سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

شہادت حضرت محسن علیہ‌السلام

میر انیس علیہ الرحمہ نے اپنے مرثیے میں ان دردناک واقعات کو نہایت مؤثر انداز میں بیان کیا ہے۔ ان اشعار میں حضرت فاطمہ زہرا سلام‌اللہ‌علیہا کی مظلومیت اور حضرت محسن علیہ‌السلام کی شہادت کا غم نمایاں ہے۔

شہادت حضرت محسن علیہ‌السلام کا مرثیہ

یہ حفظ مراتب تھا کہ قرآں کو جلایا  ۔  بے دینوں نے حق مصحفِ ناطق کا مٹایا
کِس ظلم سے کِس جور سے زہرا کو ستایا  ۔  محروم رہیں باپ کا ورثہ بھی نہ پایا

جس خط پہ ہوئی مہر شہ جنّ و ملک کی
کی چھین کے پُرزے وہ سند باغِ فدک کی

بے اذن جہاں تھی نہ فرشتے کی رسائی  ۔  اُس گھر کی یہ عزّت کہ اُسے آگ لگائی
تھی حمل سے محسن کے محمد کی وہ جائی  ۔  پہلو پہ گرا در تو یہ فریاد مچائی

ہئے ہئے مجھے غم اور دیا باپ کے غم میں
بے جان ہوا محسنِ معصوم شکم میں

ہیہات نہ اس ظلم پہ بھی ہاتھ اُٹھایا  ۔  کوڑا بہ سِتم بازوئے زہرا پہ لگایا
مظلوم نے اک آہ کی ایسی کہ غش آیا  ۔  آرام لحد میں بھی محمد نے نہ پایا

رسّی تو ادھر بندھتی تھی گردن میں علی کی
مرقد میں اُدھر روح تڑپتی تھی نبی کی

میر انیس علیہ الرحمہ

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے