سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

حضرت فاطمہ زہرا سلام‌اللہ‌علیہا کی مظلومیت

حضرت فاطمہ زہرا سلام‌اللہ‌علیہا کا خلافت کے غاصبوں سے بیزاری کا اظہار

حضرت فاطمہ زہرا سلام‌اللہ‌علیہا نے زندگی کے آخری ایام میں بے مثال شجاعت کے ساتھ امیر‌المومنین علیہ‌السلام کے غصب کیے گئے حق کا دفاع کیا۔ آپ سلام‌اللہ‌علیہا کی بلند اور دوٹوک آواز، امامت و ولایت کی حقانیت کی گواہی تھی۔ آپ سلام‌اللہ‌علیہا کی دادخواہی، تاریخ میں مولائے متقیان کی مظلومیت کی بازگشت بن کر رہ گئی۔

حضرت فاطمہ زہرا سلام‌اللہ‌علیہا نے گھر پر حملے کے بعد مہاجرین و انصار کی خواتین کے سامنے احتجاج فرمایا۔ زندگی کے آخری ایام میں عیادت کے لیے آنے والوں کے سامنے بھی آپ سلام‌اللہ‌علیہا نے اپنی ناراضگی ظاہر فرمائی۔ یہ واقعات واضح کرتے ہیں کہ آپ سلام‌اللہ‌علیہا نے پوری قوت سے امیرالمومنین علیہ‌السلام کے غصب شدہ حق کا دفاع کیا۔ یہ واقعات ظلم و ناانصافی کے مقابل حضرت فاطمہ زہرا سلام‌اللہ‌علیہا کے عزمِ راسخ کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں۔ ساتھ ہی امیرالمومنین علیہ‌السلام پر ڈھائے گئے مظالم کے خلاف آپ سلام‌اللہ‌علیہا کی پُراثر صدائے احتجاج کو نمایاں کرتے ہیں۔

درد بھرا شکوہ

حضرت فاطمہ زہرا سلام‌اللہ‌علیہا کے گھر پر ہجوم کے بعد، آپ سلام‌اللہ‌علیہا کو لگنے والی ضرب اور حضرت محسن علیہ‌السلام کے ساقط ہونے کے جانکاہ صدمے نے آپ سلام‌اللہ‌علیہا کو بستر علالت سے لگا دیا۔

مدینہ کی خواتین جب آپ سلام‌اللہ‌علیہا کی عیادت اور خیریت دریافت کرنے آئیں تو شہزادی سلام‌اللہ‌علیہا نے اپنے اس دور سے بیزاری کا اظہار کیا۔

جب حضرت فاطمہ سلام‌اللہ‌علیہا کی جراحت شدت اختیار کر گئی تو مہاجرین و انصار کی خواتین آپ سلام‌اللہ‌علیہا کے پاس جمع ہوئیں اور عرض کیا:

’’اے دخترِ رسول خدا! آج آپ سلام‌اللہ‌علیہا نے کس حال میں صبح کی؟‘‘

حضرت فاطمہ سلام‌اللہ‌علیہا نے فرمایا:

’’خدا کی قسم! میں نے ایسی حالت میں صبح کی ہے کہ تمہاری دنیا سے بیزار اور اس سے منہ موڑے ہوئے ہوں۔‘‘[۱]

امیر‌المومنین علیہ‌السلام کی فریاد

امیرالمومنین علیہ‌السلام نے جبری بیعت کے موقع پر اہل‌بیت علیہم‌السلام پر ہونے والے ظلم کے خلاف صریح احتجاج فرمایا۔ آپ علیہ‌السلام نے حضرت فاطمہ زہرا سلام‌اللہ‌علیہا کی حرمت شکنی کے خلاف بھی دوٹوک مؤقف اختیار کیا۔ یہ تاریخی کلمات ان تلخ واقعات پر امام کی گہری اذیت اور ناراضگی کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان دشوار لمحات میں امیرالمومنین علیہ‌السلام کو مجبور کرکے بیعت کے لیے مسجد کی جانب لے جایا جا رہا تھا۔ ایسے میں حضرت فاطمہ زہرا سلام‌اللہ‌علیہا نے درد و غصے سے لبریز دل کے ساتھ صدائے احتجاج بلند ک

آپ سلام‌اللہ‌علیہا کے یہ کلمات اہل‌بیت علیہم‌السلام پر ڈھائے گئے ظلم و جفا کی گہرائی کو آشکار کرتے ہیں:

’’اے خیانت کارو اور بدکارو! اپنے جرائم کے جواب کے لیے تیار ہو جاؤ اور بارگاہ الٰہی میں حساب دینے کے لیے آمادہ ہو جاؤ! کیا سیدہ کو دن دہاڑے مارا جائے، ہمارا حق زبردستی چھین لیا جائے، اور نہ کوئی یاور ہو، نہ پناہ دینے والا، نہ مددگار اور نہ کوئی دست یاری بڑھانے والا؟
کاش! ابوطالب کا بیٹا اس دن سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہو گیا ہوتا اور اسے یہ دل خراش منظر نہ دیکھنا پڑتا کہ تم کس طرح اس پاکیزہ اور نیک سیرت خاتون پر ظلم کرنے کے لیے اکٹھے ہوگئے ہو۔خدا کی رحمت سے تمہارے ہاتھ محروم ہوں؛ بے شک اس معاملے کا انجام خدا اور اس کے رسول کی بارگاہ میں ہے۔ علی بن ابی طالب کے لیے یہ منظر کس قدر سخت ہے کہ وہ اپنی فاطمہ کے پہلو کو ٹھوکروں کے سبب نیلگوں دیکھے، حالانکہ ان کی عظمت و منزلت سب پر آشکار تھی۔ ‘‘[۲]

