سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

ولادتِ نبی مکرم اسلام

میلاد نور؛ ستارہ چمکا اور محفل جگمگا اٹھی

ولادتِ باسعادتِ خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ اور حضرت امام جعفر صادق علیہ‌السلام کی پُرمسرت مناسبت پر حضرت حجت عجل‌اللہ‌تعالیٰ‌فرجہ‌الشریف اور تمام محبانِ اہلِ بیت علیہم‌السلام کی خدمت میں دل کی گہرائیوں سے تبریک و تہنیت پیش کرتے ہیں۔

ولادتِ نبی مکرم اسلام صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ

علمائے شیعہ کے قول کے مطابق، ۱۷ ربیع الاول بروز جمعہ طلوعِ فجر کے وقت مکۂ معظمہ میں سیدالانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی ولادتِ باسعادت ہوئی۔

آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی ولادتِ مبارکہ بادشاہ نوشیروان کے عہدِ حکومت میں ہوئی اور اسی سال اصحابِ فیل ہلاک ہوئے۔

آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کا نامِ مبارک محمد اور کنیت ابوالقاسم ہے۔ آپ کے والدِ گرامی کا نام حضرت عبداللہ اور والدۂ ماجدہ کا نام جناب  آمنہ بنت وہب ہے۔

آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی ولادتِ باسعادت کے وقت آپ کی پیشانیِ مبارک سے نور پھوٹ رہا تھا اور آپ کے وجودِ اطہر سے مشک کی خوشبو مہک رہی تھی۔

اس شب حجاز کی جانب سے ایک نور طلوع ہوا جو پوری دنیا میں پھیل گیا۔ بادشاہوں کے تخت الٹ گئے اور اس روز وہ سب گونگے ہوگئے، یہاں تک کہ کلام کرنے سے عاجز رہے۔

ولادتِ باسعادت کے وقت مقرب فرشتے اور انبیائے کرام علیہم‌السلام کی پاکیزہ ارواح حاضر ہوئیں۔

جنت کے خازن رضوان حوروں کے ہمراہ نازل ہوئے اور سونے، چاندی اور زمردِ جنت کے آبخورے اور طشت لے کر آئے۔

حضرت آمنہ کے لیے جنت کے مشروبات بھی لائے گئے جنہیں انہوں نے نوش فرمایا۔

ولادت کے بعد آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کو جنت کے چشموں کے پانی سے غسل دیا گیا اور فردوس کی خوشبوؤں سے معطر کیا گیا۔

ولادتِ حضرت کے معجزات

آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی ولادت کے روز دنیا میں جہاں کہیں بھی بت موجود تھا، وہ اوندھے منہ گر پڑا۔

ایوانِ کسریٰ کے چودہ کنگرے زمین بوس ہوگئے۔ ساوہ کی وہ جھیل جس کی پرستش کی جاتی تھی، خشک ہوگئی اور نمک زار میں تبدیل ہوگئی۔

ساوہ کی وادی، جہاں برسوں سے کسی نے پانی نہیں دیکھا تھا، وہاں پانی جاری ہوگیا۔ فارس کا آتش کدہ، جو ایک ہزار سال سے مسلسل روشن تھا، آپ کی ولادت کی شب بجھ گیا۔

کاہنوں کے علوم اور جادوگروں کے سحر باطل ہوگئے اور ایوانِ کسریٰ درمیان سے دو حصوں میں شگاف ہوگیا، جس کے آثار آج بھی نمایاں ہیں۔

آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی ولادت کے وقت آسمان سے یہ ندا سنائی دی:

«وَجَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ، إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا» اور حق آگیا اور باطل مٹ گیا، بےشک باطل مٹنے ہی والا ہے۔ (سورۂ اسراء، آیت ۸۱)

رسولِ اکرم صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی خصوصیات

آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے جسمِ اطہر پر کبھی مکھی نہیں بیٹھتی تھی۔ جب آپ کی آنکھیں خوابیدہ ہوتیں تو دل بیدار رہتا، آپ دیکھتے اور سنتے رہتے۔

آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ اپنے پیچھے کی جانب بھی اسی طرح دیکھتے تھے جیسے سامنے کی طرف دیکھتے تھے۔

آپ جس جانور پر سوار ہوتے، وہ کبھی بوڑھا اور لاغر نہیں ہوتا تھا۔ آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے پاس ایک خچر تھا جس کا نام یعفور تھا۔

جب آپ اسے کسی شخص کو حاضر کرنے کا حکم دیتے تو وہ اس شخص کے گھر کے دروازے پر جاتا، دروازہ کھٹکھٹاتا اور اشارے سے اسے حاضر کر دیتا۔

رسولِ اکرم صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کی ولادت کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ آپ مختون، ناف بریدہ اور خون و دیگر آلائشوں سے پاک و صاف پیدا ہوئے۔

اسی طرح آپ ولادت کے وقت سر کے بجائے پاؤں کی جانب سے دنیا میں تشریف لائے۔

ولادت کے وقت آپ کا رخِ انور کعبہ کی جانب تھا اور آپ سجدے میں گر گئے۔

پھر جب سجدے سے سر اٹھایا تو اپنے دستِ مبارک کو آسمان کی جانب بلند کیا اور اللہ کی وحدانیت اور اپنی رسالت کی گواہی دی۔

اس کے بعد آپ کے وجودِ اطہر سے ایسا نور پھوٹا جس سے مشرق و مغربِ عالم روشن ہوگیا۔

رسولِ اکرم صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے معجزات

رسولِ خدا صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے بےشمار معجزات میں سے چند یہ ہیں:

  • آپ کی دعا سے مردے زندہ ہوتے، نابینا بینا ہوجاتے اور بیمار شفا پاتے تھے۔
  • آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ جانوروں سے گفتگو فرماتے تھے۔
  • آپ تمام زبانوں سے واقف تھے اور ہر زبان میں گفتگو کرنے کی قدرت رکھتے تھے۔
  • مہرِ نبوت آپ کی پشتِ مبارک پر ثبت تھی اور اس کا نور سورج کی روشنی سے بھی زیادہ درخشاں تھا۔
  • آپ کی انگشت ہائے مبارک سے پانی جاری ہوتا اور اتنا پانی جاری ہوتا کہ ایک جماعت سیراب ہوجاتی۔
  • آپ کے دستِ مبارک میں کنکریاں تسبیح پڑھتی تھیں اور لوگ ان کی تسبیح کی آواز سنتے تھے۔
  • آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کا وجودِ مبارک دھوپ میں بھی سایہ نہیں ڈالتا تھا۔
  • جب آپ کسی کنویں میں اپنا لعابِ دہن ڈالتے تو اس میں برکت پیدا ہوجاتی اور پانی سے بھر جاتا۔ آپ کا لعابِ دہن کسی درد مند کے جسم پر لگایا جاتا تو اسے شفا حاصل ہوجاتی۔
  • آپ کا دستِ مبارک جس کھانے کو چھو لیتا، اس میں برکت ہوجاتی اور تھوڑا سا کھانا ایک بڑی جماعت کے لیے کافی ہوجاتا۔
  • جب آپ نرم زمین پر چلتے تو آپ کے قدموں کے نشان باقی نہ رہتے، لیکن جب سخت پتھر پر چلتے تو آپ کے قدمِ مبارک کا نشان اس پر ثبت ہوجاتا۔

ولادتِ امام صادق علیہ‌السلام

۱۷ ربیع الاول سنہ ۸۳ ہجری کو مدینۂ منورہ میں حضرت امام جعفر صادق علیہ‌السلام کی ولادتِ باسعادت ہوئی۔

آپ علیہ‌السلام کا نامِ مبارک جعفر، کنیتِ شریف ابوعبداللہ اور لقبِ نورانی صادق ہے۔ آپ کے والدِ بزرگوار امام محمد باقر علیہ‌السلام اور والدہ جناب امِّ فروہ علیہا السلام ہیں۔

امام صادق علیہ‌السلام اپنی والدۂ ماجدہ کے بارے میں فرماتے ہیں:

میری والدہ مؤمنہ، پرہیزگار اور نیکوکار خواتین میں سے تھیں، اور اللہ نیکوکاروں کو دوست رکھتا ہے۔

امام صادق علیہ‌السلام کے سات صاحبزادے اور تین صاحبزادیاں تھیں، جن کے نام یہ ہیں:

امام موسیٰ کاظم علیہ‌السلام، اسماعیل، عبداللہ، محمد دیباج، اسحاق، علی عریضی، عباس، امِّ فروہ، اسماء اور فاطمہ۔

آپ علیہ‌السلام کے ظاہر کے بارے میں بیان کیا گیا ہے کہ آپ کا درمیانہ قد، روشن چہرا اور سفید بدن تھا، ناک بلند و کشیدہ تھی، بال سیاہ اور گھنگریالے تھے اور آپ کے رخسار پر ایک سیاہ تل تھا۔

۱۷ ربیع الاول کے بابرکت دن کے اعمال

۱۷ ربیع الاول کا دن نہایت شریف اور بابرکت دن ہے۔ قدیم زمانے سے آلِ محمد صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کے صالحین اس دن کی حرمت و فضیلت کا لحاظ رکھتے آئے ہیں، اس کا حق ادا کرتے اور روزہ رکھتے تھے۔

جو شخص ۱۷ ربیع الاول کا روزہ رکھے، اللہ تعالیٰ اسے ایک سال کے روزے کا ثواب عطا فرماتا ہے۔

اس بابرکت دن صدقہ دینا، مشاہدِ مشرفہ کی زیارت کرنا، نیک اعمال بجا لانا اور اہلِ ایمان کو خوش کرنا مستحب ہے۔

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے