بنی امیہ کی حکومت کے خاتمے اور خطرات کے کم ہونے کے بعد امام جعفر صادق علیہالسلام نے امیرالمؤمنین علیہالسلام کی قبر کا مقام ظاہر کیا اور اپنے شیعوں کو اس کی زیارت کا حکم دیا۔ آپ نے قبر کے مقام کی نشاندہی کے لیے اس پر ایک چھوٹا سا سائبان تعمیر کروایا۔ اس کے بعد اس مقام کی زیارت مسلسل جاری رہی اور رفتہ رفتہ ایک باقاعدہ رسم بن گئی۔
شیخ مفید اس سلسلے میں لکھتے ہیں:
یہ قبر امام صادق علیہالسلام کے زمانے تک مخفی رہی، لیکن جب آپ حیرہ تشریف لائے تو اس کا مقام ظاہر فرمایا اور شیعہ اس کی زیارت کرنے لگے۔
امام جعفر صادق علیہالسلام نے سنہ ۱۳۲ ہجری میں، ہارون کے دور حکومت سے پہلے، قبر کے مقام کو ظاہر کیا اور لوگوں کو اس کی زیارت کی ترغیب دی۔
عباسی خلفا کے ہاتھوں مزارات کی تخریب
زیارت کا سلسلہ جاری رہا یہاں تک کہ سنہ ۲۳۶ ہجری میں عباسی خلیفہ متوکل نے حکم دیا کہ امیرالمؤمنین علی علیہالسلام کی قبر پر موجود سائبان اور اسی طرح امام حسین علیہالسلام کے روضے کو بھی منہدم کر دیا جائے اور شیعوں کو ان مشاہد مقدسہ کی زیارت سے روک دیا جائے،یہ اقدام دراصل شیعوں کو دبانے اور اہل بیت علیہمالسلام کے خلاف خوف و ہراس پھیلانے کی فکر کا حصہ تھا۔
شیخ مسعودی لکھتے ہیں:
اس زمانے میں آل ابوطالب کو شدید مشکلات کا سامنا تھا اور ان کی جانوں کو خطرہ لاحق تھا۔ متوکل عباسی نے امام حسین علیہالسلام کی قبر کو منہدم کرنے اور اس کے تمام آثار کو مٹا دینے کا حکم دیا، اور اس مقام پر حاضری کو سخت سزا کے ساتھ مشروط کر دیا۔
اہل بیت علیہمالسلام کے خلاف متوکل کا ظلم
متوکل عباسی، جو معتصم کے بعد تخت خلافت پر بیٹھا، اس کا وزیر عبداللہ بن یحییٰ بن خاقان تھا جو ناصبی اور اہل بیت علیہم السلام کا سخت دشمن تھا۔ وہ مسلسل متوکل کو شیعوں اور خاندان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ کے خلاف اقدامات پر اکساتا رہتا تھا۔
جب متوکل کو معلوم ہوا کہ شیعہ مقدس مزارات، خصوصاً امیرالمؤمنین علیہالسلام کے مزار اور کربلا کے شہدا کی قبروں کی زیارت کرتے ہیں تو وہ سخت غضبناک ہوا۔
اس نے حکم دیا کہ کربلا میں امام حسین علیہالسلام کے مزار اور اس کے اطراف کو منہدم کر دیا جائے، اس پر پانی بہایا جائے اور اس زمین کو کھیتی کے لیے استعمال کیا جائے۔ یہاں تک کہ اس نے بعض یہودیوں کو بھی اس بات پر مامور کیا کہ وہ مسلمانوں کو زیارت سے روکیں۔ جو شخص زیارت کے لیے جاتا، اسے گرفتار کر کے قتل کر دیا جاتا۔
اہل بیت علیہمالسلام سے اس کی دشمنی کا اصل سبب ذاتی عناد اور ناصبی تعصب تھا۔ ایک معروف واقعہ یہ ہے کہ اس کی ایک گانے والی کنیز ام الفضل امیرالمؤمنین علیہالسلام کے مزار کی زیارت کے لیے نجف گئی۔ اس خبر نے متوکل کو اس قدر غضبناک کیا کہ اس نے اہل بیت علیہمالسلام کی قبروں کی زیارت پر پابندی عائد کر دی۔
