ابنِ عباس کہتے ہیں: ایک دن مقامِ ذی قار میں، میں امیرالمؤمنین علیہالسلام کی خدمت میں حاضر ہوا۔ حضرت نے ایک کتاب نکالی اور مجھ سے فرمایا: ”اے ابنِ عباس! یہ وہ کتاب ہے جسے رسولِ خدا صلیاللہعلیهوآلہوسلم نے مجھ پر املا فرمایا تھا اور یہ خود میرے اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئی ہے۔“ میں نے عرض کیا: ”یا امیرالمؤمنین! اسے میرے لیے پڑھ کر سنائیے۔“
کتاب کے مندرجات
حضرت علیہالسلام نے اسے پڑھنا شروع کیا۔ اس کتاب میں رسولِ خدا صلیاللہعلیهوآلہوسلم کی رحلت سے لے کر امام حسین علیہالسلام کی شہادت تک کے تمام واقعات درج تھے کہ وہ کس طرح شہید کیے جائیں گے، کون انہیں شہید کرے گا، کون ان کی نصرت کرے گا اور کون کون ان کے ہمراہ شہادت کے مرتبے پر فائز ہوگا۔ یہ سب پڑھ کر حضرت علیہالسلام زار و قطار روئے اور ان کے رونے نے مجھے بھی رلا دیا۔
پرانے زخم
ان مکتوبات میں سے جو حضرت نے میرے سامنے پڑھے، ان میں یہ بھی درج تھا کہ خود امیرالمؤمنین علیہالسلام کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا، حضرت فاطمہ زہرا سلاماللہعلیہا کس طرح شہید ہوں گی، امام حسن علیہالسلام کو کس طرح شہید کیا جائے گا اور یہ امت کس طرح ان کے ساتھ مکر و دغا کرے گی۔
کتاب کا بند ہونا
جب امام علیہالسلام نے امام حسین علیہالسلام کی شہادت کی کیفیت و تفصیلات پڑھ لیں، تو آپ نے شدید گریہ فرمایا اور پھر اس کتاب کو بند کر دیا۔ اس کتاب میں باقی وہ تمام واقعات بھی موجود تھے جو قیامت کے دن تک رونما ہونے والے ہیں۔
ماخذ
کتاب سُلیم بن قیس الہلالی، ج۲، ص ۹۱۵