رسول اکرم صلیاللہعلیہوآلہ کی شہادت کے بعد کے ایام سقیفہ کے واقعے سے ایک نئے دور میں داخل ہوئے۔ اس کے ساتھ ہی پُرآشوب سیاسی تبدیلیوں کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔
یہ ایک ایسا دشوار دور تھا جو اسلام کی تاریخ کے تلخ ترین واقعات، یعنی امیرالمومنین علیہالسلام کے گھر پر حملے کا باعث بنا۔ جبری بیعت کے لیے ڈالا جانے والا یہ دباؤ رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کے گھر کی حرمت پامال کرنے کا سبب بنا۔ اسی ظلم کے نتیجے میں حضرت فاطمہ سلاماللہعلیہا کے چھ ماہ کے فرزند حضرت محسن علیہالسلام شہید ہوئے، جن کا مبارک نام خود رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ نے رکھا تھا۔
سقیفہ کا ازسرنو جائزہ اور امام کا قرآن و امامت کا دفاع
رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کی شہادت کے بعد سیاسی ہنگاموں کا آغاز ہوا۔ ان حالات میں امیرالمومنین علیہالسلام نے قرآن و عترت کے ناقابل انفصال رشتے کو مستحکم کرنے کی کوشش فرمائی۔ تاہم، آپ علیہالسلام کو معاشرتی بے اعتنائی اور اہل بیت علیہمالسلام کے گھرانے پر حملے کا سامنا کرنا پڑا۔ رسول اکرم صلیاللہعلیہوآلہ کی تدفین مکمل ہونے کے ساتھ ہی عربوں اور دیگر افراد کی جانب سے ابوبکر کی بیعت کا سلسلہ شروع ہوگیا۔
عمر بن خطاب نے ابوبکر سے بیعت کی اور اس کا ہاتھ تھام لیا۔ اس کے بعد مدینہ میں موجود بعض عرب قبائل اور مؤلفۃ القلوب میں شامل افراد نے بھی اس سے بیعت کی۔ دیگر لوگ بھی ان کے پیروکار ہوگئے۔ اس واقعے کی خبر امیرالمومنین علیہالسلام کو اس وقت پہنچی، جب آپ رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کی تجہیز و تکفین سے فارغ ہوچکے تھے۔ آپ علیہالسلام بنی ہاشم اور سلمان، ابوذر، مقداد، عمار، حذیفہ، اُبیّ بن کعب سمیت تقریباً چالیس اصحاب کے ہمراہ رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کے جسد مبارک پر نماز بھی ادا کرچکے تھے۔
اس کے بعد امیرالمومنین علیہالسلام کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی اور فرمایا:
«اگر امامت قریش کا حق ہے تو میں تمام قریش سے زیادہ اس کا حقدار ہوں، اور اگر یہ قریش کا حق نہیں تو انصار بھی اپنے دعوے میں حق بجانب ہیں۔»
پھر آپ ان لوگوں سے کنارہ کش ہوگئے اور اپنے گھر واپس تشریف لے گئے اور ان مسلمانوں کے ہمراہ وہیں قیام فرمایا جو آپ کے پیرو تھے۔
امیرالمومنین علیہالسلام نے فرمایا:
«میرے لیے اللہ کے پانچ انبیاء میں نمونۂ عمل ہے:
نوح علیہالسلام میں، جب انہوں نے کہا:
اے میرے پروردگار! میں مغلوب ہوگیا ہوں، پس میری مدد فرما۔
اور ابراہیم علیہالسلام میں، جب انہوں نے کہا:
میں تم سے اور ان معبودوں سے جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، کنارہ کش ہوتا ہوں۔
اور لوط علیہالسلام میں، جب انہوں نے کہا:
کاش میرے پاس تمہارے مقابلے کی طاقت ہوتی یا میں کسی مضبوط سہارے کی پناہ لیتا۔
اور موسیٰ علیہالسلام میں، جب انہوں نے کہا:
جب مجھے تم سے خوف ہوا تو میں تمہارے درمیان سے نکل گیا۔
اور ہارون علیہالسلام میں، جب انہوں نے کہا:
اس قوم نے مجھے کمزور سمجھا اور قریب تھا کہ مجھے قتل کردیں۔»
قرآن اور امام کے ساتھ لوگوں کی بے اعتنائی
امیرالمومنین علیہالسلام نے قیام عدالت کے لیے قرآن و عترت کے لازم و ملزوم ہونے سے متعلق حدیث نبوی سے استدلال فرمایا۔ تاہم، لوگوں نے واضح طور پر کتاب خدا اور ولایت امیرالمومنین علیہالسلام کی ضرورت سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد امیرالمومنین علیہالسلام نے قرآن کریم کو جمع فرمایا اور اسے ایک کپڑے میں لپیٹ کر لوگوں کے پاس لے آئے۔ قرآنِ کریم کی کثرت اور وزن کے باعث نیچے بچھا ہوا کپڑا بھی آواز کرنے لگا۔
آپ علیہالسلام نے فرمایا:
«یہ کتاب خدا ہے، جسے میں نے اسی ترتیب کے مطابق جمع کیا ہے جس کا رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ نے مجھے حکم اور وصیت فرمائی تھی۔»
ان میں سے بعض نے کہا:
«اسے چھوڑو اور چلے جاؤ۔»
امیرالمومنین علیہالسلام نے فرمایا:
«رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ نے تم سے فرمایا تھا:
میں تمہارے درمیان دو گراں قدر امانتیں چھوڑ کر جارہا ہوں: کتاب خدا اور میری عترت۔ یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر میرے پاس وارد ہوں۔ پس اگر تم کتاب خدا کو قبول کرتے ہو تو مجھے بھی اس کے ساتھ قبول کرو، تاکہ میں اس میں موجود احکام الٰہی کے مطابق تمہارے درمیان فیصلہ کروں۔»
انہوں نے کہا:
«نہ ہمیں اس کتاب کی ضرورت ہے اور نہ تمہاری۔ اسے اپنے ساتھ لے جاؤ؛ نہ تم اس سے جدا ہو اور نہ وہ تم سے جدا ہو۔»
پس امیرالمومنین علیہالسلام وہاں سے واپس تشریف لے آئے۔
«محسن» ولایت کے سب سے پہلے فدائی
جب رسولِ خدا صلیاللہعلیہوآلہ حق تعالیٰ سے جاملے تو امیرالمومنین علیہالسلام اور آپ کے شیعہ اسی عہد کے مطابق اپنے گھروں میں مقیم رہے۔ یہ وہ عہد تھا جو رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ نے ان سے فرمایا تھا، چنانچہ انہوں نے دوسروں کے لیے اپنے دروازے بند رکھے۔ آپ علیہالسلام اور آپ کے شیعہ، رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کی وصیت اور عہد کے مطابق اپنے گھر میں موجود رہے۔ اسی دوران ان لوگوں نے آپ کے گھر پر حملہ کیا اور زبردستی اندر داخل ہوگئے۔ انہوں نے گھر کے دروازے کو آگ لگا دی اور امیرالمومنین علیہالسلام کو زبردستی گھر سے باہر نکال لیا۔ سیدۂ نساء العالمین، حضرت فاطمہ سلاماللہعلیہا کو در و دیوار کے درمیان مجروح کیا گیا، یہاں تک کہ آپ کا فرزند محسن سقط ہوگیا۔
اس کے بعد وہ امیرالمومنین علیہالسلام سے بیعت لینا چاہتے تھے، لیکن آپ نے قبول نہیں کیا اور فرمایا:
«میں ایسا نہیں کروں گا۔»
انہوں نے کہا:
«ہم تمہیں قتل کردیں گے۔»
