خطاؤں سے درگزر فرمائے۔
وہ پہلے دو شخص (ابوبکر اور عمر) آگے بڑھے اور گزر گئے، اور تیسرا شخص (عثمان) اس کوے کی مانند اٹھا جس کی تمام تر فکر صرف اپنے شکم (پیٹ) تک محدود تھی۔ افسوس ہے اس پر! اگر اس کے پر نوچ لیے جاتے اور اس کی جان لے لی جاتی، تو یہ اس کے لیے زیادہ بہتر ہوتا۔
میری روش اور رفتار کو دیکھو؛ اگر میری باتوں کو نادرست پاؤ تو انہیں مسترد کر دو، اور اگر انہیں برحق سمجھتے ہو تو ہٹ دھرمی اور لجاجت کو چھوڑ دو۔ حق اور باطل ہمیشہ سے موجود ہیں اور ان میں سے ہر ایک کے اپنے پیروکار اور اہل ہیں۔ باطل ہمیشہ کثرت میں رہا ہے، لیکن حق—خواہ وہ کتنا ہی قلیل کیوں نہ ہو عظمت پا سکتا ہے اور دوبارہ پلٹ کر آ سکتا ہے۔
اگر معاملات اپنی اصل اور درست ڈگر پر لوٹ آئیں، تو تم سعادت مند ہو جاؤ گے۔ لیکن مجھے خدشہ ہے کہ کہیں تم اسلام سے پہلے کے فترت (جہالت) کے دور کی طرح نہ ہو جاؤ اور ان فرائض کو ترک کر بیٹھو جو تمہیں انجام دینے چاہئیں۔ میرا فریضہ صرف امور کی اصلاح کے لیے کوشاں رہنا ہے۔
جان لو کہ میرے اہلِ بیتؑ کائنات میں سب سے زیادہ شائستہ و سزاوار لوگ ہیں؛ وہ بچپن میں سب سے زیادہ بردبار اور بزرگی میں سب سے زیادہ دانا ہیں۔ ہم وہ گھرانہ ہیں جن کا علم حکمتِ الٰہی سے سرچشمہ لیتا ہے اور ہمارا فیصلہ اللہ کے حکم کے مطابق ہوتا ہے۔ ہماری گفتگو سراسر حقیقت پر استوار ہے۔
اگر تم ہمارے راستے کی پیروی کرو گے تو ہدایت پا لو گے۔ لیکن اگر تم اس راستے سے دور ہٹے، تو اللہ ہمارے ہاتھوں تمہیں مجازات (سزا) دے گا۔ حق و حقیقت کا علم (پرچم) ہمارے پاس ہے؛ جو اس سے وابستہ ہوا وہ راہِ راست پر آ گیا، اور جو اس سے دور ہوا وہ گمراہ ہو گیا۔ ہر مومن کے خون کا قصاص ہمارے ذریعے طلب کیا جائے گا اور تمہاری گردنوں سے ذلت و خواری کے طوق ہمارے ہی ذریعے اتارے جائیں گے۔ امور کا آغاز اور انجام ہمارے ہاتھ میں ہے، تمہارے ہاتھ میں نہیں۔”[۲]

مآخذ
[۱] بحار الانوار، جلد ۳۲، صفحۀ ۷
[۲] بحار الانوار، جلد ۳۲، صفحۀ ۹ / الارشاد، صفحۀ ۱۳۶

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے