حرم مقدس امیرالمومنین علیہ السلام کے متولی نے نجف اشرف میں کینسر کے علاج کے مرکز کے آپریشن تھیٹر اور دیگر بنیادی ڈھانچے کی تعمیرِ نو کے منصوبے کی ذمہ داری قبول کرنے اور اس کی حمایت کرنے کا اعلان کیا۔
یہ بات حرم مقدس امیرالمومنین علیہ السلام کے متولی سید عیسیٰ الخَرسان کی نجف اشرف کینسر سینٹر کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران سامنے آئی۔ وفد کی سربراہی ڈاکٹر حیدر الشبلی کر رہے تھے۔ اس ملاقات میں حرم مقدس امیرالمومنین علیہ السلام سے وابستہ رسول اعظم میڈیکل سینٹر کے سربراہ بھی موجود تھے۔
حرم مقدس امیرالمومنین علیہ السلام کے متولی نے اپنے خطاب میں ڈاکٹر الشبلی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اس مرکز کے ماہر طبی عملے کی جانب سے مریضوں کے علاج اور نگہداشت میں ادا کیے جانے والے اہم کردار کو سراہا۔ انہوں نے انسانی خدمت کے اس کردار کو جاری رکھنے اور اس مرکز کے لیے حرم مقدس کی جانب سے تعاون و حمایت کا سلسلہ برقرار رکھنے پر بھی زور دیا۔
انہوں نے مزید کہا:
’’حرم مقدس امیرالمومنین علیہ السلام مرکز کے اہم شعبہ جات، بالخصوص آپریشن تھیٹر، کی تعمیرِ نو اور بہتری کے ذریعے اس مرکز کی حمایت اور معاونت جاری رکھے گا۔‘‘
رسول اعظم میڈیکل سینٹر کے سربراہ جواد اسماعیلی نے کہا:
’’حرم مقدس امیرالمومنین علیہ السلام کے متولی کی ہدایت پر حرم کے ماہر انجینئرنگ اور تعمیراتی عملے مرکز کے آپریشن تھیٹر کی تعمیرِ نو اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کی ذمہ داری سنبھالیں گے۔ ایک خصوصی کمیٹی موقع پر موجود رہ کر تعمیرِ نو کے کام کی نگرانی کرے گی۔ اس کے علاوہ مرکز کی انتظامیہ کی جانب سے پیش کی گئی بعض ضروریات کا بھی جائزہ لے کر انہیں درج کیا جائے گا، تاکہ ان کی تکمیل کے لیے ضروری اقدامات کیے جا سکیں۔‘‘
ڈاکٹر الشبلی نے ملاقات کے بعد کہا:
’’یہ حرم مقدس امیرالمومنین علیہ السلام کے متولی کے ساتھ ہماری دوسری ملاقات ہے۔ اس ملاقات میں ہم نے شعبۂ صحت کی صورتِ حال اور نجف اشرف کے کینسر کے علاج کے مرکز کو درپیش موجودہ بحران پر تبادلۂ خیال کیا۔ یہ بھی طے پایا ہے کہ حرم مقدس امیرالمومنین علیہ السلام کا ایک وفد مرکز کا دورہ کرے گا اور اس کی ضروریات پوری کرنے کے لیے اقدامات کرے گا۔‘‘
انہوں نے اختتام پر حرم مقدس امیرالمومنین علیہ السلام کے متولی کی جانب سے اس مرکز، طبی عملے، بالخصوص زیرِ علاج مریضوں، اور نجف اشرف کے معاشرے کے دیگر طبقات کے لیے مسلسل اور پدرانہ حمایت و تعاون پر شکریہ ادا کیا۔

