شب عیدالفطر وہ مبارک رات ہے جو ماہ رمضان کا آخری دن مکمل ہونے کے بعد آتی ہے۔
اس رات کے اعمال کو اہلِ بیت علیہمالسلام کی تعلیمات میں خاص اہمیت حاصل ہے۔ ان اعمال کے ذریعے بندہ عبادت، دعا اور استغفار کے ذریعے اللہ کی رحمت کے قریب ہوتا ہے۔
یہ اعمال مفاتیح الجنان میں نقل ہوئے ہیں۔
اس رات کا پہلا عمل غروبِ آفتاب کے وقت غسل کرنا ہے۔ اس کا مقصد ظاہری اور باطنی پاکیزگی حاصل کرنا ہے۔ تاکہ بندہ پاکیزگی کے ساتھ عبادت میں مشغول ہوسکے۔
اس کے بعد شب بیداری کرنا، نماز ادا کرنا اور استغفار کرنا مستحب ہے۔ بہتر ہے کہ یہ رات مسجد میں گزاری جائے، تاکہ عبادت کا ماحول قائم رہے۔
نمازِ مغرب و عشا، نمازِ فجر اور نمازِ عید کے بعد یہ ذکر پڑھا جائے:
اللَّهُ أَکْبَرُ اللَّهُ أَکْبَرُ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَ اللَّهُ أَکْبَرُ اللَّهُ أَکْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى مَا هَدَانَا وَلَهُ الشُّکْرُ عَلَى مَا أَوْلَانَا۔
یہ ذکر اللہ کی کبریائی، توحید اور اس کی نعمتوں پر شکر کا اظہار ہے۔
نمازِ مغرب کے بعد ہاتھوں کو آسمان کی طرف بلند کر کے دعا پڑھنا مستحب ہے:
(یا ذالمن و الطول یا ذالجود یا مصطفی…)
اس کے بعد سجدے میں جا کر سو مرتبہ ’’ أَتُوْبُ اِلَیٰ اللہِ‘‘ کہنا، جو توبہ اور رجوع الی اللہ کا اظہار ہے۔
اس رات کے اہم اعمال میں سید الشہداء امام حسین بن علی علیہماالسلام کی زیارت بھی شامل ہے، جو قربِ الٰہی کا ایک وسیلہ ہے۔
اسی طرح دس مرتبہ ’’یَا دائِمُ الفَضْلِ’’ کہنا اور دس رکعت نماز ادا کرنا بھی مستحب اعمال میں شمار ہوتا ہے۔
یہ تمام اعمال بندے کو شکر، توبہ اور عبادت کے ذریعے اللہ کے قریب کرتے ہیں اور شبِ عیدالفطر کو ایک بابرکت اور بامقصد رات بنا دیتے ہیں۔
