سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

مولائے متقیان کا پیغمبرِ خاتم سے سوال؛ ماہِ رمضان میں بہترین عمل کیا ہے؟

پیغمبرِ خدا صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ کا ماہِ رمضان کی آمد پر دیا گیا خطبہ پرہیز گاری اور تزکیۂ نفس سے لے کر مقامِ ولایت کی معرفت اور اس میں غور و فکر تک کے حوالے سے اس بےمثال مہینے کی فرصت سے بہرمند ہونے کے لیے ایک مکمل رہنما کی حیثیت رکھتا ہے ؛ وہ خطبہ کہ جو ماہِ رمضان کے فضائل و آداب کے ساتھ امیرالمؤمنین علیہ‌السلام کی خبرِ شہادت کے ذریعے عبادت، اخلاق اور ولایت کے مابین ایک گہرا تعلق برقرار کرتا ہے۔

حضرتِ محمد صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ نے ماہِ شعبان کے آخری دنوں میں خاص طور ماہِ رمضان کے فضائل کے حوالے سے مسجدِ نبوی میں ایک خطبہ ارشاد فرمایا، اسی دوران امیرالمؤمنین علیہ‌السلام نے کہ جو مسجد کے آخر میں بیٹھے ہوئے تھے، آپ سے ایک سوال پوچھا۔

ماہِ رمضان میں بہترین عمل

امیرالمؤمنین علیہ‌السلام نے رسول اللہ صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ سے پوچھا: اس مہینے میں بہترین عمل کیا ہے؟آنحضرت نے فرمایا: اے ابو الحسن، اس مہینے میں بہترین عمل، پرہیز گاری اور گناہوں اور محرماتِ الٰہی سے دور رہنا ہے۔جن چیزوں کو اللہ نے حرام کیا ہے ان سے اجتناب کرنا اور استوار رہنا۔[1]

رحمت اور مغفرت کا مہینہ

امامِ رضا علیہ‌السلام نے امیرالمؤمنین علیہ‌السلام سے نقل کرتے ہوئے ماہِ رمضان کے حوالے سے پیغمبرِ خاتم صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ کے خطبے کے بارے میں روایت کی ہے: ایک دن، پیغمبرِ خدا صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ نے ہمارے لیے خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا: اے لوگو! اللہ کا مہینہ برکت، رحمت اور مغفرتِ الٰہی کے ساتھ تمہاری سمت آچکا ہے۔ وہ مہینہ جو اللہ کے نزدیک بہترین مہینہ ہے اور اس کے دن بہترین دن، اس کی راتیں بہترین راتیں اور اس کی ساعتیں بہترین ساعتیں ہیں۔

روزہ دار کی ذمہ داریاں

پھر آپ نے ایک حقیقی روزہ دار کی ذمہ داریوں کو گنوایا اور فرمایا:
یہ وہ مہینہ ہے جس میں تمھیں اللہ کا مہمان بننے کی دعوت دی گئی ہے اور ان لوگوں میں سے قرار پائے ہو کہ کرامتِ الٰہی جن کے شاملِ حال ہے۔
اس مہینے میں تمھاری سانسیں عبادت اور اس میں تمھارا سونا عبادت ہے، تمھارے اعمال مقبول اور تمھاری دعائیں مستجاب ہیں۔ پس سچی نیتوں اور پاک دلوں کے ساتھ اپنے پروردگار سے اس مہینے میں روزہ رکھنے اور تلاوتِ قرآن کی توفیق طلب کرو؛ کیوں کہ بدبخت وہ ہے جو اس عظیم مہینے میں اللہ کی بخشش سے محروم رہ جائے۔اس مہینے میں اپنی بھوک و پیاس کے ذریعے روزِ قیامت کی بھوک و پیاس کو یاد کرو، فقیروں اور ضرورت مندوں کو صدقہ دو، معذوروں کا احترام کرو، بچوں پر مہربانی کرو، عزیز و اقارب کے ساتھ نیکی کرو، اپنی زبانوں کو اس چیز سے روک کر رکھو جو نہیں کہنی چاہیے، اپنی آنکھوں کو ان چیزیں کو دیکھنے سے بند رکھو جن کو دیکھنا حلال نہیں ہے۔اپنے کانوں کو حرام آوازوں سے بچاؤ، یتیموں سے محبت کرو تاکہ تمھارے بعد تمھارے یتیموں سے بھی ایسا ہی رویہ رکھا جائے۔ گناہوں سے اللہ کی بارگاہ میں توبہ کرو۔

