عید الفطر کا دن ماہ رمضان کے مکمل ہونے کے بعد شکر اور عبادت کا دن ہے۔
اس دن کے اعمال اہلِ بیت علیہمالسلام کی تعلیمات میں بیان ہوئے ہیں۔ ان اعمال کا مقصد اللہ کی نعمتوں پر شکر ادا کرنا ہے۔ یہ اعمال بندے کو اپنی عبادت مکمل کرنے کی توفیق بھی دیتے ہیں۔
یہ اعمال مفاتیح الجنان میں نقل ہوئے ہیں۔
روز عید الفطر کی فضیلت اور اہمیت
اس دن کا ایک اہم عمل چودہ رکعت نماز ہے۔ ہر رکعت میں سورہ حمد، آیت الکرسی اور تین مرتبہ سورہ توحید پڑھی جاتی ہے۔
روایت میں اس نماز کا ثواب چالیس سال عبادت کے برابر بیان ہوا ہے، یہ روایت اس عمل کی اہمیت کو بخوبی ظاہر کرتی ہے۔
زکاتِ فطرہ کو نمازِ عید سے پہلے الگ کرنا بھی ضروری عمل ہے، تاکہ محتاج افراد بھی عید کی خوشی میں شریک ہو سکیں۔
اسی طرح طلوعِ فجر کے بعد سے نمازِ عید تک کے درمیان غسل کرنا مستحب ہے۔ جو ظاہری پاکیزگی کے ساتھ عبادت کی تیاری کو ظاہر کرتا ہے۔
اس دن پاک صاف اور اچھے کپڑے پہننا اور خوشبو لگانا بھی آداب میں شامل ہے، تاکہ انسان نعمتِ الٰہی کا شکر ظاہر کرے۔
اسی طرح تھوڑی مقدار میں خاکِ شفا کھانا بھی مستحب عمل بیان ہوا ہے۔
اعمال میں اباعبداللہ حسین بن علی علیہماالسلام کی زیارت بھی شامل ہے، جو قربِ الٰہی کا ایک اہم ترین ذریعہ ہے۔
اسی طرح دعائے ندبہ پڑھنا بھی اس دن کے اعمال میں سے ہے۔ جس میں بندہ اللہ سے دعا اور اہل بیت علیہمالسلام سے اپنے حقیقی شعیہ ہونے کے تعلق کا اظہار کرتا ہے۔
یہ تمام اعمال عیدالفطر کو محض خوشی کا دن نہیں رہنے دیتے۔ بلکہ اسے عبادت، شکر اور بندگی کا دن بنا دیتے ہیں۔ حضرت امیرالمومنین علیہالسلام کی روایت کا مفہوم بھی یہی ہے۔
آپ علیہالسلام نے فرمایا:
ہر وہ دن عید ہے جس میں انسان گناہ نہ کرے۔
اس تعلیم کا مقصد اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا ہے۔ ساتھ ہی انسان اپنی زندگی اللہ کی رضا کے مطابق گزارنے کی کوشش کرے۔
