سب سے زیادہ تلاش کیا گیا:

وصیت سیّد لولاک صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ

شدید بیماری کے باوجود آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ حضرت فاطمہ زہرا سلام‌اللہ‌علیہا کے مستقبل کے مصائب سے غمگین تھے۔

جسمِ اطہر بیماری کی شدت اور ضعف سے نڈھال ہے، حتیٰ کہ اٹھنے بیٹھنے کی طاقت بھی باقی نہیں رہی۔ اس عالمِ ضعف میں بھی سیّدِ لولاک صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ کو حضرت فاطمہ زہرا سلام‌اللہ‌علیہا کی فکر ستا رہی ہے۔ اپنی بیماری کا غم نہیں، بلکہ جنابِ سیدہ سلام‌اللہ‌علیہا کے آنے والے مصائب کا احساس آنکھوں کو اشک بار کر رہا ہے۔ آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ اپنی پیاری بیٹی کو سینے سے لگا کر ان کے مستقبل کے مصائب پر گریہ فرماتے ہیں۔ آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے اس موقع پر قرآن اور اپنی عترتِ اطہار کو امت کے لیے دو عظیم امانتیں قرار دیا۔ آپ صلی‌اللہ‌علیہ‌وآلہ نے امت کو ان دونوں سے وابستہ رہنے کی وصیت فرمائی۔ میر انیس علیہ الرحمہ نے انہی دردناک لمحات اور اس عظیم وصیت کو اپنے پرسوز اشعار میں بیان کیا ہے۔

میر انیس علیہ‌الرحمہ کے پرسوز اشعار

جس وقت ہوا کفر و ضلالت سے جہاں پاک  ۔  اور دُور ہوا گلشنِ دیں سے خس و خاشاک
رونے کی ہے جا سینے میں ہوتا ہے جگر چاک  ۔  بیمار مدینے میں ہوئے سیّدِ لولاک

اک بار خزاں آگئی ہستی کے چمن میں
طاقت نہ رہی بیٹھنے اُٹھنے کی بدن میں

تھی شدتِ تپ دم بدم اور ضعف تھا طاری  ۔  تھے فاطمہ کے حال پہ اشک آنکھوں سے جاری
چھاتی سے لگا بیٹی کو با گریہ و زاری  ۔  فرماتے تھے میں تجھ پہ فدا اے مری پیاری

اُٹھنا مرا دنیا سے، ترے حق میں ستم ہے
دشمن تجھے دُکھ دیں گے، جو غم ہے تو یہ غم ہے

یہ کہتے تھے اور تھی مَرض الموت کی شدّت  ۔  تھی بسترِ آزار سے اُٹھنے کی نہ طاقت
فرمایا ہوئی گھر میں جو اصحاب کی کثرت  ۔  نزدیک ہے اب دارِ فنا سے مری رحلت

اندیشے کی جاگہ ہے یہ عبرت کا محل ہے
جو زندہ ہے اک دن اُسے درپیش اجل ہے

تم پاس ہوں مَیں چھوڑتا دو امرِ عظیم اب  ۔  قرآن ہے اور عترتِ اطہار مری سب
ناجی ہے وہ ان دونوں سے رکھے گا جو مطلب  ۔  جو ہوگا خلاف ان سے نہ بخشے گا اسے رب

ان میں سے ہر اک مصحفِ ایماں کا ورق ہے
تابع رہو ان کے، یہ رضا مندئ رب ہے

سُن سُن کے یہ کہنے لگے اصحابِ موافق  ۔  فرماتے ہیں وہ آپ جو ہے مرضئ خالق
کس پر نہیں روشن شرفِ مصحفِ ناطق  ۔  ان باتوں سے جل جل کے ہوئے خاک منافق

موزی تھے عداوت سے نہ باز آتے تھے ظالم
جوں مارِ سیہ طیش سے بل کھاتے تھے ظالم

میر انیس علیہ‌الرحمہ

مزید مواد

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے