شرعی ذمہ داریوں کے عقیدتی، عرفانی اور اخلاقی مسائل کو اجاگر کرنا
امیرالمؤمنین علیہالسلام نے ایک خطبے میں رمضان کو اس مہینے سے تعبیر کیا جس میں آسمان کے در کھل جاتے ہیں اور شیاطین قید کر لیے جاتے ہیں۔[۱]
رسول خدا صلیاللهعلیهوآله کی سیرت کو بنیاد بناتے ہوئے آپ نے ماہ رمضان کے آخری عشرے کو اعتکاف اور شب بیداری کے لیے بہترین فرصت قرار دیا۔[۲]
آپ کے نزدیک بھوک و پیاس کی آزمائش اس مہینے کی سب سے آسان عبادت تھی، مگر جب یہی پرہیز انسان کو دیگر محرمات سے دوری کی قوت عطا کرے تو یہی روزہ حقیقی اور ثمرآور ٹھہرتا ہے۔[۳]،[۴]
ایک اور روایت میں آپ نے رسول خدا صلیاللهعلیهوآله کے کلام مبارک کا سہارہ لیتے ہوئے روزہ کو اولین عبادت قرار دیا اور فرمایا: روزے کی میراث حکمت ہے، حکمت کی میراث معرفت ہے اور معرفت کی میراث یقین ہے۔ اس حدیث شریف میں یقین کو قربِ الٰہی کی بلندترین منزل قرار دیا گیا ہے؛ ایسی منزل کہ موت کے بعد بندہ اس مقام پر فائز ہوتا ہے جہاں اس کے اور پروردگار کے درمیان کوئی پردہ باقی نہیں رہتا اور اس لمحے خدا خود اس کی دید کا مشتاق ہوتا ہے۔[۵]
امیرالمؤمنین علیہالسلام نے دیگر احادیث میں اہلِ ایمان کو وصیت کی کہ ماہ رمضان میں اپنے اعضاء و جوارح، حرکات و سکنات پر سخت نگرانی رکھیں، آپ نے اس مبارک مہینے کی ہر شب و روز کی مخصوص عبادات پر تاکید فرمائی اور شبِ قدر، پہلی شب اور شبِ عید فطر کے اعمال کو خصوصی طور پر یاد فرمایا۔[۶]،[۷]،[۸]
آپ نے لوگوں کو اس مہینے میں استغفار اور دعا کی دعوت دی جو آفات کو دور کرنے اور گناہوں کو محو کرنے والی ہے۔[۹]
بدعتوں کے خلاف جہاد
دور حاضر میں بعض دینی رسومات اس قدر تحریف و انحراف کا شکار ہو گئی ہیں کہ نہ صرف صاحبانِ علم بلکہ عام دیندار افراد بھی ان سے بیزاری ظاہر کرتے ہیں مگر جب ہم امیرالمؤمنین علیہالسلام کی سیرت خصوصاً آپ کے دورانِ حکومت کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں ملتا ہے کہ آپ نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے لیے فراہم ہونے والے مواقع کو غنیمت جانتے ہوئے کوفہ اور دیگر بلادِ اسلامیہ میں سیاسی، سماجی اور ثقافتی اصلاحات نافذ کیں، اگرچہ اجتماعی رسوم و مناسبتوں میں اصلاحات نسبتا کم ہو سکیں، لیکن جہاں ضرورت پیش آئی وہاں آپ نے سختی سے بدعتوں کو ختم کیا۔
شیخ طوسی امام جعفر صادق علیہالسلام سے روایت کرتے ہیں کہ جب امیرالمؤمنین علیہالسلام کوفہ تشریف لائے تو آپ نے اپنے فرزند امام حسن مجتبیٰ علیہالسلام کو حکم دیا کہ لوگوں کو ماہِ رمضان میں مستحب نمازوں کو جماعت کی صورت (یعنی تراویح) میں ادا کرنے سے منع کری۔[۱۰]،[۱۱] مگر عوام نے شور مچایا اور ’’واعمراه‘‘کی صدائیں بلند ہونے لگیں، یہ صدائے احتجاج خود اس حقیقت کا اعلان تھی کہ تراویح کے بانی خلیفۂ اول تھے اور اس کی بنیاد کسی نصِ دینی یا سنتِ رسول خدا صلیاللهعلیهوآله پر نہیں تھی۔[۱۲]
پس امیرالمؤمنین علیہالسلام نے کوفہ میں داخل ہوتے ہی ماہ رمضان کے آغاز میں سب سے پہلی اصلاح یہی کی کہ لوگوں کو اس بدعت سے روک دیا، رسول اکرم صلیاللهعلیهوآله نے بھی اس قسم کی بدعتوں کے بارے میں پہلے ہی ارشاد فرمایا تھا: یہ سب معصیت ہیں، یاد رکھو! ہر بدعت، خواہ وہ عبادت ہی کے نام پر کیوں نہ ہو، گمراہی ہے اور ہر گمراہی کا انجام جہنم کی آگ ہے، تمہارے لیے مختصر اور آسان سنت کہیں بہتر ہے طویل و دشوار بدعت سے۔[۱۳]
مآخذ
[۱] شیخ صدوق، ثواب اعمال، ترجمۀ حسن زاده، تهران: ارمغان طوبی، ١٣٨٣، ص ١۵
[۲] سیوطی، پیشین، ج ۶، ص ٣٧۶
[۳] قبانجی، پیشین، ج ٣، ص ٣۶٣
[۴] مجلسی، پیشین، ج ٩٣، ص ٢٩۴
[۵] حسن بن محمد دیلمی، ارشاد القلوب، قم: انتشارات شریف رضی، ١۴١۵ ه. ق، ج ١، ص ١٩٩
[۶]قبانجی، پیشین، ج ٣، ص ٣٠۴
[۷] همان، ص ٣٠۵؛ احمد بن الحسین بیهقی، شعب الایمان، تحقیق ابی هاجر محمد السعید بن بسیونی زغلول، بیروت: دارالکتب العلمیه، ١۴١٠ ه. ق، ج ٣، ص ٣٣٧
[۸] محمد بن حسن طوسی، مصباح المتهجد، بیروت: مؤسسۀ فقه الشیعه، ١۴١١ ه. ق، ص ٨۵٢
[۹] شیخ صدوق، فضائل الاشهر الثلاثۀ، تحقیق میرزا غلام رضا عرفانیان، بیروت: دارالمحجۀ البیضاء للطباعۀ والنشر والتوزیع، ١۴١٢ ه. ق، ص ٧۶
[۱۰] ابناثیر، الکامل فی التاریخ، بیروت، دار صادر دار بیروت، ١٣٨۵ ه. ق، ج ٢، ص ٣۴٠
[۱۱] شیخ طوسی، تهذیب الاحکام، تهران: اسلامیه، ١٣۶۵، ج ٣، ص ٧٠
[۱۲] ابنعبدالبر، الاستیعاب، تحقیق علی محمد البجاوی، بیروت : دار الجیل، ١۴١٢ه. ق، ج ٣، ص ١۴٠
[۱۳] شیخ طوسی، پیشین، ص ۶٩ – ٧٠