جنگ خندق اسلام کی اہم جنگوں میں سے ایک جنگ ہے۔ جس میں امیرالمومنین علیہالسلام کے فضائل نمایاں طور پر ہر ذی عقل و شعور کے سامنے آئے۔
اس موقع پر پیغمبرِ اکرم صلیاللہعلیہوآلہ نے امیرالمومنین علیہالسلام کو اپنے قریب بلایا۔ آپ صلیاللہعلیہوآلہ نے اپنا عمامہ، جس کا نام ’’سحاب‘‘ تھا، آپ کے سر پر باندھا۔ پھر اپنی تلوار عطا فرمائی اور آپ علیہالسلام کو میدانِ جنگ کی جانب روانہ فرمایا۔[۱]
جب عمرو بن عبدود مقابلے کے لیے آیا اور کسی میں اس کا مقابلہ کرنے کی ہمت نہ ہوئی تو امیرالمومنین علیہالسلام میدان میں نکلے۔
اس وقت رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ نے فرمایا:
’’برز الإيمان كلّه إلى الشرك كلّه‘‘
یعنی:
پورا ایمان پورے شرک کے مقابلے میں جا رہا ہے۔[۲]
اس جنگ میں امیرالمومنین علیہالسلام کی ایک ضربت کے بارے میں رسول خدا صلیاللهعلیہوآلہ نے فرمایا:
"لَضَرْبَةُ عَلِيٍّ يَوْمَ الخندق أفضل من عبادة الثقلين”
یعنی:
خندق کے دن امیرالمومنین علیہالسلام کی ایک ضربت جن و انس کی عبادت سے افضل ہے۔[۳]
امیرالمومنین علیہالسلام نے عمرو بن عبدود کو قتل کیا، جو ہزار آدمیوں کے برابر طاقت رکھتا تھا۔
آپ علیہالسلام نے فرمایا:
میں نے عمرو بن عبدود کو قتل کیا، جو ہزار مردوں کے برابر تھا۔[۴]
جب امیرالمومنین علیہالسلام نے عمر بن عبدود کو ماردیا اور یہ خبر اس کی بہن تک پہنچی تو اس نے یہ شعر پڑھا:
اگر اس کا قاتل علی کے علاوہ کوئی اور ہوتا تو پوری زندگی اس پر روتی۔ لیکن اسے قتل کرنے والا ایسا دلاور ہے جس میں کوئی عیب نہیں۔ بلکہ شجاعت و بزرگی میں اس کی شہرت زبان زدِ خاص و عام ہے۔[۵]
اسی موقع پر جب مولا علیہالسلام سے پوچھا گیا کہ آپ نے عمرو کی قیمتی زرہ غنیمت میں کیوں نہیں لی، تو حضرت علیہالسلام نے فرمایا:
جب میں نے اسے قتل کیا تو اس نے اپنی زرہ سے اپنے بدن کو ڈھانپ رکھا تھا۔ میں نے اپنے چچازاد بھائی سے حیا کرتے ہوئے اسے برہنہ نہیں کیا۔[۶]
ان تمام روایات سے امیرالمومنین علیہالسلام کی بے مثال شجاعت بھی واضح ہوتی ہے۔ ساتھ ہی آپ کے بلند اخلاق، کردار اور نصرتِ دین پر ثابت قدمی بھی نمایاں ہوتی ہے۔
مآخذ
[۱] تأويل الآيات الظاهرة، جلد ۱، ص ۴۴۳
[۲] الرسالة العلوية، جلد ۱، ص ۶۶
[۳] إقبال الأعمال، جلد ۱، ص ۴۶۷
[۴] الخصال، جلد ۲، ص ۵۷۲
[۵] إرشاد القلوب، جلد ۲، ص ۲۴۵
[۶] بحار الأنوار، ج ۲۰، ص ۲۰۳
