امیرالمومنین علیہالسلام کے محل دفن کا تاریخی پس منظر
تاریخی متون میں نجف کو دریائے فرات کے کنارے واقع ایک بستی کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔
مورخ طبری نقل کرتا ہے:
جب منصور دوانیقی نے عبدالله بن حسن اور اس کے خاندان کو گرفتار کیا تو انہیں نجف منتقل کیا گیا۔
اس وقت عبدالله نے حسرت کے ساتھ کہا: کیا اس بستی میں کوئی ایسا نہیں جو ہمیں اس ظالم سے نجات دلائے؟
یہ روایت واضح کرتی ہے کہ اس زمانے میں نجف اشرف ایک معروف مقام کی حیثیت رکھتا تھا۔ اختلاف صرف امیرالمومنین علیہالسلام کے مدفن کے مقام کے بارے میں تھا، جبکہ ائمۂ معصومین علیہمالسلام نے وضاحت فرمائی۔ انہوں نے نجف اشرف کو واضح طور پر مولائے متقیان امیرالمومنین علیہالسلام کے مدفن کے طور پر بیان فرمایا۔
روایات اہلبیت علیہمالسلام
بعض لوگوں کا خیال تھا کہ امیرالمومنین علیہالسلام رحبہ میں دفن ہیں اور بعض کا کہنا تھا کہ آپ علیہالسلام کا مدفن ری میں ہے۔
امام موسیٰ کاظم علیہالسلام کی روایت
امام موسیٰ کاظم علیہالسلام نے اپنے اصحاب کے سوال کے جواب میں فرمایا:
انہیں غَری میں زیارت کرو۔
حسن بن جہم امام موسیٰ کاظم علیہالسلام سے روایت کرتے ہیں:
قبر امیرالمومنین علیہالسلام ثُوَیَّہ نامی مقام میں ہے اور اس سے کچھ بلند جگہ پر واقع ہے۔یہی وہ مقام ہے جس کے بارے میں صفوان جمّال نے امام صادق علیہالسلام سے روایت کی ہے: جب تم کوفہ کے پیچھے موجود غَری تک پہنچو تو اس سے گزر کر نجف کی طرف بڑھو اور تھوڑا سا دائیں جانب مائل ہو جاؤ۔ جب تم سفید ٹیلوں اور ثُوَیَّہ کے مقام تک پہنچو گے تو وہی امیرالمؤمنین علیہالسلام کی قبر ہے۔
بعض اصحاب ان روایات کو قبول نہیں کرتے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ امیرالمومنین علیہالسلام کی قبر مسجدِ کوفہ یا قصرِ امارت میں ہے۔ تاہم ائمہ علیہمالسلام اس بات پر زور دیتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی قبر نہ قصرِ امارت میں رکھی۔ بلکہ اسے ایک مخفی مقام پر رکھا، تاکہ امیرالمومنین علیہالسلام کا مرقد دشمنوں کے شر سے محفوظ رہے۔
آخر میں امام موسیٰ کاظم علیہالسلام نے اپنے اصحاب سے فرمایا:
قبر کے صحیح مقام کی معرفت اللہ کی طرف سے ایک نعمت ہے، اور جو شخص اس تک پہنچ جائے وہ یقیناً اللہ کے فضل سے بہرہ مند ہوا ہے۔
امام رضا علیہالسلام کی روایت
احمد بن محمد بن ابی نصر کہتے ہیں:
میں نے امام رضا علیہالسلام سے پوچھا: امیرالمؤمنین علیہالسلام کی قبر کہاں ہے؟
آپ علیہالسلام نے فرمایا: غَری میں ہے۔
میں نے عرض کیا: بعض لوگ کہتے ہیں کہ آپ کو رحبہ میں دفن کیا گیا ہے۔
آپ علیہالسلام نے فرمایا: یہ درست نہیں۔ اور بعض کہتے ہیں کہ مسجد میں دفن ہیں، لیکن یہ بھی صحیح نہیں۔
امام علی نقی علیہالسلام کی مرقد امیرالمومنین علیہالسلام کی زیارت
سید بن طاووس اپنی کتاب انوار فی تاریخ ائمہ اطہار میں نقل کرتے ہیں:
ابوعلی محمد بن ابی بکر ہمّام بن سہیل اسکافی روایت کرتے ہیں کہ امام محمد باقر علیہالسلام نے قبرِ امیرالمومنین علیہالسلام کی نشاندہی فرمائی۔ آپ علیہالسلام نے اسی مقام کی جانب اشارہ کیا، جہاں آج مرقدِ مبارک زائرین کے لیے زیارت گاہ ہے۔ اسی طرح انہوں نے نقل کیا ہے کہ امام حسن عسکری علیہالسلام نے بھی امیرالمومنین علیہالسلام کے مدفن کی نشاندہی فرمائی۔
آپ علیہالسلام نے موجودہ مقام مرقد مبارک کی بھی تصدیق فرمائی، جہاں آج زائرین زیارت کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔
سید عبدالکریم بن طاؤوس نے اپنی سند کے ساتھ حسین بن روح نوبختی اور عثمان بن سعید عمری کے ذریعے امام حسن عسکری علیہالسلام سے روایت نقل کی ہے۔
امام حسن عسکری علیہالسلام نے یہ روایت اپنے والد گرامی امام علی نقی علیہالسلام سے نقل فرمائی ہے:
امام علی نقی علیہالسلام نے اسی سال عیدِ غدیر کے دن امیرالمومنین علیہالسلام کی قبرِ مبارک کی زیارت کی، جب معتصم نے آپ کو سامرا بلوایا تھا۔ آپ علیہالسلام قبرِ مبارک کے سامنے کھڑے ہوئے اور زیارت نامہ پڑھا۔
اس زیارت میں یہ الفاظ وارد ہوئے ہیں:
السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا وَليَّ اللَّه، أَنْتَ أَوَّلُ مَظْلُومٍ وَأَوَّلُ مَنْ غُصبَ حَقُّهُ، صَبَرْتَ وَاحْتَسَبْتَ حَتَّى أَتَاكَ الْيَقينُ…
یعنی:
سلام ہو آپ پر اے اللہ کے ولی؛ آپ علیہالسلام پہلے مظلوم ہیں اور وہ پہلے شخص ہیں جن کا حق غصب کیا گیا۔ آپ علیہالسلام نے صبر کیا یہاں تک کہ موت آپ تک پہنچ گئی۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ علیہالسلام شہادت کے ساتھ اللہ سے جا ملے۔ اللہ آپ علیہالسلام کے قاتل کو مختلف عذابوں میں گرفتار کرے۔ میں آپ علیہالسلام کے حق کی معرفت اور آپ علیہالسلام کے دشمنوں سے برائت کے ساتھ آپ علیہالسلام کی زیارت کے لیے حاضر ہوا ہوں اور اپنے اس عہد کو اپنے پروردگار کے حضور پیش کرتا ہوں۔
مآخذ
کتاب «تاریخ المرقد العلوی المطهر» سے ماخوذ