ان اقدامات کے باعث بغداد کے لوگوں نے اس کے خلاف احتجاج کیا۔ دیواروں اور مساجد پر اس کے خلاف نعرے لکھے گئے اور شعرا—جن میں دعبل بھی شامل تھا—نے اس پر تنقید کی، لیکن اس نے ان احتجاجات کا جواب سختی اور تشدد سے دیا اور اس کی دشمنی مزید بڑھتی گئی۔
متوکل کے دور اور اس کے بعد اہل بیت علیہمالسلام کے مزارات کی حالت
شیخ طوسی نقل کرتے ہیں:
عبداللہ بن دانیہ طوری سنہ ۲۴۷ ہجری میں عراق کے مزارات مقدسہ کی زیارت کے لیے آیا اور اس نے جو منظر دیکھا، اسے یوں بیان کیا:
امیرالمؤمنین علی علیہالسلام اور امام حسین علیہالسلام کے مزارات محاصرے اور تخریب کی حالت میں تھے۔ امام حسین علیہالسلام کے مزار کے اطراف کی زمین جوت دی گئی تھی اور اس پر پانی بہایا گیا تھا۔ مزدور اور جانور، حتیٰ کہ گائیں بھی اس مقام پر چلتی پھرتی تھیں۔ ان سب کے باوجود قبر مبارک کو کوئی نقصان نہ پہنچ سکا اور اسے مٹانے کی تمام کوششیں ناکام رہیں۔
عبداللہ بن دانیہ کے بغداد واپس پہنچنے کے کچھ ہی عرصے بعد متوکل کے قتل کی خبر پہنچی، جو اس کے ظلم و ستم کے دور کے خاتمے کی علامت تھی۔
شیخ مسعودی لکھتے ہیں:
قبروں کی مسماری اور زیارت کی ممانعت نے لوگوں کو سخت پریشان کر دیا اور بہت سے شیعہ ان مقامات پر جانے سے محروم ہو گئے۔
یہ سختیاں اس وقت تک جاری رہیں جب تک ولید عباسی (منتصر) برسر اقتدار نہ آیا۔ سنہ ۲۴۷ ہجری میں اس کے اقتدار میں آنے کے بعد حالات بدل گئے۔ لوگوں کو دوبارہ امام حسین علیہالسلام اور امیرالمؤمنین علیہالسلام کی زیارت کی اجازت مل گئی، امن بحال ہوا اور حکومت نے آل ابوطالب کو اذیت پہنچانا بند کر دیا۔ اسی زمانے میں فدک کو امام حسن اور امام حسین علیہماالسلام کی اولاد کو واپس کیا گیا اور آل ابوطالب کی موقوفات بھی آزاد کر دی گئیں۔
متوکل کے مرنے کے بعد بھی عباسی خلفا کی دشمنی مکمل طور پر ختم نہ ہوئی، تاہم اس کے بیٹے منتصر نے شیعوں کے لیے زیارت کی پابندی ختم کر دی۔ اس کی خلافت تقریباً چھ ماہ رہی اور اس کے بعد دوبارہ سختیاں شروع ہو گئیں۔
قبر شریف کو کھولنے کی کوشش کا واقعہ
جب امام جعفر صادق علیہالسلام نے قبر مبارک کا مقام ظاہر کیا اور شیعوں کو اس کا علم ہوا تو یہ خبر عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور دوانیقی تک پہنچی۔ وہ تحقیق کے لیے اپنے ایک غلام کے ساتھ نجف کے علاقے غری میں آیا اور قبر کھودنے کا ارادہ کیا۔
ابن طاؤوس لکھتے ہیں:
منصور اپنے غلاموں کے ساتھ بیلچے، کلہاڑیاں اور دیگر اوزار لے کر آیا اور قبر کھودنے لگا تاکہ لحد کا پتھر دیکھ سکے۔ جب اسے یقین ہو گیا کہ یہ امیرالمؤمنین علیہالسلام ہی کی قبر ہے تو اس نے حکم دیا کہ قبر کو دوبارہ مٹی سے ڈھانپ دیا جائے اور کہا کہ یہ وہی قبر مطہر ہے۔
سنہ ۲۷۳ ہجری میں بنی عباس کے ایک شخص داوود نے بھی قبر کو کھولنے کا ارادہ کیا، لیکن امیرالمؤمنین علیہالسلام کی کرامت کے باعث وہ اپنے ارادے سے باز آ گیا اور اس نے قبر کے اوپر ایک لکڑی کا صندوق رکھوا دیا جو صندوق داوود عباسی کے نام سے مشہور ہوا۔
سید عبدالکریم بن طاؤوس ابو الحسین محمد بن تمام کوفی سے نقل کرتے ہیں:
کوفہ کے چند معزز افراد میرے چچا زاد محمد بن عمران بن حجاج کی مجلس میں موجود تھے۔ ان میں عباس بن احمد عباسی اور اسماعیل بن عیسی عباسی بھی شامل تھے۔ اسماعیل بن عیسی نے مجلس میں آ کر سب کو علی بن ابی طالب اور ائمہ اطہار علیہمالسلام کی ولایت کی قسم دی اور پھر قبر کھودنے کے واقعے کو بیان کیا۔
وہ اور اس کے ساتھی قبر کی طرف گئے اور اپنے ساتھ ایسے لوگوں کو لے گئے جو غیر معمولی قوت اور جرأت رکھتے تھے۔ جب امیرالمؤمنین علیہالسلام کی قبر کھودنے کا حکم دیا گیا تو مزدوروں نے زمین کھودنا شروع کی۔ جب وہ سخت پتھر تک پہنچے تو ایک غلام کو نیچے اتارا گیا تاکہ وہ نوک دار اوزار سے ضرب لگائے۔
اس غلام نے تین ضربیں لگائیں تو ایک زور دار آواز سنائی دی۔ اچانک وہ چیخ اٹھا اور شدید زخمی ہو گیا، یہاں تک کہ اس کے ہاتھ سے بازو تک خون بہنے لگا اور وہ بولنے کے قابل نہ رہا۔ اسے رسی کے ذریعے باہر نکالا گیا، لیکن اسی وقت اس کی موت واقع ہو گئی۔
اس واقعے کو دیکھ کر داوود—جو اسماعیل بن عیسی عباسی کا چچا تھا—نے توبہ کی اور حکم دیا کہ قبر کے اوپر ایک لکڑی کا صندوق رکھا جائے اور اسے دوبارہ مٹی سے ڈھانپ دیا جائے۔
بعض مورخین نے غلطی سے اسے داوود بن علی سفاح سمجھ لیا ہے، حالانکہ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ اصل داوود اسماعیل بن عیسی عباسی کا چچا تھا اور یہ واقعہ سنہ ۲۷۳ ہجری میں خلیفہ معتمد کے زمانے میں پیش آیا، نہ کہ سفاح کے دور میں۔
یہ صندوق تقریباً دس سال تک قبر پر رکھا رہا۔ پھر سنہ ۲۸۳ ہجری میں محمد بن زید داعی حسنی نے امیرالمؤمنین علیہالسلام کے مرقد کی پہلی عمارت تعمیر کروائی۔ عمارت کی تعمیر کے وقت صندوق کو نہیں ہٹایا گیا بلکہ اسی کے اوپر عمارت بنا دی گئی۔
شیخ طوسی اور سید عبدالکریم بن طاؤوس نے بھی اس روایت کی تائید کی ہے اور واضح کیا ہے کہ بعض لوگوں نے غلطی سے اس تعمیر کو حسن بن زید کی طرف منسوب کیا ہے، حالانکہ صحیح بات یہ ہے کہ یہ عمارت محمد بن زید نے تعمیر کروائی تھی۔[1]
[1] ۔ تاریخ المرقد العلوی المطهر
