رسولِ خدا صلیاللہعلیہوآلہ نے متعدد مواقع پر حضرت حمزہ بن عبدالمطلب علیہالسلام کے مقام، محبت اور قربت کو بیان فرمایا۔
آپ صلیاللہعلیہوآلہ نے حضرت حمزہ علیہالسلام کو افضلُ الشہداء قرار دیا۔ آپ کو اہلِ جنت کے سرداروں میں بھی شمار فرمایا۔
ان ارشادات سے حضرت حمزہ علیہالسلام کی عظمت اور بلند منزلت واضح ہوتی ہے۔ آپ کی سیرت اہلِ ایمان کے لیے ایک روشن اور قابلِ تقلید مثال ہے۔
رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ نے حضرت فاطمہ علیہاالسلام سے فرمایا:
تمھارے چچا حمزہ تمام شہدا سے افضل ہیں۔[۱]
اسی طرح رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ نے فرمایا:
ہم فرزندان عبدالمطلب یعنی میں، علی، جعفر، حمزہ، حسن، حسین اور مہدی علیہالسلام اہل جنت کے سردار ہیں۔[۲]
ایک اور مقام پر رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ نے فرمایا:
میرے نزدیک میرے بھائیوں میں سب سے محبوب علی علیہ السلام ہیں اور میرے چچاؤں میں سب سے محبوب جناب حمزہ ہیں۔[۳]
اسی طرح ایک شخص نے اپنے نومولود کے نام کے بارے میں دریافت کیا تو رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ نے فرمایا:
اپنے بیٹے کا نام میرے نزدیک سب سے محبوب نام حمزہ پر رکھو۔[۴]
رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ نے حضرت حمزہ علیہالسلام کو اللہ اور اس کے رسول کا شیر قرار دیا۔[۵]
اسی طرح بیان ہوا ہے کہ خداوندِ متعال نے حضرت حمزہ علیہالسلام کو بلند درجات اور فضائل عطا فرمائے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ رسولِ خدا صلیاللہعلیہوآلہ اور امیرالمومنین علیہالسلام سے گہری محبت رکھتے تھے۔ [۶]
مزید یہ کہ رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ نے فرمایا:
میرے چچا حمزہ قیامت کے دن اپنے دوستوں اور چاہنے والوں کو جہنم سے دور کر دیں گے۔[۷]
یہ روایات حضرت حمزہ علیہالسلام کے مقام اور منزلت، محبت رسول اللہ اور محبت امیرالمومنین علیہماالسلام کے ساتھ ساتھ ان حضرات سے آپ کی وابستگی اور آپ کے مقام شفاعت کو واضح بیان کرتی ہیں۔
[۱] الأمالی، شیخ طوسی، ج ۱، ص ۱۵۴
[۲] الأمالی، شیخ صدوق، ج ۱، ص ۴۷۵
[۳] الأمالی، شیخ صدوق، ج ۱، ص ۵۵۳
[۴] الکافی، شیخ کلینی، ج ۶، ص ۱۹
[۵] الطرائف، سید ابن طاووس، ج ۱، ص ۱۰۶
[۶] تفسیر الإمام العسکری علیہالسلام، ج ۱، ص ۴۳۴
[۷] تفسیر الإمام العسکری علیہالسلام، ج ۱، ص ۴۳۴