ملاقات اور عیادت کی درخواست

سقیفۂ بنی ساعدہ، غصبِ فدک اور حضرت زہرا سلام‌اللہ‌علیہا کے گھر پر حملے کے بعد آپ شدید ناراض رہیں۔ آپ سلام‌اللہ‌علیہا کے حقائق آشکار کرنے والے خطبات نے اہلِ مدینہ پر گہرا اثر چھوڑا۔ ابوبکر اور عمر نے محسوس کیا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام‌اللہ‌علیہا کی ناراضگی برقرار رہی تو صورتحال مزید پیچیدہ ہوسکتی ہے۔ اس ناراضگی کے باعث ان کی قائم کردہ حکومت کی حیثیت پر بھی شدید سوالات اٹھ سکتے تھے۔ چنانچہ انہوں نے عیادت اور احوال پرسی کے بہانے حضرت فاطمہ زہرا سلام‌اللہ‌علیہا سے ملاقات کا ارادہ کیا۔ ان کا مقصد بظاہر آپ سلام‌اللہ‌علیہا کی ناراضگی کم کرنا اور اپنی سیاسی مصلحت برقرار رکھنا تھا۔

ان شدید ضربات کے نتیجے میں، حضرت محسن علیہ‌السلام کے سقط کے علاوہ، حضرت فاطمہ سلام‌اللہ‌علیہا سخت بیمار ہوگئیں۔اس واقعے کے بعد آپ سلام‌اللہ‌علیہا نے ان لوگوں کو اپنے پاس آنے کی اجازت نہیں دی۔ جنہوں نے آپ سلام‌اللہ‌علیہا جیسی مقدس ہستی کی بے حرمتی کی تھی۔ تاہم ان دونوں، عمر اور ابوبکر، نے امیر‌المومنین علیہ‌السلام سے درخواست کی کہ وہ حضرت فاطمہ سلام‌اللہ‌علیہا کے حضور ان کی سفارش کریں۔

جب امیرالمومنین علیہ‌السلام نے اس ملاقات کے لیے اپنی زوجۂ گرامی سے اجازت طلب کی، تو دونوں حضرت فاطمہ زہرا سلام‌اللہ‌علیہا کی خدمت میں حاضر ہوئے۔

اس موقع پر ان دونوں نے کہا:

’’اے دختر رسول خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ! آپ سلام‌اللہ‌علیہا کا حال کیسا ہے؟‘‘

حضرت فاطمہ سلام‌اللہ‌علیہا نے اپنے پدر بزرگوار کے فرمان کو یاد دلاتے ہوئے فرمایا:

’’کیا تم نے رسول اللہ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کو یہ فرماتے ہوئے نہیں سنا کہ فاطمہ میرے وجود کا حصہ ہے؛ جس نے اسے اذیت دی، اس نے مجھے اذیت دی، اور جس نے مجھے اذیت دی، اس نے خدا کو اذیت دی؟‘‘

ان دونوں نے جواب دیا: ’’ہاں، ہم نے سنا ہے۔‘‘

حضرت فاطمہ سلام‌اللہ‌علیہا نے فرمایا: ’’پس خدا کی قسم! تم دونوں نے مجھے اذیت دی ہے۔‘‘

اور وہ دونوں سیدہ کی شدید ناراضگی اور برہمی کا سامنا کرنے کے بعد آپ سلام‌اللہ‌علیہا کے پاس سے واپس چلے گئے۔[۳]

سبب شہادت

امام صادق علیہ‌السلام نے حضرت زہرا سلام‌اللہ‌علیہا کی شہادت کی تاریخ اور اس کا سبب یوں بیان فرمایا ہے۔ ابوبصیر، امام باقر اور امام صادق علیہما‌السلام کے اصحاب اور راویان حدیث میں شمار ہوتے ہیں۔

وہ امام صادق علیہ‌السلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ علیہ‌السلام نے فرمایا:

’’حضرت فاطمہ زہرا سلام‌اللہ‌علیہا منگل کے روز، ۳ جمادی الثانی ۱۱ ہجری قمری کو شہید ہوئیں۔ آپ سلام‌اللہ‌علیہا کی شہادت کا سبب وہی کاری ضرب تھی جو عمر کے غلام قنفذ نے اس کے حکم پر آپ سلام‌اللہ‌علیہا کو لگائی تھی۔‘‘[۴]

مآخذ
[۱] ۔ بحار الانوار، جلد ۴۳، صفحۀ ۱۵۹
[۲] ۔ عوالم العلوم و المعارف والاحوال ج‏۱۱، ص۵۷۶
[۳] ۔ بحار الانوار، جلد ۴۳، صفحۀ ۱۷۰
[۴] ۔ بحار الانوار، جلد ۴۳، صفحۀ ۱۷۰

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے