رسولِ اکرم صلیاللہعلیہوآلہ اور امیرالمؤمنین علی علیہالسلام کی مساجد سے انسیت صرف عبادت تک محدود نہیں تھی بلکہ یہ انسیت معاشرتی اور سیاسی حیثیت بھی رکھتی تھی، باوجود اس کے کہ خوارج اور معاویہ کے پیروکاروں کی طرف سے امیرالمؤمنین علیہالسلام کی جان کو سخت خطرات لاحق تھے، آپ رمضان کے ایام میں بغیر کسی محافظ کے مسجد میں تشریف لے جاتے،اسی کے پیش نظر خوارج نے آپ کو مسجد میں شہید کرنے کی سازش رچی۔[۱]
رمضان میں آپ راستے میں لوگوں کو صدا دیتے: ’’الصلاة، الصلاة‘‘ اور انہیں مسجدوں میں حاضر ہونے کی دعوت دیتے، آپ اس مقدس مہینے میں جامع مسجد اور دیگر مساجد کا دورہ فرماتے تھے۔[۲]،[۳]
ان دوروں میں آپ نے مساجد کی چراغانی کرنے، ان میں قرآن کی تلاوت کرنے جیسی نیک سنتوں کو صرف پسند فرماتے تھے۔[۴]
مذکورہ بالا نیک سنتوں کی تصدیق فرمانے کے ساتھ ساتھ آپ مساجد میں وضو اور طہارت کے لیے جگہ مخصوص کرنے اور عورتوں اور بچوں کی سہولتوں کا انتظام کرنے پر بھی تاکید فرماتے تھے۔[۵]،[۶]،[۷]
روایت میں آیا ہے کہ عرفجہ ثقفی نامی صحابی کو آپ نے ماہِ رمضان میں عورتوں کی نماز کے لیے امام جماعت مقرر فرمایا۔[۸]
معاشرتی حقوق میں مذہبی علامتوں کا تحفظ
ائمہ اطہار علیہمالسلام کی سیرت میں ان ایام اور عبادتی موسموں کے تقدس کا پاس رکھنے کی متعدد مثالیں ملتی ہیں۔
امیرالمؤمنین علیہالسلام نے روایات میں یہاں تک فرمایا کہ رمضان میں کھانے پینے سے پرہیز نہ صرف روزہ دار پر لازم ہے بلکہ وہ مسافر جو بعد از زوال اپنے وطن لوٹ آئے اور وہ خواتین جو شرعی عذر کی بنا پر روزہ نہ رکھ سکیں، ان کے لیے بھی رمضان میں کھانے پینے سے اجتناب بہتر ہے، تاکہ اس مقدس مہینے کا تقد پامال نہ ہو۔[۹]،[۱۰]
تقدس رمضان کے تحفظ کے سلسلے میں امیرالمؤمنین علیہالسلام کا ایک نمایاں اقدام ان لوگوں کی سزا میں اضافہ تھا جو اس مہینے کی بے حرمتی کے مرتکب ہوتے۔
جس کی ایک واضح مثال قیس بن عمرو حارثی ہیں جو نجاشی کے لقب سے مشہور تھا، وہ کوفہ کا معروف شاعر اور صفین میں امیرالمؤمنین علیہالسلام کا سپاہی تھا، اپنی شاعرانہ مہارت اور قبیلوی شرافت کی وجہ سے عراق و شام کی ادبی و سماجی رقابت میں اہم مقام رکھتے تھے اور کوفہ میں اس کی موجودگی کو غنیمت سمجھا جاتا تھا۔[۱۱]
لیکن جب نجاشی نے رمضان میں کوفہ کے اطراف میں شراب نوشی کی، تو امیرالمؤمنین علیہالسلام نے نہ اس پر صرف شرعی حد جاری کی بلکہ رمضان کی حرمت شکنی پر بیس کوڑے مزید لگانے کا حکم دیا۔[۱۲]
اس سخت سزا کی وجہ سے وہ معاویہ کے لشکر میں شامل ہوگیا اور امیرالمؤمنین علیہالسلام نیز کوفہ و عراق کے خلاف ہجو گوئی کرنے لگا۔[۱۳]
جب نجاشی نے حضرت سے پوچھا کہ اس کی سزا میں اضافہ کیوں کیا گیا، تو آپ نے نہایت رقت انگیز اور عبرت آموز کلمات فرمائے:
اس لیے کہ تو نے خدا کے مقابلے میں جرأت دکھائی اور رمضان کے تقدس کو پامال کیا، حالانکہ ہمارے بچے تک روزے دار ہیں اور تو رمضان کے تقدس کا پاس نہیں رکھتا۔[۱۴]
مآخذ
[۱] ابنجوزی، المنتظم فی تاریخ الامم و الملوک، تحقیق محمد عبدالقادر عطا و مصطفی عبدالقادر عطا، بیروت : دارالکتب العلمیه، ١۴١٢ه. ق، ج ۵، ص ١٧٨
[۲] بلاذری، پیشین، ج ٢، ص ۴٩۵
[۳] ابناثیر، اسد الغابه، بیروت: دارالفکر، ١۴٠٩ه. ق، ج ٣، ص ۶۶٩
[۴] همان؛ ابنجوزی، پیشین، ج ۴، ص ١٨٠
[۵] ابناثیر، اسد الغابه، بیروت: دارالفکر، ١۴٠٩ه. ق، ج ٣، ص ۶۶٩
[۶] ابنجوزی، پیشین، ج ۴، ص ١٨٠
[۷] قاضی نعمان، پیشین، ج ١، ص ١۴٩؛ مجلسی، پیشین، ج ٨٠، ص ٣٨١
[۸] عبدالرزاق صنعانی، المصنف، تحقیق حبیب الرحمن الاعظمی، بیجا: منشورات المجلس العلمی، بیتا، ج ٣، ص ١۵٢؛ بیهقی، السنن الکبری، بیروت: دارالفکر، بیتا، ج ٢، ص ۴٩۴
[۹] فضلالله راوندی، النوادر، تحقیق سعیدرضا علی عسکری، قم: مؤسسۀ دارالحدیث الثقافیه، بیتا، ص ١٨١
[۱۰] محمد بن اشعث کوفی، الجعفریات، تصحیح محمد صادقی اردستانی، قم: مؤسسه الثقافه الاسلامیه لکوشانپور، ١٣٧۵، ص ١٠۶
[۱۱] ابواسحاق ابراهیم بن محمد ثقفی کوفی، الغارات، تحقیق جلال الدین حسینی ارموی، تهران : انجمن آثار ملی، ١٣۵٣، ج ٢، ص ٩٠١ – ٩٠٣
[۱۲] همان، ص ٩٠١
[۱۳] همان، ص ٩٠٢
[۱۴] همان، ص ٩٠٣