نماز اور دعا کی اہمیت

پھر پیغمبر صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ نے اس مبارک مہینے میں عبادت اور مناجات کی اہمیت کے بارے میں یہ فرمایا: نماز کے وقت اپنے ہاتھوں کو مناجات کی حالت میں آسمان کی طرف بلند کرو کیوں کہ نماز کے اوقات وہ بہترین اوقات ہیں کہ جن میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر رحمت کی نگاہ فرماتا ہے، ان کی مناجات کا جواب دیتا ہے، ان کی آوازوں پر لبیک کہتا ہے اور ان کی دعاؤں کو مستجاب فرماتا ہے۔
اے لوگو! تمھاری جانیں تمھاری اعمال کے ہاتھوں گروی ہیں، پس ان کو طلبِ مغفرت کے ذریعے آزاد کرو۔تمھاری پیٹ گناہوں کے وزن سے سنگین ہے، پس طولانی سجدوں کے ذریعے انھیں ہلکا کرو۔ خدائے منّان نے اپنی عزت کی قسم کھائی ہے کہ وہ نمازیوں اور سجدہ گزاروں کو عذاب نہیں دے گا اور قیامت میں ان کو آتشِ جہنم کے ذریعے وحشت میں مبتلا نہیں کرے گا۔

افطار کروانے کا ثواب

پیغمبرِ خدا صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ نے افطار کروانے کی فضیلت کے بارے میں فرمایا: اے لوگو! تم میں سے جو بھی اس مہینے میں کسی روزہ دار کو افطار کروائے گا تو اسے ایک غلام آزاد کرنے کا ثواب ملے گا اور اس کے پچھلے گناہ معاف کردیے جائیں گے۔کچھ صحابہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہم میں سے سب یہ طاقت نہیں رکھتے! پیغمبر صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ نے فرمایا: روزہ داروں کو افطار کروا کر خود کو آتشِ جہنم سے بچاؤ، چاہے ایک کجھور یا ایک گھونٹ پانی کے ذریعے ہی کیوں نہ ہو۔

اخروی اور دنیوی پاداش

پیغمبرِ خدا صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ نے لوگوں سے ماہِ رمضان کے اعمال کے اخروی آثار کے بارے میں فرمایا:

اے لوگو! جو بھی اس مہینے میں اپنے اخلاق کو نیک رکھے گا تو آسانی کے ساتھ صراط سے گزر جائے گا جس دن قدم اس پر لڑکھڑائیں گے اور جو بھی اس مہینے میں اپنے غلاموں اور کنیزوں کے ساتھ آسانی سے پیش آئے گا تو اللہ قیامت میں اس کے حساب میں آسانی کرے گا اور جو بھی اس مہینے میں لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھے گا تو اللہ روزِ قیامت اپنے غضب کو اس سے دور رکھے گا۔جو بھی اس مہینے میں کسی یتیم کا احترام کرے گا تو اللہ قیامت میں اس کا احترام کرے گا، جو بھی اس مہینے میں اپنے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی اور نیکی کرے گا تو اللہ اپنی رحمت اس کے شاملِ حال فرمائے گا اور جو بھی اس مہینے میں اپنے رشتے داروں سے تعلق توڑے گا تو اللہ قیامت میں اپنی رحمت کو اس سے دور رکھے گا۔جو بھی اس مہینے میں کوئی مستحب نماز پڑھے گا تو اس کے لیے آگ سے دور رہنا لکھ دیا جائے گا اور جو بھی اس مہینے میں اپنی واجب نماز کو ادا کرے گا تو اللہ اسے بقیہ مہینوں میں انجام دی جانے والی ستر نمازوں کا ثواب عطا کرے گا۔ جو بھی اس مہینے میں زیادہ صلوات بھیجے گا اللہ اس کے اعمال کے پلڑے کو بھارے جس دن سب کے اعمال کا پلڑا ہلکا ہوگا۔ جو بھی اس مہینے میں قرآن کی کوئی ایک آیت پڑھے گا تو اللہ اسے بقیہ مہینوں میں ختم کیے جانے والے قرآن کا ثواب عطا فرمائے گا۔

ماہِ رمضان میں رحمتِ الٰہی

آپ نے مزید فرمایا: اے لوگو! جنت کے دروازے اس مہینے میں کھلے ہوئے ہیں، اللہ سے چاہو کہ انھیں تم پر بند نہ کرے، جہنم کے دروازے اس مہینے میں بند ہیں، پس اللہ سے چاہو کہ انھیں تم پر نہ کھولے۔شیاطین اس مہینے میں قید ہیں، اللہ سے چاہو کہ انھیں تم پر مسلط نہ ہونے دے۔

مولائے متقیان کی خبرِ شہادت

پھر پیغمبر صلی‌اللہ‌علیه‌وآلہ نے گریہ فرمایا۔ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ کے گریہ کرنے کا کیا سبب ہے؟ فرمایا: اے علی! میں اس بات پر رو رہا ہوں کہ آپ کے احترام کا اس مہینے میں لحاظ رکھا   نہیں جائے گا۔ گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ آپ اپنے پروردگار کے لیے حالتِ نماز میں ہیں اور اولین و آخرین – میں سب سے زیادہ بدبخت انسان آپ کے سر پر ضربت لگائے گا اور آپ کی داڑھی کو آپ کے سر کے خون سے رنگین کردے گا۔میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا اس حالت میں میرا دین سالم ہوگا؟
فرمایا: آپ کا دین سالم ہے۔پھر فرمایا: اے علی! جو بھی آپ کو قتل کرے گا اس نے مجھے قتل کیا؛ اور جو بھی آپ سے دشمنی کرے گا اس نے مجھ سے دشمنی کی؛ اور جو بھی آپ کو برا بھلا کہے گا اس نے مجھے برا بھلا کہا؛ کیوں کہ آپ مجھ سے ہیں، میری جان کی طرح۔آپ کی روح میری روح سے ہے اور آپ کی سرشت میری سرشت سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے اور آپ کو خلق کیا اور دونوں کو چنا؛ مجھے نبوت کے لیے اور آپ کو امامت کے لیے منتخب کیا۔ جس نے آپ کی امامت کا انکار کیا اس نے میرا اور میری نبوت کا انکار کیا۔

اے علی! آپ میرے وصی، میرے بچوں کے باپ، میری بیٹی کے شوہر اور میری امت پر میری زندگی اور میرے گزر جانے کے بعد میرے جانشین ہیں۔آپ کا حکم میرا حکم اور آپ کا روکنا میرا روکنا ہے۔اس خدا کی قسم جس نے مجھے نبوت کے لیے مبعوث کیا اور مجھے بہترین مخلوق قرار دیا، آپ پروردگار کی مخلوقات پر اس کی حجت، اس کے رازوں کے امین اور اس کے بندوں میں اس کے جانشین ہیں۔[2]

 

[1] ۔ امالی، ابن‌بابویہ، ص95۔

[2] ۔ فضائل اشہر الثلاثه، ص77، ح61، عن الحسن بن علی بن فضّال
بحار الانوار، ج96، ص356، ح25۔

 

 

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے