آپ ولایت کے دین کے بنیادی ارکان سے گہرے تعلق کو واضح فرماتے ہیں۔ وصیِ رسول صلیاللہعلیہوآلہ کی بے مثال معرفت کے ذریعے حقیقتِ خلقت اور حدودِ ایمان کو آشکار فرماتے ہیں۔
امام جعفر صادق علیہالسلام ۱۷ ربیع الاول سنہ ۸۳ ہجری کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔
آپ کے بزرگوار والد امام باقر علیہالسلام نے آپ کا نام "جعفر” رکھا۔ یہ نام امیرالمومنین علیہالسلام کے بھائی اور آپ کے آباؤ اجداد کے چچا، جعفر طیار، کی نسبت سے رکھا گیا۔
آپ کی گرامی قدر والدہ "فاطمہ” تھیں، جو "اُم فروہ” کے نام سے معروف تھیں۔ وہ اپنے زمانے کی نیک اور صالح خواتین میں شمار ہوتی تھیں۔
اس جملے کو دو مختصر اور رواں جملوں میں یوں لکھا جا سکتا ہے:
معارفِ اہل بیت کے نظام میں امام صادق علیہالسلام رسول اکرم صلیاللہعلیہوآلہ اور امیرالمومنین علیہالسلام کی نورِ الٰہی سے خلقت کو بیان فرماتے ہیں۔
آپ واقعۂ غدیر کی تاریخی حقیقت سے اسے جوڑتے ہوئے ولایت مولائے کائنات کو ایمان کا قطب نما قرار دیتے ہیں۔
آپ ان سلسلہ وار روایات میں ولایت کو دین کے دیگر احکام کے ساتھ محض ایک رکن نہیں قرار دیتے۔ بلکہ اسے دین کے تمام بنیادی ارکان کی "کلید” اور نجات کا واحد راستہ قرار دیتے ہیں۔
یہ ایسی حقیقت ہے جس کی گہرائی اور تاثیر بے مثال ہے۔ غدیر کے دن ابلیس بھی امیرالمومنین علیہالسلام کے پیروکاروں کی استقامت کے سامنے اپنی تاریخی شکست تسلیم کرنے پر مجبور ہوا۔
نوری خلقت
رسول اکرم صلیاللہعلیہوآلہ اور امیرالمومنین علیہالسلام کی تخلیقِ کائنات سے پہلے نورِ الٰہی سے خلقت بیان ہوئی ہے۔ یہ حقیقت بارگاہِ خداوندی میں نبوت و امامت کے بلند مرتبے کو آشکار کرتی ہے۔
امام صادق علیہالسلام نے فرمایا:
"رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ اور امیرالمومنین علی علیہالسلام، دنیا اور اس کی تمام مخلوقات کی خلقت سے دو ہزار سال پہلے خداوند متعال و باعظمت کی بارگاہ میں دو نور تھے۔ جب فرشتوں نے اس نور کو دیکھا تو انہوں نے ایک مستحکم بنیاد دیکھی، جس سے ایک شاخ اور درخشاں شعاع جدا ہو رہی تھی۔”
انہوں نے عرض کیا:
اے ہمارے پروردگار اور آقا! یہ کیسا نور ہے؟
خداوند عزیز و جلیل نے ان کی طرف وحی فرمائی:
یہ میرے نور میں سے ایک نور ہے؛ اس کی بنیاد نبوت ہے اور اس کی شاخ امامت۔
"نبوت میرے بندے اور رسول محمد صلیاللہعلیہوآلہ کے لیے ہے اور امامت میری حجت اور ولی علی بن ابیطالب علیہالسلام کے لیے ہے؛ اور اگر یہ دونوں نہ ہوتے تو میں اپنی مخلوقات کو پیدا نہ کرتا۔”[۱]
عرش کے ناموں سے حضرت آدم علیہالسلام کا توسل
حضرت آدم علیہالسلام کا رسولِ خدا صلیاللہعلیہوآلہ اور امیرالمومنین علیہالسلام کے انوار سے توسل، ایک اہم حقیقت کو آشکار کرتا ہے۔ یہ واقعہ آفرینش اور ولایت کے باہمی گہرے تعلق کو واضح کرتا ہے۔
امام جعفر صادق علیہالسلام نے فرمایا:
"جب حضرت آدم علیہالسلام سے خطا سرزد ہوئی تو انہوں نے حضرت محمد صلیاللہعلیہوآلہ اور ان کے اہل بیت علیہمالسلام کے وسیلے سے بارگاہِ خداوندی میں رجوع کیا اور انہیں اپنی بخشش کا وسیلہ قرار دیا۔”
پھر خداوند عالم نے ان کی طرف وحی فرمائی:
"اے آدم! تم نے محمد کو کیسے پہچانا؟”
آدم علیہالسلام نے عرض کیا:
"جب تو نے مجھے پیدا کیا تو میں نے اپنا سر بلند کیا اور دیکھا کہ عرش کے سامنے لکھا ہوا تھا: محمد صلیاللہعلیہوآلہ اللہ کے رسول ہیں اور علی بن ابیطالب علیہالسلام امیرالمومنین ہیں۔”[۲]
ایمان کو پرکھنے کی کسوٹی
امیرالمومنین علیہالسلام کو خدا اور اس کے بندوں کے درمیان نشانی قرار دیا گیا ہے۔ یہ حقیقت انسان کے لیے ایمان و کفر کی حد کو واضح کرتی ہے۔
مفضّل، جو امام صادق علیہالسلام اور امام موسیٰ کاظم علیہالسلام کے شاگرد اور اصحاب میں سے تھے، امام جعفر صادق علیہالسلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:
"بے شک خداوندِ عزوجل نے امیرالمؤمنین علی علیہالسلام کو اپنے اور اپنی مخلوق کے درمیان ہدایت کی نشانی اور پرچم قرار دیا ہے اور ان کے اور لوگوں کے درمیان ان کے سوا کوئی نشانی نہیں۔ لہٰذا جو شخص ان کی ولایت کا اقرار کرے وہ مؤمن ہے، جو اس کا انکار کرے وہ کافر ہے، جو انہیں نہ پہچانے وہ گمراہ ہے، جو ان کی ولایت کے ساتھ کسی اور کی ولایت کو شامل کرے وہ مشرک ہے، جو ان کی ولایت کے ساتھ خدا کی بارگاہ میں حاضر ہو وہ جنت میں داخل ہوگا اور جو اس کا انکار کرے گا وہ آگ میں داخل ہوگا۔”[۳]
عہدِ غدیر پر جبرئیل کی گواہی
امیرالمومنین علی علیہالسلام کی ولایت کے عہد پر فرشتۂ وحی کی جانب سے تأکید، غدیر کے عہد کو توڑنے والوں کے انجام کو آشکار کرتی ہے۔
امام جعفر صادق علیہالسلام نے فرمایا:
"جب خداوند عالم کی جانب سے امیرالمومنین علی علیہالسلام کی ولایت کا اعلان ہوا اور رسولِ خدا صلیاللہعلیہوآلہ نے اسے حاضرین تک پہنچا دیا تو مجمع میں سے ایک شخص نے کہا:
رسولِ خدا نے اس شخص کے لیے ایسا مضبوط عہد باندھا ہے کہ ان کے بعد کوئی شخص اسے نہیں توڑے گا، سوائے کافر کے۔
اسی دوران عمر بن خطاب اس کے پاس گیا اور پوچھا:
اے بندۂ خدا! تم کون ہو؟
لیکن اس نے خاموشی اختیار کی اور کوئی جواب نہ دیا۔
عمر رسولِ خدا صلیاللہعلیہوآلہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:
اے رسولِ خدا! میں نے لوگوں کے درمیان ایک شخص کو دیکھا جو کہہ رہا تھا:
رسولِ خدا نے اس شخص کے لیے ایسا مضبوط عہد باندھا ہے کہ اسے کوئی نہیں توڑ سکتا، سوائے کافر کے۔
رسولِ خدا صلیاللہعلیہوآلہ نے فرمایا:
اے عمر! وہ شخص جبرئیل تھا؛ پس خبردار! کہیں تم ان لوگوں میں سے نہ ہو جاؤ جو اس عہد کو توڑتے اور حق سے روگردانی کرتے ہیں۔”[۴]
جنت و دوزخ تقسیم کرنے والے
قیامت کے دن امیرالمومنین علیہالسلامکے ہاتھوں جنت و دوزخ کی تقسیم، روز قیامت آپ کے بلند مرتبے کا ایک مظہر ہے اور مخلوقات کے درمیان آپ کے بے مثال مقام کو نمایاں کرتی ہے۔
امام جعفر صادق علیہالسلام نے فرمایا:
“جب قیامت کا دن برپا ہوگا تو ایک منبر قائم کیا جائے گا جو تمام مخلوقات کے سامنے ہوگا۔ ایک شخص اس پر ہوگا اور اس کے دائیں اور بائیں دو فرشتے ہوں گے۔
دائیں جانب والا فرشتہ پکارے گا:
اے مخلوق! یہ علی بن ابیطالب علیہالسلام ہیں، جنت کے مالک؛ جسے چاہیں گے جنت میں داخل کریں گے۔
اور بائیں جانب والا فرشتہ ندا دے گا:
اے مخلوق! یہ علی بن ابیطالب علیہالسلام ہیں، دوزخ کے مالک؛ جسے چاہیں گے آگ میں داخل کریں گے۔”[۵]
حدیث ثقلین میں عترت کی حقیقت
امیرالمومنین علیہالسلام حدیثِ ثقلین میں عترت کے مفہوم کی وضاحت فرماتے ہیں۔ آپ بارہ اماموں کو قرآن کے ہمیشہ ساتھ رہنے والے قرار دیتے ہیں۔
امام صادق علیہالسلام نے اپنے بزرگوار آباؤ اجداد کے واسطے سے حضرت سیدالشہداء علیہالسلام سے روایت کی کہ آپ نے فرمایا:
"امیرالمومنین علیہالسلامسے رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ کے اس فرمان کے بارے میں پوچھا گیا:
إِنِّی مُخَلِّفٌ فِیکُمُ الثَّقَلَینِ: کِتَابَ اللّٰهِ وَ عِتْرَتِی، میں تمہارے درمیان دو گراں قدر امانتیں چھوڑے جا رہا ہوں: کتابِ خدا اور میری عترت۔
پوچھا گیا:
عترت کون ہیں؟
حضرت نے فرمایا:
میں، حسن، حسین اور حسین کی نسل سے نو امام؛ جن میں نویں مہدی اور قائمِ اہل بیت علیہم السلام ہیں۔
یہ لوگ کبھی کتابِ خدا سے جدا نہیں ہوں گے اور قرآن بھی ان سے جدا نہیں ہوگا، یہاں تک کہ حوضِ کوثر پر رسولِ خدا صلیاللہعلیہوآلہ کی خدمت میں وارد ہوں۔”[۶]
توحید کی قبولیت کی شرط
امیرالمومنین علیہالسلام اور ائمہ معصومین علیہمالسلام کی ولایت کا توحید سے ناگزیر تعلق ہے۔ یہ حقیقت رحمت و رضوانِ الٰہی تک پہنچنے کی راہ واضح کرتی ہے۔
امام جعفر صادق علیہالسلام نے اپنے آباؤ و اجداد طاہرین علیہمالسلام کے واسطے سے روایت کیا ہے کہ رسول خدا صلیاللہعلیہوآلہ نے فرمایا:
"جبرئیل میرے پروردگار کی طرف سے پیغام لائے کہ خداوند نے فرمایا:
جو شخص جانتا ہو کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں، محمد صلیاللہعلیہوآلہ میرے بندے اور رسول ہیں، علی بن ابیطالب علیہالسلام میرے خلیفہ اور جانشین ہیں اور ان کی نسل سے ائمہ میرے حجت ہیں، میں اسے اپنی رحمت سے جنت میں داخل کروں گا، اپنی بخشش سے آگ سے نجات دوں گا، اپنی بارگاہ کی ہمسائیگی نصیب کروں گا، اپنی کرامت اس کے لیے لازم کر دوں گا، اپنی نعمت اس پر مکمل کر دوں گا اور اسے اپنے خاص اور برگزیدہ بندوں میں قرار دوں گا۔
