اصبغ بن نباتہ روایت کرتے ہیں:
ایک دن میں امیرالمؤمنین علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا کہ عبداللہ بن کوّاء آیا اور اس نے عرض کی:
"اے امیرالمؤمنین! مجھے بتائیے کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان:
«وَ عَلَى الْأَعْرَافِ رِجَالٌ»
(اور اعراف پر کچھ لوگ ہوں گے)
سے کیا مراد ہے؟ یہ اہلِ اعراف کون ہیں؟”
امیرالمؤمنین علیہ السلام نے جواب میں فرمایا:
"وائے ہو تجھ پر، اے ابنِ کوّاء! ہم ہی وہ لوگ ہیں جو روزِ قیامت اعراف پر، یعنی جنت و جہنم کے درمیان ایک بلند مقام پر، ہم کھڑے ہوں گے۔ نہ ہم جنت میں داخل ہوں گے اور نہ جہنم میں، یہاں تک کہ تمام لوگ حساب و کتاب کے مراحل سے گزر جائیں۔ پھر ہم ہر اس شخص کو پہچان لیں گے جو ہم سے محبت رکھتا ہوگا اور ہماری نصرت کرتا رہا ہوگا؛ ہم اسے اس کے چہرے کی نشانیوں سے پہچانیں گے اور اپنے ہاتھوں سے اسے جنت میں داخل کریں گے۔ اور جو ہم سے دشمنی رکھتا اور ہمیں خوار کرنے کی کوشش کرتا رہا ہوگا، ہم اسے بھی اس کے چہرے سے پہچان لیں گے اور اسے جہنم کی طرف روانہ کر دیں گے۔ یہی اس آیت کا مفہوم ہے جس کے بارے میں تم نے سوال کیا۔”
پیغامِ حدیث
اہلِ اعراف سے مراد امیرالمؤمنین علیہ السلام اور ائمۂ معصومین علیہم السلام کی مقدس ہستیاں ہیں۔
قیامت کے دن مؤمن اور کافر کی پہچان، اہلِ بیت علیہم السلام کی معرفت اور ولایت سے وابستہ ہوگی۔
جو شخص امامت و ولایتِ اہلِ بیت علیہم السلام پر ایمان رکھے اور ان کی نصرت کرے، وہ اہلِ جنت ہے، اور جو ان سے دشمنی کرے اس کا شمار اہلِ جہنم میں ہوگا۔
یہ حدیث اس حقیقت کی مضبوط دلیل ہے کہ آخرت میں سعادت و شقاوت کا معیار ولایتِ اہلِ بیت علیہم السلام ہے۔
مآخذ
شواہد التنزیل لقواعد التفضیل، حاکم حسکانی ج۱، ص۲۶۳