انہی مقدس ابواب میں امام جواد علیہالسلام کی مختصر مگر مظلومیت بھری زندگی بھی شامل ہے۔
آپ کی حیاتِ مبارکہ میں کم سنی، غربت، تہمت، تنہائی اور شہادت کے کئی پہلو نمایاں ہیں۔
امام رضا علیہالسلام کی پیشگوئی اور امام جواد علیہالسلام کی شہادت
آپ علیہالسلام ایسے جوان امام ہیں جن کے بارے میں امام رضا علیہالسلام نے ولادت کی شب ہی خبر دے دی تھی کہ:
میرے بابا کی قسم! میرا یہ فرزند ایسا شہید ہے جس پر اہل آسمان گریہ کریں گے۔[۱]
امام جواد علیہالسلام کی حیاتِ مبارکہ ابتدا ہی سے عباسی سیاست کی نگرانی میں گزری۔
مامون کی سیاسی چالیں اور امام جواد علیہالسلام
مامون نے اپنی بیٹی کا نکاح آپ علیہالسلام سے کرکے ظاہری قربت ظاہر کرنے کی کوشش کی۔ لیکن اسی رات آپ علیہالسلام کی حرمت پامال کرنے کے لیے ساز و آواز کا اہتمام کیا گیا۔
آراستہ کنیزوں کو بھی آپ علیہالسلام کے پاس بھیجا گیا۔ مقصد یہ تھا کہ آپ علیہالسلام کے مقامِ امامت کو مجروح کیا جائے۔ [۲]
مدینہ میں امام جواد علیہالسلام کی مظلومیت
اسی طرح مدینہ کے حاکم نے حالتِ روزہ میں آپ علیہالسلام پر ناروا تہمت عائد کی۔ دربار خلافت میں بھی آپ علیہالسلام کے خلاف جعلی خطوط تیار کیے گئے۔
ان خطوط کا مقصد آپ علیہالسلام کو ایک سیاسی خطرے کے طور پر پیش کرنا تھا۔[۳]
زہر کے ذریعے امام جواد علیہالسلام کی شہادت
مظالم کا یہ سلسلہ یہاں تک پہنچا کہ امام جواد علیہالسلام دنیا سے رخصت ہونے کو فرج اور راحتی و سکون قرار دیتے تھے۔[۴]
آخرکار معتصم کے حکم پر امِ فضل نے زہر دے کر آپ علیہالسلام کو شہید کر دیا۔
روایت میں ہے کہ شدت زہر سے آپ علیہالسلام نے پانی طلب فرمایا مگر آپ کو ایک گھونٹ پانی بھی نہ دیا گیا۔[۵]
شہادت کے بعد بھی مظلومیت کا سلسلہ
شہادت کے بعد بھی مظلومیت ختم نہ ہوئی۔ پیکر اطہر کو کئی دن تک دھوپ میں چھوڑ دیا گیا، یہاں تک کہ پرندے اپنے پروں سے سایہ کرتے رہے۔
یہی وہ دردناک حقیقت ہے جس نے امام جواد علیہالسلام کو تاریخِ امامت کے جوان ترین اور مظلوم ترین شہدا میں ممتاز کر دیا۔[۶]
مآخذ
[۱] عیون المعجزات، ج۱، ص ۱۱۸
[۲] الکافي، ج ۱، ص ۴۹۴
[۳] الکافي، ج ۱، ص ۴۹۶؛ الخرائج والجرائح، ج ۲، ص ۶۷۰
[۴] كشف الغمة، ج ۲، ص ۳۶۳
[۵] أنوار الشهادة، ص ۴۱۴
[۶] أنوار الشهادة، ص ۴۱۴ ؛ مجموعة وفيات الأئمة، ص ۳۴۳