حضرت نے فرمایا:
«اگر تم مجھے قتل کردو گے تو تم اللہ کے بندے اور اس کے رسول کے بھائی کو قتل کرو گے۔»
اس کے بعد وہ حضرت کا ہاتھ کھول کر ابوبکر کے ہاتھ پر رکھنا چاہتے تھے، مگر آپ علیہالسلام نے ہاتھ مضبوطی سے بند رکھا۔ وہ آپ کی انگلیاں نہ کھول سکے، چنانچہ اسی حالت میں بند ہاتھ کو زبردستی ابوبکر کے ہاتھ پر مار کر بیعت کرائی گئی۔[۱]
مولائے کائنات کے تلخ ترین ایام
رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کی شہادت کے بعد وجود میں آنے والی سیاسی اور جذباتی کشمکش، امیرالمومنین علیہالسلام سے بیعت لینے کے لیے سقیفہ میں ہونے والے مسلسل دباؤ سے جڑ گئی اور آپ کی زندگی کے تلخ ترین ایام رقم ہوئے۔
عمرو بن ابیالمقدام، جو معتبر محدث، امامی مذہب اور امام سجاد، امام باقر اور امام صادق علیہمالسلام کے اصحاب میں سے تھے، اپنے والد اور وہ اپنے جد سے نقل کرتے ہیں:
«امیرالمومنین علیہالسلام پر گزرنے والے ان دو دنوں سے زیادہ سخت اور دردناک کوئی دن نہیں تھا۔ پہلا دن وہ تھا جب رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ دنیا سے رخصت ہوئے۔
لیکن دوسرا دن؛ خدا کی قسم، میں سقیفۂ بنی ساعدہ میں ابوبکر کے دائیں جانب بیٹھا ہوا تھا اور لوگ اس سے بیعت کررہے تھے کہ عمر نے اس سے کہا:
اے مرد! جب تک علی تم سے بیعت نہیں کرتے، تم نے کوئی کام انجام نہیں دیا۔ پس کسی کو ان کے پاس بھیجو تاکہ وہ انہیں تمہارے پاس لائے اور وہ تم سے بیعت کریں۔»
راوی کہتا ہے:
«ابوبکر نے قنفذ کو بھیجا اور اس سے کہا: «علی کے پاس جاؤ اور ان سے کہو: رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کے جانشین کی دعوت قبول کرو۔»
وحی کے گھر پر حملہ
امیرالمومنین علیہالسلام نے قرآن مجید کی منتشر آیات کو جمع کرنے کی کوشش کی، لیکن اسی دوران ابوبکر کے بعض ساتھیوں نے آپ کے گھر پر حملہ کیا اور دروازہ توڑ دیا۔
عمرو بن ابیالمقدام مزید بیان کرتا ہے:
«امیرالمومنین علیہالسلام نے فرمایا:
رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ نے مجھے حکم دیا ہے کہ آپ کے بعد اپنے گھر سے باہر نہ نکلوں، یہاں تک کہ قرآن کو جمع کرلوں؛ کیونکہ قرآن مجید کی آیات کھجور کی شاخوں، ہڈیوں اور دیگر دستیاب چیزوں پر تحریر کی صورت میں مختلف جگہوں پر منتشر ہیں۔»
قنفذ واپس آیا اور امیرالمومنین علیہالسلام کا فرمان ابوبکر کو بتایا۔
عمر نے کہا:
«اٹھو اور اس شخص کے پاس جاؤ۔»
چنانچہ ابوبکر، عمر، عثمان، خالد بن ولید، مغیرہ بن شعبہ، ابوعبیدہ جراح اور سالم، ابوحذیفہ کے غلام، اٹھے اور راوی بھی ان کے ساتھ روانہ ہوا۔
حضرت فاطمہ سلاماللہعلیہا کا گمان تھا کہ کوئی شخص ان کی اجازت کے بغیر گھر میں داخل نہیں ہوگا؛ چنانچہ آپ نے دروازہ بند کردیا۔ جب وہ لوگ گھر کے دروازے تک پہنچے تو عمر نے اپنے پاؤں سے دروازے پر ضرب لگائی اور اسے توڑ دیا؛ یہ دروازہ کھجور کی شاخوں سے بنایا گیا تھا۔ پھر وہ گھر میں داخل ہوئے اور امیرالمومنین علیہالسلام کو اس حالت میں کہ ان کا گریبان پکڑا ہوا تھا، گھر سے باہر نکال لائے۔