اگر وہ مجھے پکارے گا تو میں اس کا جواب دوں گا، اگر مجھ سے مانگے گا تو اسے عطا کروں گا، اگر خاموش رہے گا تو میں خود اس پر بخشش کا آغاز کروں گا، اگر اس سے لغزش ہوگی تو اس پر رحم کروں گا، اگر مجھ سے دور بھاگے گا تو اسے پکاروں گا، اگر میری طرف لوٹے گا تو اسے قبول کروں گا اور اگر میرے دروازے پر دستک دے گا تو اس کے لیے دروازہ کھول دوں گا۔
لیکن جو شخص میری وحدانیت کی گواہی نہ دے، یا اس کا اقرار تو کرے لیکن محمد صلیاللہعلیہوآلہ کی رسالت کو قبول نہ کرے، یا رسالت کو مانے لیکن علی بن ابیطالب علیہالسلام کی خلافت کو تسلیم نہ کرے، یا ان کی جانشینی کو تسلیم کرے لیکن ان کی اولاد کی امامت کا انکار کرے، تو اس نے میری نعمت کی ناشکری کی، میری عظمت کو حقیر جانا اور میری آیات اور کتابوں کا انکار کیا۔
اگر وہ میری طرف آئے گا تو میں اسے محروم کر دوں گا، اگر مانگے گا تو اسے بے نصیب رکھوں گا، اگر مجھے پکارے گا تو اسے جواب نہیں دوں گا، اگر دعا کرے گا تو اس کی دعا قبول نہیں کروں گا اور اگر امید رکھے گا تو اسے ناامید کر دوں گا۔ یہی اس کی سزا ہے اور میں اپنے بندوں پر کبھی ظلم نہیں کرتا۔”پھر جابر بن عبداللہ انصاری کھڑے ہوئے اور عرض کیا:
"یا رسولِ خدا! علی بن ابیطالب علیہالسلام کی نسل سے ائمہ کون ہیں؟”
رسولِ خدا صلیاللہعلیہوآلہ نے فرمایا:
"حسن اور حسین، جو جنت کے جوانوں کے دو سردار ہیں؛ پھر اپنے زمانے کے عابدوں کے سردار علی بن الحسین؛ پھر باقر، محمد بن علی؛ اور اے جابر! تم ان سے ملاقات کرو گے، پس جب ان سے ملو تو میرا سلام انہیں پہنچانا۔
ان کے بعد صادق، جعفر بن محمد؛ پھر کاظم، موسیٰ بن جعفر؛ پھر رضا، علی بن موسیٰ؛ پھر تقی، محمد بن علی؛ پھر نقی، علی بن محمد؛ پھر زکی، حسن بن علی؛ اور ان کے بعد ان کے فرزند، میری امت کے قائم بحق، مہدی ہیں؛ وہی جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے، جس طرح وہ ظلم و جور سے بھر چکی ہوگی۔
اے جابر! یہی میرے خلفاء، میرے اوصیاء، میری اولاد اور میرے اہل بیت ہیں۔ ان کی اطاعت میری اطاعت اور ان کی نافرمانی میری نافرمانی ہے، اور جو ان سب یا ان میں سے کسی ایک کا انکار کرے گا، اس نے میرا انکار کیا ہے۔ انہی کے وجود کی برکت سے خداوند آسمان کو تھامے رکھتا ہے کہ وہ اس کے اذن کے بغیر زمین پر نہ گر پڑے، اور انہی کے سبب زمین کو سکون عطا کرتا ہے تاکہ وہ اپنے اہل کو ہلا کر تباہ نہ کر دے۔”[۷]
امام صادق علیہالسلام کے سامنے دین پیش کرنا
امیرالمومنین علیہالسلام اور ان کے بعد آنے والے ائمہ علیہمالسلام کی ولایت پر ایمان، دین کی قبولیت کی بنیاد ہے۔
یہ ایمان مؤمن کے اہل بیت علیہمالسلام سے ولایت و وابستگی کے رشتے کو مضبوط کرتا ہے۔
راوی بیان کرتا ہے:
"میں امام جعفر صادق علیہالسلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا:
میں اپنے دین اور عقیدے کو آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں، اگرچہ میرے خیال میں میرا عقیدہ مکمل ہے۔
حضرت نے فرمایا:
بیان کرو۔
میں نے عرض کیا:
میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اس کے بندے اور رسول ہیں، اور جو کچھ وہ خدا کی طرف سے لے کر آئے ہیں، میں اس پر ایمان رکھتا ہوں۔ نیز میرا عقیدہ ہے کہ علی ایسے امام ہیں جن کی اطاعت خداوند نے واجب قرار دی ہے؛ جو انہیں پہچانے وہ مؤمن ہے، جو نہ پہچانے وہ گمراہ ہے اور جو انہیں رد کرے وہ کافر ہے۔
پھر میں نے ایک ایک کرکے ائمہ علیہمالسلام کے نام بیان کیے، یہاں تک کہ امام صادق علیہالسلام تک پہنچ گیا۔
اس کے بعد حضرت نے فرمایا:
تم مجھ سے کیا چاہتے ہو؟ کیا تم چاہتے ہو کہ اسی عقیدے کی بنیاد پر میرے اور تمہارے درمیان محبت اور ولایت کا رشتہ قائم ہو؟ میں بھی انہی عقائد کی بنیاد پر تمہاری ولایت اور وابستگی کو قبول کرتا ہوں۔”[۸]
ولایت: اسلام کے بنیادی ارکان کی کنجی
دین کے دیگر ارکان پر امیرالمومنین علیہالسلاماور اہل بیت علیہمالسلام کی ولایت کی برتری، احکامِ الٰہی کی تکمیل میں امامت کے مقام کو واضح کرتی ہے۔
زرارہ، جو حدیث کے راوی اور امام باقر علیہالسلام و امام جعفر صادق علیہالسلام کے اصحاب میں سے تھے، امام جعفر صادق علیہالسلام سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:
"اسلام پانچ بنیادوں پر قائم ہے: نماز، زکوٰۃ، حج، روزہ اور ولایت۔”
زرارہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا:
“ان میں سب سے برتر کون سی بنیاد ہے؟”
حضرت نے فرمایا:
"ولایت سب سے برتر ہے؛ کیونکہ ولایت ان تمام ارکان کی کلید ہے اور امام و ولی لوگوں کو ان ارکان پر عمل کرنے کی رہنمائی کرتا ہے۔”[۹]
امام صادق علیہالسلام کی روایات حقیقتِ ولایت کو سمجھنے کے لیے روشن ترین چراغ ہیں۔
آپ واقعی امیرالمومنین علیہالسلام کے آسمانی مقام کو دنیا کے سامنے متعارف کرانے کے سب سے نمایاں علم بردار ہیں۔
ماخذ
[۱] بحار الانوار، جلد۱۵، صفحۀ۱۱
[۲] بحار الانوار، جلد۲۷، صفحۀ۷
[۳] امالی طوسی، جلد۱، صفحۀ۴۱۰، المحتضر، جلد۱، صفحۀ۹۳
[۴] بحار الانوار، جلد۳۱، صفحۀ۵۹۳
[۵] علل الشرایع، جلد۱، صفحۀ۱۶۴
[۶] عیون اخبار الرضا علیهالسلام، جلد۱، صفحۀ۵۷
[۷] کمال الدین و تمام النعمه، جلد۱، صفحۀ۲۵۸
[۸] رجال کشّی، جلد۱، صفحۀ۴۲۴
[۹] المحاسن، جلد۱، صفحۀ۲۸۶