بعض مخالفین نے اس امر کو بنیاد بنا کر یہ شبہ پیدا کرنے کی کوشش کی کہ موجودہ مقام پر امیرالمؤمنین علیہالسلام مدفون نہیں ہیں؛ تاہم شیعہ علما نے اس موضوع پر متعدد کتابیں تالیف کر کے ان شبہات کا علمی جواب دیا ہے۔
شیخ محمد حرزالدین کی رائے
شیخ محمد حرزالدین اپنی کتاب معارف رجال میں صخرہ اور مغیرہ بن شعبہ کی قبر سے متعلق روایت نقل کرتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ اس واقعے پر ان کا زور دینے کا مقصد ان لوگوں کے دعوے کی تردید کرنا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ مغیرہ بن شعبہ کی قبر ہی دراصل نجف میں امیرالمؤمنین علیہالسلام کا مزار ہے۔
وہ سخت الفاظ میں اس دعوے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے اسے بے حیائی اور آل محمد علیہم السلام سے دشمنی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔
اہل بیت کی معرفت پر تاکید
اہل بیت علیہم السلام ہی وہ ہستیاں ہیں جو امیرالمؤمنین علیہالسلام کی قبر کے مقام کو سب سے بہتر اور زیادہ درست طور پر جانتی ہیں۔ انہوں نے اپنے شیعوں کو اس قبر مبارک کی زیارت اور اس کی آبادانی کی تاکید بھی کی ہے۔
متعدد معتبر روایات اور زیارت نامے اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ امیرالمؤمنین علیہالسلام کی قبر مبارک نجف اشرف کے روضۂ مقدسہ میں واقع ہے اور اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں۔
مخالفین کے اختلافات کی تردید
ابن ابی الحدید لکھتے ہیں:
امیرالمؤمنین علیہالسلام کی قبر غری میں واقع ہے، اور مخالفین کے وہ تمام دعوے کہ قبر کو مدینہ منتقل کر دیا گیا، یا رحبہ میں دفن کیا گیا، یا قصر امارت کوفہ میں دفن ہے، یا کسی اونٹ کی پشت پر لے جایا گیا—یہ سب باطل اور بے بنیاد ہیں۔ امیرالمؤمنین علیہالسلام کی اولاد اور شیعہ ہی ان کی قبر کے مقام کو دوسروں سے زیادہ جانتے ہیں، جیسے ہر خاندان اپنے آباو اجداد کے مدفن سے آگاہ ہوتا ہے۔
اہل بیت علیہمالسلام کی عینی شہادت
ابن ابی الحدید، حسن بن علی خلال کے واسطے سے اپنے جد سے نقل کرتے ہیں:
میں نے حسین بن علی علیہماالسلام سے پوچھا: امیرالمؤمنین علیہالسلام کی قبر کہاں ہے؟
انہوں نے فرمایا: ہم انہیں رات کے وقت ان کے گھر سے باہر لے گئے اور اشعث بن قیس کے گھر سے گزرنے کے بعد غری کے علاقے کی طرف لے جا کر دفن کیا۔
ابن ابی الحدید اور ابن طاووس کی تاکید
ابن ابی الحدید لکھتے ہیں:
ہر انسان کی اولاد اپنے باپ کے مدفن کو دوسروں سے بہتر جانتی ہے۔ یہی وہ قبر ہے جو غری میں واقع ہے اور امیرالمؤمنین علیہالسلام کی اولاد قدیم زمانے سے آج تک اس کی زیارت کرتی رہی ہے اور کہتی ہے: یہ ہمارے والد کی قبر ہے۔ اس امر میں کسی کو شک نہیں۔
یعنی امام حسن اور امام حسین علیہماالسلام کی نسل سے تعلق رکھنے والے تمام افراد اور اہل بیت علیہمالسلام کے دیگر افراد ہمیشہ اسی قبر کی زیارت کے لیے آتے رہے ہیں اور کسی دوسری جگہ کو امیرالمؤمنین علیہالسلام کی قبر قرار نہیں دیا۔
سید علی بن طاوؐوس لکھتے ہیں:
جب کوئی شخص وفات پاتا ہے تو خواہ اس کی قبر معروف ہو یا پوشیدہ، اس کے اہل بیت اور قریبی لوگ ہی اس کے مدفن سے سب سے زیادہ واقف ہوتے ہیں۔ یہی بات امیرالمؤمنین علیہالسلام کے بارے میں بھی درست ہے۔ ان کے شیعہ اور خاندان اس بات پر متفق ہیں کہ ان کی قبر شریف غری (نجف) میں واقع ہے۔
یہ عجیب بات ہے کہ لوگ اپنے باپ یا دادا کی قبر کے بارے میں شک نہیں کرتے، لیکن بعض مخالفین یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ امیرالمؤمنین علیہالسلام کی قبر کسی اور جگہ ہے، حالانکہ اہل بیت اور شیعہ اس کے سب سے معتبر گواہ ہیں۔
امیرالمؤمنین علیہالسلام کے خاندان اور شیعہ اس بات پر متفق اور مطمئن ہیں کہ ان کی قبر یہی ہے، اور وہ اس مقام پر ایسے آثار و شواہد دیکھتے ہیں جو اس حقیقت کی واضح دلیل ہیں۔
تعجب کی بات یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی نامعلوم قبر کے پاس کھڑا ہو کر کہے کہ یہ میرے باپ کی قبر ہے تو لوگ اس کی بات قبول کر لیتے ہیں، لیکن امیرالمؤمنین علیہالسلام کی قبر کے بارے میں بعض مخالفین اپنے آپ کو اہل بیت اور شیعوں سے بھی زیادہ معتبر سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ ایک بے بنیاد دعویٰ ہے۔
محل دفن کے بارے میں مخالفین کے دعووں کا جواب
خطیب بغدادی کی غلطیاں
تعجب کی بات ہے کہ خطیب بغدادی نے اہل بیت علیہمالسلام کی روایات اور ان تاریخی و جغرافیائی شواہد کو نظر انداز کر دیا ہے جو واضح طور پر نجف اشرف کو امیرالمؤمنین علیہالسلام کا مدفن قرار دیتے ہیں۔
ابن تیمیہ کا دعویٰ
ابن تیمیہ نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ:
مشہور یہ ہے کہ امیرالمؤمنین علیہالسلام قصر امارت کوفہ میں دفن ہیں اور تین سو سال تک کسی کو ان کی قبر کا علم نہیں تھا۔
یہ دعویٰ صریحا جھوٹ اور گمراہ کن بات ہے، کیونکہ متعدد تاریخی اور روائی شواہد واضح طور پر نجف اشرف کو محل دفن ثابت کرتے ہیں۔
اہل سنت کے اکثر علما بھی اس مسئلے میں شیعوں کے ساتھ متفق ہیں اور نجف اشرف کو ہی امیرالمؤمنین علیہالسلام کا مدفن قرار دیتے ہیں۔
ابن تیمیہ اور ابن کثیر کا تعصب
ابن تیمیہ اور ابن کثیر دونوں اہل بیت علیہمالسلام کی احادیث اور امیرالمؤمنین علیہالسلام کے فضائل کے بارے میں تعصب اور جانبداری کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں اور بغیر دلیل کے حقیقت کے خلاف باتیں پھیلاتے رہے۔
کرامات اور معجزات کے شواہد
غری (نجف اشرف) میں واقع امیرالمؤمنین علیہالسلام کے روضۂ مبارک میں متعدد کرامات اور معجزات ظاہر ہوئے ہیں، بیماروں اور معذوروں کا شفا پانا، دعاؤں کا قبول ہونا اور حاجات کا پورا ہونا ان کرامات میں شامل ہے، اور یہ واقعات آج تک مشہور اور مشاہدہ شدہ ہیں۔
ان میں سے بہت سی کرامات شیعہ اور اہل سنت دونوں کی کتابوں میں نقل ہوئی ہیں اور دنیا بھر میں معروف ہیں۔ یہ کرامات نجف اشرف میں موجود اس قبر مبارک کی حقانیت کی روشن دلیل ہیں۔
سید عبد الکریم بن طاووس نے اپنی کتاب فرحة الغری میں امیرالمؤمنین علیہالسلام کی قبر کی حقانیت پر دلالت کرنے والی کرامات اور واضح نشانیوں کے بیان کے لیے ایک مستقل باب قائم کیا ہے۔ ان میں سے بعض کرامات کو علامہ مجلسی نے بحار الانوار میں بھی نقل کیا ہے۔
وہ دینوری حنبلی سے نقل کرتے ہیں کہ اس نے اپنی کتاب نهایة الطلب و غایة السؤال فی مناقب آل الرسول میں لکھا ہے:
امیرالمؤمنین علی علیہالسلام کی قبر سے متعلق کرامات اور آثار اس قدر زیادہ ہیں کہ ان کا شمار ممکن نہیں۔ مختلف مذاہب اور آراء رکھنے والے لوگ بھی اس حقیقت پر متفق ہیں۔
دینوری بیان کرتا ہے:
بدھ کی رات، تیرہ ذی الحجہ سنہ ۵۹۷ ہجری کو میں نجف میں موجود تھا۔ میں نے دیکھا کہ امیرالمؤمنین علیہالسلام کی قبر سے ایک عظیم نور بلند ہو رہا تھا۔ اس نور کی لمبائی تقریباً بیس ذراع اور چوڑائی ایک ذراع تھی۔ وہ نور آسمان سے نازل ہوتا دکھائی دیتا تھا اور تقریباً دو گھنٹے تک قبر کے اوپر باقی رہا، پھر آہستہ آہستہ مٹ گیا یہاں تک کہ چاندنی دوبارہ اپنی معمول کی حالت میں آ گئی۔
یہ کرامات اس قبر مبارک کی حقیقت اور برکت کی واضح تائید کرتی ہیں، اور دینوری کے ساتھ موجود دوسرے افراد نے بھی اس نور کو دیکھا اور اس کے اثر کو محسوس کیا۔
اسی طرح معروف سیاح ابن بطوطہ نے سنہ ۷۲۷ ہجری میں نجف کے سفر کے دوران اس مقام کی کرامات کا ذکر کیا ہے:
یہ روضہ جسے حرم امام کہا جاتا ہے، ایسی کرامات کا حامل ہے جو اس بات کی دلیل ہیں کہ یہاں امیرالمؤمنین علیہالسلام مدفون ہیں۔ ان کرامات میں سے ایک رجب کی ساتویں اور ستائیسویں رات ہے جسے شب محیا کہا جاتا ہے۔ ان راتوں میں عراق، خراسان، فارس اور یہاں تک کہ روم سے بھی زائرین اس روضے پر حاضر ہوتے ہیں اور مخصوص عبادات انجام دیتے ہیں۔ عینی شاہدین ان راتوں میں ضریح کے اطراف ایک خاص نورانیت اور روحانی کیفیت کا مشاہدہ کرتے ہیں۔
تمام تاریخی اور روائی شواہد واضح طور پر اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ امیرالمؤمنین علی علیہالسلام کا مدفن نجف اشرف میں وہی مشہور قبر ہے جس کی زیارت کے لیے زائرین آج بھی حاضر ہوتے ہیں۔
اہل بیت علیہمالسلام اور ان کی پاکیزہ اولاد، جن پر اس گھر اور اس مزار کی حفاظت کی ذمہ داری تھی، امیرالمؤمنین علیہالسلام کے محل دفن سے پوری طرح آگاہ تھے، اور زائرین پورے اطمینان کے ساتھ اسی عقیدے کے ساتھ اس مزار کی زیارت کرتے ہیں۔
اہل بیت علیہمالسلام کی روایات
امام محمد باقر علیہالسلام نے سلمہ بن کہیل اور حکم بن عتیبہ سے فرمایا:
مشرق و مغرب میں تلاش کرو، تمہیں ایسا کوئی علم نہیں ملے گا جو اس علم کے برابر ہو جو اہل بیت علیہمالسلام سے صادر ہوا ہے۔
یہ حدیث اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ قبر کے مقام کے بارے میں حقیقی علم اہل بیت علیہم السلام ہی کے پاس ہے اور دوسروں کو اس میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔
امیرالمؤمنین علیہالسلام نے کمیل سے فرمایا:
ہم سے ہی لو تاکہ فائدہ حاصل کرو۔
مورخین کی گواہی
یاقوت حموی، ابن اثیر اور ابن ابی الحدید جیسے معتبر مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ امیرالمؤمنین علیہالسلام کی قبر غری (نجف اشرف) میں واقع ہے اور یہی وہ معروف مقام ہے جہاں زائرین قدیم زمانے سے آج تک آتے رہے ہیں۔
قصر امارت یا رحبہ میں دفن ہونے کے مخالف دعوے دراصل اہل بیت کی اس حکمت عملی کا نتیجہ ہیں جس کے تحت دشمنوں سے حفاظت کے لیے قبر کو کچھ عرصہ مخفی رکھا گیا تھا۔
کرامات اور معجزات
امیرالمؤمنین علیہالسلام کی قبر سے آسمان کی طرف نور کا ظاہر ہونا، زائرین کا شفا اور برکت پانا، اور حاجات کا پورا ہونا ایسے واقعات ہیں جن کے متعدد شواہد نقل ہوئے ہیں۔ ابن بطوطہ اور دیگر مؤرخین نے بھی ان کرامات کو قلم بند کیا ہے۔
مخالفین کے شبہات کا رد
بعض افراد، جیسے ابن تیمیہ اور ابن کثیر، نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ امیرالمؤمنین علیہالسلام کی قبر قصر امارت کوفہ میں تھی یا بعد میں نجف منتقل کی گئی، لیکن اہل بیت کی روایات اور معتبر تاریخی شواہد ان دعووں کو رد کرتے ہیں۔
اسی طرح مغیرہ بن شعبہ کی قبر کے بارے میں جو غلط بیانی کی گئی تھی، وہ بھی واضح ہو چکی ہے کہ اس کی قبر ثقیف کے قبرستان، مقام ثویہ میں ہے، نہ کہ نجف میں۔[۱]
[۱] تاریخ المرقد العلوی المطهرسے ماخوذ