غاصبان خلافت کے خلاف شکایت
رسولِ خدا صلیاللہعلیہوآلہ کی شہادت کے بعد پیش آنے والی سختیوں پر حضرت فاطمہ سلاماللہعلیہا بے قرار تھیں۔ بارگاہ پروردگار میں فریاد کرنے کی یہ کیفیت امیرالمومنین علیہالسلام کے حکم اور آپ کے گھر واپس لوٹنے سے فروکش ہوئی۔
عمرو بن ابیالمقدام نے کہا:
«حضرت فاطمہ سلاماللہعلیہا باہر تشریف لائیں اور فرمایا: اے ابوبکر و عمر! کیا تم چاہتے ہو کہ مجھے میرے شوہر سے بیوہ کردو؟! خدا کی قسم! اگر تم نے ان سے دست برداری اختیار نہ کی تو میں اپنے بال پریشان کردوں گی، اپنا گریبان چاک کردوں گی، اپنے والد کی قبر پر جاؤں گی اور اپنے پروردگار کی بارگاہ میں فریاد کروں گی۔»
پھر آپ گھر سے باہر نکلیں، حسن و حسین علیہماالسلام کے ہاتھ تھامے اور رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کی قبر کی جانب روانہ ہوگئیں۔
امیرالمومنین علیہالسلام نے سلمان سے فرمایا:
«اے سلمان! محمد صلیاللہعلیہوآلہ کی بیٹی کے پاس پہنچو؛ کیونکہ میں دیکھ رہا ہوں کہ مدینہ کے دونوں اطراف میں لرزنے اور الٹ جانے والی کیفیت ہے۔ خدا کی قسم! اگر وہ ایسا کرتی ہیں تو زیادہ دیر نہ لگے گی کہ زمین، مدینہ اور اس میں موجود ہر شخص کو نگل لے گی۔»
سلمان کہتے ہیں:
میں حضرت فاطمہ سلاماللہعلیہا کے پاس پہنچا اور عرض کیا:
«اے دختر رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ! اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کے والد کو صرف رحمت بنا کر بھیجا ہے؛ لہٰذا واپس تشریف لے چلیے۔»
حضرت فاطمہ سلاماللہعلیہا نے فرمایا:
«اے سلمان! اب مجھ میں صبر کی طاقت نہیں رہی۔ مجھے چھوڑ دو تاکہ میں اپنے والد کی قبر پر جاؤں اور اپنے پروردگار کی بارگاہ میں فریاد کروں۔»
سلمان نے عرض کیا:
«علی نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ہے اور آپ کو واپس آنے کا حکم دیا ہے۔»
حضرت فاطمہ سلاماللہعلیہا نے فرمایا:
«میں ان کی بات سنتی اور اطاعت کرتی ہوں۔»
پھر آپ واپس تشریف لے آئیں۔
جبری (زبردستی) بیعت
امیرالمومنین علیہالسلام کو گرفتار کرکے رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کی قبر مبارک کے پاس لایا گیا۔ اس کے بعد آپ علیہالسلام کو سقیفہ لے جایا گیا۔ وہاں عمر کی جانب سے امیرالمومنین علیہالسلام پر شدید دباؤ ڈالا گیا۔ بیعت نہ کرنے کی صورت میں آپ علیہالسلام کو قتل کی دھمکی دی گئی۔
عمرو بن ابیالمقدام نے واقعے کو آگے یوں بیان کیا:
«اسی دوران امیرالمومنین علیہالسلام کو اس حالت میں باہر لایا گیا کہ ان کا گریبان پکڑا ہوا تھا۔ زبیر اپنی تلوار نیام سے نکالے ہوئے ان کی طرف آیا اور پکار کر کہا:
اے اولادِ عبدالمطلب! کیا تمہاری موجودگی میں علی کے ساتھ ایسا سلوک کیا جارہا ہے؟!
پھر وہ عمر کی طرف حملہ آور ہوا تاکہ اپنی تلوار سے اسے مارے۔ خالد بن ولید نے اس کی طرف ایک پتھر پھینکا جو اس کے سر کے پچھلے حصے پر لگا اور اس کے ہاتھ سے تلوار گر گئی۔
عمر نے تلوار اٹھائی اور اسے ایک پتھر پر مار کر توڑ دیا۔
امیرالمومنین علیہالسلام رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کی قبر کے پاس سے گزرے اور غم کے ساتھ فرمایا:
«اے میرے بھائی ! اس قوم نے مجھے کمزور اور بے یار و مددگار سمجھا اور قریب ہے کہ مجھے قتل کردیں۔»
راوی کہتا ہے:
امیرالمومنین علیہالسلام کو سقیفہ میں ابوبکر کے پاس لایا گیا۔
عمر نے آپ سے کہا:
«بیعت کرو۔»
امام نے فرمایا:
«اگر میں بیعت نہ کروں تو کیا ہوگا؟»
عمر نے کہا:
«اس صورت میں، خدا کی قسم! ہم تمہاری گردن اڑا دیں گے۔»
امیرالمومنین علیہالسلام نے فرمایا:
«اس صورت میں، خدا کی قسم! تم اللہ کے بندے اور اس کے رسول صلیاللہعلیہوآلہ کے بھائی کو قتل کردو گے۔»
عمر نے کہا:
«یہ کہ تم اللہ کے بندے ہو اور قتل کیے جاؤ، ہاں؛ لیکن یہ کہ تم رسولِ خدا صلیاللہعلیہوآلہ کے بھائی ہو، نہیں۔»
یہ گفتگو ان دونوں کے درمیان تین مرتبہ دہرائی گئی۔ اسی دوران عباس آگے بڑھے اور کہا:
«اے ابوبکر! میرے بھتیجے کے ساتھ نرمی کرو۔ میں ضمانت دیتا ہوں کہ وہ تم سے بیعت کرلیں گے۔»
پھر عباس نے امیرالمومنین علیہالسلام کا ہاتھ پکڑا اور اسے ابوبکر کے ہاتھ پر رکھ دیا اور امام کو اس حال میں چھوڑ دیا گیا کہ آپ غضب ناک تھے۔
امیرالمومنین علیہالسلام نے اپنا سر آسمان کی جانب بلند کیا اور فرمایا:
«اے اللہ! تو جانتا ہے کہ تیرے نبی صلیاللہعلیہوآلہ نے مجھ سے فرمایا تھا: اگر ان کی تعداد بیس افراد تک پہنچ جائے تو ان سے جہاد کرو۔ اور یہی تیرے کتاب میں فرمان ہے کہ اگر تم میں سے بیس صابر افراد ہوں تو وہ دو سو پر غالب آئیں گے۔ اے اللہ! ابھی وہ بیس افراد تک نہیں پہنچے ہیں۔»
آپ نے یہ بات تین مرتبہ دہرائی اور پھر واپس تشریف لے آئے۔[۲]
مغیرہ کی پیشانی پر حرمت شکنی کا داغ
امام حسن علیہالسلام کے معاویہ اور اس کے ساتھیوں کے خلاف دلائل میں ایک موقع ایسا بھی آیا جب آپ علیہالسلام نے حضرت فاطمہ سلاماللہعلیہا کی مصیبتیں یاد فرمائیں۔ آپ علیہالسلام نے مغیرہ بن شعبہ کے سنگین جرم کو آشکار فرمایا۔ آپ علیہالسلام نے رسولِ خدا صلیاللہعلیہوآلہ کی حرمت کی پامالی کی بھی تصدیق فرمائی۔
امام حسن علیہالسلام نے معاویہ اور اس کے ساتھیوں کے سامنے جو احتجاج اور استدلال پیش کیے۔ ان میں سے ایک یہ تھا کہ آپ نے مغیرہ بن شعبہ سے فرمایا:
«تم وہی شخص ہو جس نے فاطمہ، دختر رسول خدا کو مارا اور ان کے جسم کو خون آلود کردیا؛ اور اسی وجہ سے ان کا جنین سقط ہوگیا۔»
امام حسن علیہالسلام نے اس عمل کے محرک کی جانب اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:
«تم نے یہ عمل اس لیے انجام دیا کہ تم رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کو ذلیل و خوار کرنا چاہتے تھے اور ان کے فرمان کی مخالفت کرکے ان کی حرمت پامال کرنا چاہتے تھے۔»
پھر حضرت نے اپنی والدۂ گرامی کے بلند مقام کو یاد کرتے ہوئے فرمایا:
«حالانکہ رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ حضرت زہراء اطہر سے فرماتے تھے: اے فاطمہ! تم اہلِ جنت کی عورتوں کی سردار ہو۔ پس اے مغیرہ! جان لو کہ اللہ تعالیٰ تمہیں جہنم کی آگ کا ایندھن بنائے گا۔»[۳]
مآخذ
[۱] اثبات الوصیه، صفحۀ ۱۴۶
[۲] الاختصاص مفید، جلد ۱، صفحۀ ۱۸۵
[۳] بحار الانوار، جلد ۴۳، صفحۀ ۱۹۷