اٹھارویں ذی الحج سنہ ۱۰ ہجری، ظہر کا وقت تھا اور حضرت ابوذر اذان دے رہے تھے۔ انہوں نے اذان میں کہا: "أَشْهَدُ أَنَّ عَلِيًّا وَلِيُّ اللّهِ”۔
مجمع دوڑا رسول اللہ صلیاللہعلیہوآلہ کے پاس
رسول اللہ صلیاللہعلیہوآلہ نے فرمایا: ابوذر وہی کہہ رہے ہیں جو تھوڑی دیر پہلے میں نے غدیرِ خم کے دن کہا تھا۔ میں نے وہی کہا جو جبرئیل علیہالسلام لے کے آئے، اور جبرئیل علیہالسلام وہی لے کے آئے جو اللہ نے کہلوایا تھا۔
اور پھر رسول اللہ صلیاللہعلیہوآلہ نے نمازِ ظہر و عصر ملا کے پڑھائی۔
لوگ ہم سے پوچھتے ہیں کہ آپ نمازِ ظہر و عصر ملا کے کیوں پڑھتے ہیں؟ ہم نے کہا کہ ہم اِس لیے ملا کر پڑھتے ہیں تاکہ غدیر کی یاد ہر روز تازہ رہے۔
السلافة فی امر الخلافة، علامہ شیخ عبداللہ مراغی مصری، ص۳۵ / الغدیر، علامہ امینی، ج۱، ص۵۰۸