شبستان حضرت فاطمہ زہرا سلاماللہعلیہا کا تعارف
یہ عظیم الشان منصوبہ دو اہم چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے بنایا گیا تھا:
- ایک تو حرم مقدس امیرالمومنین علیہالسلام کی توسیع جس کی تعمیر و مرمت صدیوں سے شیخ بہائی وغیرہ جیسے ایرانی دانشوروں کے ہاتھوں ہوئی تھی۔
- دوسرا پیغمبر اکرم صلیاللهعلیہوآلہ کی چہیتی بیٹی حضرت فاطمہ زہرا سلاماللہعلیہا کے نام پر ایک لازوال یادگار قائم کرنا۔
شبستان کی تعمیر
اس عظیم تعمیری منصوبے کا پہلا قدم بہترین جگہ کا انتخاب تھا۔ کئی ماہ کی تحقیق کے بعد حرم مقدس کے مغربی جانب، رواقِ ابوطالب علیہالسلام اور مقامِ امام سجاد علیہالسلام کے درمیان واقع جگہ کا انتخاب کیا گیا۔ اس کے بعد تعمیراتی کام کا آغاز ہوا۔


دیواروں کو مضبوط بنانے کے لیے ۲۵ میٹر اونچے تقریباً ایک ہزار ستون بنائے گئے۔ ۱۵۰ میٹر چوڑی اور ۴۰۰ میٹر لمبی زمین سے ۱۷ میٹر گہرائی تک مٹی نکالی گئی۔ سطحی پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے اور زمین کے کھسکنے سے روکنے کے لیے مضبوط دیواریں بھی تعمیر کی گئیں۔ یہ سب کام ایرانی انجینئروں نے انجام دیا۔ اسی طرح واٹر پروفنگ کا اہم مرحلہ ایرانی انجینئروں نے انتہائی مہارت سے انجام دیا۔ استعمال ہونے والا کنکریٹ بھی ایرانی انجینئروں کی ایک نئی اور مؤثر ایجاد تھی۔

حرم مقدس کے مرکزی گنبد کی کم اونچائی کے باعث، زائرین کے داخلے کے فوراً بعد گنبد نظر آئے۔ ایرانی ماہرینِ تعمیرات نے اس منصوبے کے لیے زیرِ زمین تین اور سطحِ زمین پر ایک منزل پر مشتمل ڈیزائن تیار کیا۔ یہ ایک نہایت پیچیدہ اور مشکل کام تھا، تاہم ماہرین اسے کامیابی سے مکمل کرنے میں کامیاب رہے۔ اس وسیع منصوبے کی سہولیات کو شور شرابے کی مشکل سے بچانے کے لیے ۵۰۰ میٹر دور بنایا گیا ہے۔ جو ہوا کی گردش، ٹھنڈک اور گرمی کو ایک لمبی سرنگ کے ذریعے صحن تک پہنچاتا ہے۔

حضرت فاطمہ زہرا سلاماللہعلیہا کے شبستان کا نقشہ اسلامی و ایرانی فنِ تعمیر سے ماخوذ ہے۔ اسے ایران کی شہید بہشتی یونیورسٹی کے انجینئروں کی ایک ٹیم نے تیار کیا ہے۔ یہاں آپ اس صحن میں ایرانی-اسلامی فنِ تعمیر کے خوبصورت نمونے دیکھ سکتے ہیں۔ یہ صحن زیارتی اور غیر زیارتی حصوں پر مشتمل ہے تاکہ حرم مقدس امیرالمؤمنین علیہالسلام کی تمام ضروریات پوری ہو سکیں۔
الف) زیارتی حصہ
زیارتی حصہ ۲۹ ہزار مربع میٹر کے رقبے پر تعمیر کیا گیا ہے۔ جس میں ۴ مرکزی منزلیں اور تین نیم منزلیں شامل ہیں۔ اس کا کل رقبہ ۸۵ ہزار مربع میٹر ہے جس میں فی گھنٹہ ایک لاکھ سے زائد زائرین کی گنجائش ہے۔
اس میں درج ذیل سہولیات ہیں:
- اس منصوبے میں تین منزلہ شبستان اور ایک کھلا صحن شامل ہے۔ اس کے علاوہ دینی مدرسہ، طبی سہولیات، مکینیکل خدمات، گودام، بیت الخلاء اور دیگر خدماتی مراکز بھی قائم کیے گئے ہیں۔
- اس شبستان کی اندرونی سجاوٹ میں ۱۲۰۰ سے زیادہ ستونوں کی سنگ کاری قابل ذکر ہے۔
- ہر منزل کے شبستان کو ایک مخصوص قسم کے پتھر سے سجایا گیا ہے۔ اس میں ۸۰۰ سے زیادہ اندرونی گنبد ہیں۔
ب) غیر زیارتی حصہ
غیر زیارتی حصے میں عجائب گھر، کتب خانہ، بیت الخلاء ، وضو خانہ، انتظامی عمارتیں، مہمان خانہ، ریسٹورنٹ اور مخصوص پارکنگ شامل ہیں۔

- انتظامی اور معلوماتی مرکز
انتظامی اور معلوماتی مرکز ۴۴۰۰ مربع میٹر رقبے پر قائم کیا گیا ہے۔ جس کا مجموعی تعمیر شدہ رقبہ ۱۵ ہزار مربع میٹر ہے۔ اس مرکز میں انتظامی، فنی و انجینئرنگ شعبوں کے علاوہ کانفرنس ہال اور مختلف خدماتی ادارے بھی شامل ہیں۔
- کتب خانہ
کتب خانہ تین ہزار ایک سو مربع میٹر رقبے پر دو ہزار مربع میٹر تعمیر شدہ رقبے کے ساتھ چھ منزلوں پر مشتمل ہے جس میں دو لاکھ پچاس ہزار سے زائد کتابیں ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہے۔

- مہمان خانہ
مہمان خانہ اور حرم مقدس کا ریسٹورنٹ چار ہزار چار سو مربع میٹر رقبے پر چودہ ہزار پانچ سو مربع میٹر تعمیر شدہ رقبے کے ساتھ قائم ہے جو ہر کھانے کے وقت دس ہزار گھانے تیار کر سکتا ہے۔
- بیت الخلاء اور وضو خانہ
بیت الخلاء اور وضو خانہ پندرہ ہزار مربع میٹر رقبے پر تعمیر کیا گیا ہے جس میں نو سو بیت الخلاء کی سہولیات موجود ہیں، موجودہ صحن کے ارد گرد کی دیگر سہولیات کے ساتھ اس میں ایک لاکھ چالیس ہزار سے زائد زائرین کی خدمت کی گنجائش ہے۔

- مخصوص پارکنگ
مخصوص پارکنگ دس ہزار مربع میٹر رقبے پر تعمیر کی گئی ہے۔
- عجائب گھر
عجائب گھر تین ہزار ایک سو مربع میٹر رقبے پر اٹھارہ ہزار مربع میٹر تعمیر شدہ رقبے کے ساتھ چھ منزلوں پر مشتمل ہے۔

حضرت زہرا سلاماللہعلیہا کے صحن میں روشنیوں کے دلکش نمونے آپ موجودہ لنک کے ذریعے دیکھ سکتے ہیں۔


